اسلام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اسلام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی خوشی ہوئی۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو سے فارغ ہوئے تو فوراً ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جب ان کے پاس سے چلے تو مکہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے آپؐ سے زیادہ کسی کو خوشی نہ تھی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 27 اور 28) ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک گراں مایہ خزانہ تھے، جسے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محفوظ کر رکھا تھا۔ قریشیوں میں آپ سب سے زیادہ محبوب تھے۔ وہ پاکیزہ بلند اخلاق جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیے تھے اس کی وجہ سے لوگ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے اور آپ کے گرویدہ ہو رہے تھے۔ بلند کردار اور اچھا اخلاق وہ عنصر ہے جو لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے لیے کافی ہے۔
آپ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ارحم امتی بامتی ابوبکر (صحیح الجامع الصغیر للالبانی رحمہ اللہ 2/8)
’’میری امت میں، میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں۔‘‘
عربوں کے یہاں علم انساب وعلم تاریخ اہم ترین علوم سمجھے جاتے ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دونوں علوم کے ماہر تھے اور قریش کو اس کا اعتراف تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں علم انساب اور علم تاریخ کے سب سے بڑے عالم ہیں، اس لیے قوم کا مہذب اور بصیرت مند آپ کی محفلوں میں شرکت کا اہتمام کرتا تھا کہ آپ کے وسیع علم سے مستفید ہو جو دوسروں کے پاس نہیں مل سکتا تھا۔ سمجھدار اور ذہین نوجوان ہمیشہ آپ کی محفلوں میں شریک ہوتے اور آپ کی فکر وثقافت سے مستفید ہوتے۔ یہ بھی آپ کی عظمت کا ایک پہلو ہے، اسی طرح تاجر اور مالدار لوگ بھی آپ کی محفل میں شرکت کا اہتمام کرتے، کیونکہ آپ مکہ کے مشہور ترین تاجر تھے اگرچہ پہلے نمبر کے نہ سہی۔ دیگر لوگ بھی اپنی ضروریات اور مصالح کے پیش نظر آپ کے پاس حاضری دیتے تھے۔ آپ کے بلند اور پاکیزہ اخلاق کے پیش نظر عام لوگ بھی آپ کی خدمت میں حاضری دیتے۔ آپ بڑے مہمان نواز تھے۔ مہمان کی آمد پر بے حد خوش ہوتے، ان کی تکریم کرتے، چنانچہ ہر طبقے کے لوگ آپ کی جامع شخصیت سے اپنا مقصود پاتے تھے، کوئی محروم نہ رہتا تھا۔
(التربیۃ القیادیّۃ للغضبان: جلد، 1 صفحہ، 115)
آپ کے پاس معاشرہ میں علمی، ادبی اور معاشرتی سرمایہ بھرپور مقدار میں تھا، اس لیے جب آپ اسلام کی دعوت کے لیے اٹھے تو آپ کی دعوت پر لبیک کہنے والے افضل ترین اور چنندہ لوگ تھے۔
(التربیۃ القیادیۃ للغضبان : جلد، 1 صفحہ، 116)

صفحہ 3 از 3