اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی…

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے تو اس سیدہ کا قاتل کیونکر رضی اللہ عنہ رہ سکتا ہے۔ مہربانی کر کے تاریخِ اسلام: جلد، 2 صفحہ، 44 نجیب آبادی ملاحظہ کر کے فتویٰ صادر فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

جواب: بطورِ الزام پہلی عرض یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والے کو آپ جنمی مان چکے ہیں اس سیدہ ام المؤمنینؓ زوجتہ الرسولﷺ سے جنگ کرنے والے بیٹوں پر فتویٰ بھی آپ بتا دیں ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی آپ کی جلالتِ شان کے پیشِ نظر آپ کا تذکرہ یہاں مناسب ہے۔

حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا مقام:

 واقعی سیدہ ام المؤمنینؓ کو مومنہ نہ ماننے والا یا آپ کی شان میں گستاخی کرنے والا ملعون اور جہنمی ہے۔ قرآنِ پاک کا ارشاد ہے:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌ الخ

(سورۃ الاحزاب: آیت 6)

ترجمہ: ایمان والوں کے لیے یہ نبیﷺ‎ ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔

شیعہ مولوی مقبول صاحب نے تفسیرِ قمی کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لفظ بھی نازل ہوئے تھے و ھواب لھم اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ نبی دین و دنیا میں امت والوں کا باپ ہے دین میں تو اس طرح کہ ہر نبی اس جہت سے اپنی کل امت کا باپ ہوتا ہے کہ دائمی زندگی کی جڑ اس کی ذات ہے اور اسی سے مؤمنین آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ 

(ترجمہ و حاشیہ مقبول: پارہ، 21 صفحہ، 105)

 اس سے قطعاً معلوم ہوا کہ زوجة الرسول حضرت عائشہ صدیقہؓ و حضرت حفصہؓ ام المؤمنينؓ ہیں جیسے پیغمبرِ اکرمﷺ روحانی اور ایمانی باپ ہیں اسی طرح امہاتُ المؤمنینؓ روحانی اور ایمانی مائیں ہیں یہ نسبی رشتہ نہیں کیونکہ پیغمبرﷺ نے مؤمنوں کے گھر میں خود شادیاں کیں اور امہاتُ المومنینؓ کا امت سے پردہ بھی کرایا اب جو شخص امہات المومنینؓ کو مؤمن نہ مانے وہ دراصل ایمانی رشتے کا منکر اور قرآن کا منکر ہے عرفِ عام میں ایسا شخص ایمان سے محروم ماں پر الزام لگانے کی وجہ حرامی اور مؤمن برادری سے خارج سمجھا جائے گا۔

اسی طرح حضرت عائشہؓ وغیره ازواجِ مطہرات اہلِ بیتِ نبویﷺ بھی ہیں ارشاد ہے:

وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 33)

وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞

(سورۃ الاحزاب: آیت 34)

ترجمہ: اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری کرو اے نبیﷺ کے اہلِ بیت! گھر والو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔

(ترجمہ مقبول: صفحہ، 505)

 یہ سب خطابات ازواجِ مطہرات کو ہیں اور بنصِ قرآنی وہ اہلِ بیتِ نبویﷺ ہیی اس کا منکر قرآن کا ہی منکر ہوگا جیسے حضرت سارہ علیہا السلام زوجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اہلِ بیت کہلوایا ہے ارشاد ربانی ہے:

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ۞

(سورۃ ہود: آیت 73)

ترجمہ: فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق بڑی شان والا ہے۔ (ترجمہ مقبول)

 گویا ہم نماز کے درود میں رحمت اور برکت کی جو دعا آلِ ابراہیم علیہ السلام پر پڑھتے اور انک حمید مجید سے اس پر مہر لگاتے ہیں وہ اسی آیتِ کریمہ سے ماخوذ ہے۔ 

جیسے یہاں مؤنث کو مذکر کے صیغوں سے خطاب کیا گیا اسی طرح اوپر والی آیت میں لفظ اہل کی رعایت کے لیے مذکر کے صیغے ارشاد فرمائے گئے اور یہ کلام عرب میں پایا جاتا ہے حماسی بیوی سے خطاب کر کے کہتا ہے:

فلا تحسبى انى تخشعت بعدكم شئی ولا انی من الموت افوق۔

شیعہ کی معتبر تفسیر مجمع البیان: پارہ، 22 سے ازواجِ مطہرات کی افضلیت اور اہلِ بیتِ نبویﷺ ہونا ملاحظہ فرمائیں:

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیلت دنیا کی تمام عورتوں پر یہ فرما کر ظاہر فرمائی اے نبی کی بیویوں تم اور کسی بھی عورت کی طرح نہیں ہو حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں اس کا معنیٰ یہ ہے کہ تمہارا مرتبہ میرے ہاں اور نیک عورتوں جتنا نہیں ہے بلکہ تم میرے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو تمہاری توجہ الی اللہ زیادہ رحمت دلانے والی ہے اور ثواب تمہارا سب سے بڑا ہے کیونکہ تمہارا رسول اللہﷺ سے رشتہ ہے

اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ الایۃ۔

(سورۃ الاحزاب: آیت 33)  

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رجس سے شیطان کا کام اور خدا کا ناپسندیدہ کام مراد ہے بیت میں لام تعریفِ خصوصیت والا ہے یعنی نبوت اور رسالت کا گھر اور عرب رہائش گاہ کو گھر کہتے ہیں اس لیے انساب کو بھی بیوت کہا جاتا ہے تمام امت کا اتفاق ہے کہ اہلِ بیت سے مراد ہمارے نبیﷺ کے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم ہیں پھر تشریح میں اختلاف ہے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد، عکرمہ وغیرہ کہتے ہیں ازواجِ نبیﷺ مراد ہیں کیونکہ آیت کا آغاز انہی سے مخاطب ہے شیعہ کے ہاں آلِ عبا ہیں۔ 

بلاشبہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی حضورﷺ نے اہلِ بیت قرار دے کر اس آیت میں مندرج فرمایا ہے لیکن دعا کی بدولت یہ شمول تبعی اور ضمنی ہے نزولِ خاص ازواجِ مطہرات کے حق میں ہوا ہے جیسے سیدنا ابنِ عباسؓ مفسر اہلِ بیتؓ اس پر مباہلہ کا چلنج دیا کرتے تھے۔ (تفسیر ماثورہ)

صفحہ 1 از 4