شیعہ اور اہل بیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 4

*شیعہ اور اہل بیت:*

      ♦️ لفظ اہل بیت عربی زبان میں ٹھیک انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ہم ’’گھر والوں‘‘ کا لفظ بولتے ہیں اوراس کے مفہوم میں آدمی کی بیوی اور بچے دونوں شامل ہوتے ہیں۔ بیوی کو مستثنیٰ کر کے ’’اہل خانہ‘‘ یا ’’گھروالوں‘‘ کا لفظ کوئی نہیں بولتا۔ انہی معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے لہٰذا جمہور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ آپﷺ کی تمام ازواج مطہراتؓ و اولادؓ اہل بیت ہیں۔ اس کے برعکس شیعوں کے نزدیک اہل بیت میں صرف پنج تن یعنی حضورﷺ، حضرت علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ اور حسینؓ ہی شامل ہیں اس میں کوئی چھٹا تن داخل نہیں۔ یہاں تک کہ آپﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اور آپﷺ کی محبوب بیوی حضرت خدیجہؓ بھی نہیں۔

♦️ اس کی دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ آیت: 

*اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا*

میں مذکر صیغوں سے خطاب ہے، اگر اہل بیت سے حضورﷺ کی ازواج مراد ہوتیں تو آیت کے الفاظ *عنکم* *ویطہرکم*  کے بجائے  *عنکن* *ویطہرکن*  ہوتے۔

  ♦️      آیت کی تشریح میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں : جو انسان ذرا بھی عربی سے واقفیت رکھتا ہے وہ آیت پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں ازواج مطہراتؓ شامل نہیں؛ بلکہ اگر کسی عام آدمی کو ان آیات کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے تو اس کی بھی سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج مطہراتؓ ہیں کیوں کہ نظمِ قرآن میں تدبر کرنے والے کو ایک لمحہ کے لیے اس میں شک وشبہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں اہل بیت کے مدلول میں ازواج مطہراتؓ یقیناً داخل نہیں کیوں کہ آیت ہذا سے پہلے اور بعد میں تمام تر خطابات انھی سے ہوئے ہیں۔ ماقبل آیت:

’’وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ ۔۔۔۔‘‘

  اور اس کے بعد 

’’وَاذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ  بُیُوۡتِکُنَّ۔۔۔‘‘ 

میں ان ہی کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ ان دونوں کے درمیان:

اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا

ہے۔ اس درمیانی جزء کے بارے میں یہ کہنا کہ چوں کہ اہل بیت کو صیغہ مذکر سے بیان کیا گیا ہے اس لیے وہ اہل بیت میں شامل نہیں، یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جسے عربی زبان و ادب سے کوئی واسطہ نہ ہو

(ترجمہ شیخ الہند، تفسیر از مولانا شبیر احمد عثمانی، سورہ احزاب، آیت:33)۔

  ♦️      قرآن کریم میں یہ لفظ اسی صیغہ میں سورہ ہود میں بھی آیا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کی بیوی سارہؓ کو خطاب کرتے ہوئے ملائکہ نے کہا: 

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِیۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ  رَحۡمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمۡ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ ؕ اِنَّہٗ  حَمِیۡدٌ  مَّجِیۡدٌ ﴿73﴾

(سورہ ہود: آیت نمبر 73)

فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں۔ 

⏺️        اس جگہ  اہل البیت سے مراد زوجہ ابراہیم خلیل اللہ ہی ہیں ۔ شیعہ مفسرین طبرسی (مجمع البیان) اور کاشانی (منہج السالکین) نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ میں اہل البیت سے مراد حضرت سارہؓ ہیں ، جو حضرت ابراہیمؑ کی چچازاد بہن تھیں۔ (اگرچہ انھوں نے اس کی بے بنیاد تاویل کی ہے)۔

 ♦️       اسی طرح حضرت موسیؑ کے واقعہ میں بھی قرآن کریم میں ضمیر مذکر کا استعمال ہوا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

فَلَمَّا قَضٰی مُوۡسَی الۡاَجَلَ وَ سَارَ بِاَہۡلِہٖۤ  اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا ۚ قَالَ  لِاَہۡلِہِ  امۡکُثُوۡۤا  اِنِّیۡۤ  اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ  اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَۃٍ مِّنَ النَّارِ  لَعَلَّکُمۡ  تَصۡطَلُوۡنَ ﴿29﴾

(سورۃالقصص: آیت نمبر 29)

ترجمہ: پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو ! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائش حاصل کرسکو۔ 

  ⏺️      اس آیت میں دو جگہ اہل کا لفظ آیا ہے اور دونوں ہی جگہ تمام شیعہ بلا کسی تاویل کے متفق ہیں کہ اہل سے مراد حضرت موسیٰؑ کی زوجہ ہیں جو حضرت شعیبؑ کی بیٹی تھیں ۔

(دیکھئے: تفسیر مجمع البیان، جلد7 صفحہ346، (الاحزاب:33)، للطبرسی (ابوالفضل بن الحسن)، طبرسی چھٹی صدی ہجری کے فاضل ترین شیعہ علماء میں سے ہیں ان کی تفسیر کئی جلدوں میں شائع ہے۔ ان کے علاوہ قمی (ابوالحسن علی بن ابراہیم) بھی تیسری صدی ہجری کے شیعہ علماء میں ممتاز سمجھے جاتے ہیں اور ابتدائی شیعہ مفسرین کے امام ہیں )۔ ان  سب کے نزدیک اس جگہ زوجہ موسیٰؑ مراد ہیں ۔ اس جگہ انھوں نے صیغہ مذکر ومونث کی کوئی بحث نہیں کی۔

♦️        جہاں تک ان تمام مذکورہ مقامات میں ازواج کو صیغہ مذکر میں مخاطب کرنے کی بات ہے تو اس کی وجہ یہ ہے (قد اجمع اہل اللسان العربی علی تغلیب الذکور علی الاناث فی الجموع ونحوہا) عرب میں جب ایک سے زیادہ لوگوں کو خطاب کیا جاتا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوں تو وہاں صیغہ مذکر لایا جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے تحت حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور سردار انبیاءﷺ کی زوجات مطہرات کے لیے ضمیر مذکر لائی گئی ہے۔

صفحہ 1 از 4