فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 13

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:بارھویں دلیل:’’ فضائل کا اثبات ہے۔فضائل کی تین قسمیں ہیں :

۱۔ نفسانی ۲۔ بدنی ۳۔ اور خارجی

پہلی دو اقسام کو اگر تسلیم کیا جائے تویہ یا خود اس انسان کی ذات کے ساتھ متعلق ہوتی ہیں یا پھر کسی دوسرے کے ساتھ ۔ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ ان فضائل سہ گانہ کے جامع تھے۔چنانچہ آپ کے وہ نفسانی فضائل جو آپ کی ذات سے متعلق تھے؛ جیسے: آپ کا زہد اور علم؛ کرم اور حلم اعداد وشمار سے زیادہ اور مشہورہیں ۔ اوروہ نفسانی فضائل جو دوسروں سے متعلق ہیں ان کا بھی یہی عالم ہے؛ مثلاً آپ سے علم کا ظاہر ہونا؛اوردوسرے لوگوں کا آپ سے فتوی پوچھنا‘وغیرہ۔ اور ایسے ہی آپ کے بدنی فضائل ہیں ؛ جیسا کہ عبادت و شجاعت اور صدقہ[وخیرات] کے اوصاف پائے جاتے تھے۔ خارجی اوصاف یعنی حسب و نسب میں آپ عدیم المثال تھے ۔ سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی دخترنیک اختر جوسب جہانوں کی خواتین کی سردار ہیں آپ کے نکاح میں تھیں ۔ خطیب خوارزمی نے اپنی کتاب’’السنۃ‘‘ میں اپنی سند سے حضرت جابر سے روایت کیا ہے ؛آپ فرماتے ہیں : ’’جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کا نکاح ساتوں آسمانوں کے اوپر پڑھا دیا تھا۔ خطبہ جبریل نے پڑھا۔ میکائیل و اسرافیل دونوں دیگر ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ گواہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے درخت طُوبیٰ کو حکم دیا کہ اس پر جتنے جواہرات اور موتی ہیں وہ سب نچھاور کردے۔ چنانچہ طوبی نے حکم کی تعمیل کی۔پھر اللہ تعالیٰ حور العین کی طرف وحی کی کہ انہیں اٹھالیں ‘پس انہوں نے وہ جواہرات قیامت تک کے لیے اٹھا لیے۔‘‘[اس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں ذکر کی ہیں ]۔

آپ کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ترین لوگ تھے۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

(( رأیت النبِی صلی اللّٰہ علیہِ وسلم أخذ بِیدِ الحسینِ بنِ علِی، فقال: أیہا الناس ہذا الحسین ، ألا فاعرِفوہ وفضِّلوہ، فواللّٰہِ لجدہ أکرم علی اللّٰہِ مِن جدِ یوسف بنِ یعقوب ، ہذا الحسین جدہ فِی الجنۃِ، وجدتہ فِی الجنۃ، وأمہ فِی الجنۃِ، وأبوہ فِی الجنۃِ، وخالہ فِی الجنۃِ وخالتہ فِی الجنۃِ، وعمہ فِی الجنۃِ، وعمتہ فِی الجنۃِ، و أخوہ فِی الجنۃِ ، وہو فِی الجنۃِ، ومحِبوہ فِی الجنۃِ، ومحِبُّو محِبِیہِم فِی الجنۃ)) ۔

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اورفرمایا:اے لوگو ! یہ حسین ہے۔ آگاہ ہوجاؤ؛ اسے پہچانواور اس کی فضیلت کو سمجھو۔اللہ کی قسم!اس کا نانا اللہ کے ہاں یوسف بن یعقوب علیہماالسلام کے دادا سے زیادہ عزت والا ہے۔ یہ حسین ہے؛اس کا دادا جنت میں اس کی دادی جنت میں اس کی ماں جنت میں اور اس کا باپ جنت میں اس کے ماموں جنت میں اس کی خالائیں جنت میں ۔اس کے چچا اورپھوپھیاں جنت میں ۔اس کا بھائی جنت میں اوروہ خود اور اس سے محبت کرنے والے اور ان کے محبین سے محبت کرنے والے سبھی جنت میں ہوں گے۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

(( بِت عِند النبِیِ صلی اللّٰہ علیہِ وسلم ذات لیلۃ، فرأیت عِندہ شخصاً، فقال لِی: ہل رأیت ؟ قلت: نعم۔ قال: ہذا ملک لم ینزِل إِلی منذ بعِثت، أتانِی مِن اللّٰہِ، فبشرنِی أن الحسن والحسین سیِدا شبابِ أہلِ الجنۃِ ))۔

’’میں نے ایک رات رسول اللہ کے پاس گزاری۔ میں نے آپ کے پاس ایک شخص کو دیکھا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا؟ میں نے عرض کیا :ہاں ۔ آپ نے فرمایا:یہ فرشتہ تھا۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے یہ فرشتہ نازل نہیں ہوا آج یہ اللہ کی طرف سے میرے پاس آیا ہے اور مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ:

حسن اورحسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔اس مسئلہ میں روایات بہت زیادہ ہیں ۔ محمد بن حنفیہ بڑے عالم و فاضل تھے۔یہاں تک کہ ایک گروہ نے تو آپ کے امام ہونے کا دعوی بھی کیا تھا۔‘‘ 

[جواب]:ہم کہتے ہیں : ’’جو امور ایمان و تقویٰ سے خارج ہوں صرف ان کی وجہ سے کسی کی عظمت و فضیلت عند اللہ ثابت نہیں ہوتی۔ان سے فضیلت عند اللہ اس وقت حاصل ہوتی ہے جب یہ امور نیکی او رتقوی کے امور پر معاون اور مدد گار ہوں ۔اس لیے کہ یہ چیزیں وسائل کی حیثیت رکھتی ہیں مقاصد کی نہیں ۔جیسا کہ مال اور مقام و مرتبہ؛ قوت اور صحت اور اس طرح کے دیگر امور۔اس لیے کہ ان امور سے انسان کواللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت تک کوئی فضیلت و کرامت حاصل نہیں ہوتی جب تک یہ امورحسب ضرورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر معاون ومددگار نہ ہوں ۔فرمان ِ الٰہی ہے: 

﴿ٰٓیاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُم﴾ [الحجرات۱۳]

’’اے لوگو! بیشک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔‘‘

صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب دریافت کیا گیا کہ سب لوگوں سے زیادہ باعزت کون ہے ؟

توآپ نے فرمایا:’’جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔‘‘

عرض کیاگیا:ہم اس بارے میں سوال نہیں کررہے ۔

فرمایا: ’’ پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ یعقوب بن نبی اللہ اسحق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام ۔‘‘

عرض کیا : ہم آپ سے اس کے بارے میں بھی سوال نہیں کررہے

تو فرمایا: کیا تم عرب قبائل کے بارے میں مجھ سے سوال کرتے ہو ؟ ان میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھا وہ اسلام میں بھی بہتر ہے اگروہ دین اسلام کی سمجھ حاصل کرلے۔‘‘[البخاری ۔ کتاب أحادیث الانبیاء۔ باب قول اللّٰہ تعالیٰ﴿ لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ....﴾ (ح:۳۳۸۳)، صحیح مسلم، کتاب الفضائل۔ باب من فضائل یوسف رضی اللّٰہ عنہم (ح:۲۳۷۸)۔] [اس کی تخریج گزرچکی ہے] ۔

صفحہ 1 از 13