شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 4

شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم 

لفظ اہل بیت عربی زبان میں ٹھیک انہیں معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ہم ’’گھر والوں‘‘ کا لفظ بولتے ہیں اور اس کے مفہوم میں آدمی کی بیوی اور بچے دونوں شامل ہوتے ہیں۔ بیوی کو مستثنیٰ کر کے ’’اہل خانہ‘‘ یا ’’گھروالوں‘‘ کا لفظ کوئی نہیں بولتا۔ انہی معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا جمہور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ آپﷺ کی تمام ازواج مطہراتؓ و اولادؓ اہل بیت ہیں۔ اس کے برعکس شیعوں کے نزدیک اہل بیت میں صرف پنج تن یعنی حضورﷺ، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہی شامل ہیں اس میں کوئی چھٹا تن داخل نہیں۔ یہاں تک کہ آپﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اور آپﷺ کی محبوب بیوی حضرت خدیجہؓ  کو بھی اہل بیت میں داخل نہیں کرتے۔

 اس کی دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ آیت: 

اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰه لِیُذۡھبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَھلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا

 میں مذکر صیغوں سے خطاب ہے، اگر اہل بیت سے حضورﷺ کی ازواج مراد ہوتیں تو آیت کے الفاظ عنکم، ویطہرکم کے بجائے عنکن اور ویطهرکن  ہوتے۔

آیت کی تشریح میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں: 

جو انسان ذرا بھی عربی سے واقفیت رکھتا ہے وہ آیت پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں ازواج مطہراتؓ شامل نہیں؛ بلکہ اگر کسی عام آدمی کو ان آیات کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے تو اس کی بھی سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج مطہراتؓ ہیں کیوں کہ نظمِ قرآن میں تدبر کرنے والے کو ایک لمحہ کے لیے اس میں شک وشبہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں اہل بیت کے مدلول میں ازواج مطہراتؓ یقیناً داخل نہیں کیوں کہ آیت ہذا سے پہلے اور بعد میں تمام تر خطابات انھیں سے ہوئے ہیں۔

 ماقبل آیت: 

’’وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ ۔۔۔۔‘‘ 

 اور اس کے بعد 

 ’’وَاذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ  بُیُوۡتِکُنَّ۔۔۔‘‘ 

 میں انہیں کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ ان دونوں کے درمیان:

 اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡھبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَھلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا ہے 

 اس درمیانی جزء کے بارے میں یہ کہنا کہ چونکہ اہل بیت کو صیغہ مذکر سے بیان کیا گیا ہے اس لیے وہ اہل بیت میں شامل نہیں، یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جسے عربی زبان و ادب سے کوئی واسطہ نہ ہو۔

 (ترجمہ: شیخ الہند، تفسیر از مولانا شبیر احمد عثمانی، سورۃ الاحزاب، آیت 33)۔

  قرآن کریم میں یہ لفظ اسی صیغہ میں سورۂ ہود میں بھی آیا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کی بیوی حضرت سارہ کو خطاب کرتے ہوئے ملائکہ نے کہا:

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِیۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ رَحۡمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمۡ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ اِنَّہٗ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ {سورة هود : أية 73}

ترجمہ: فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں۔

اس جگہ اہل البیت سے مراد زوجہ ابراہیم خلیل اللہ ہی ہیں۔ شیعہ مفسرین طبرسی (مجمع البیان) اور کاشانی (منہاج السالکین) نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ میں اہل البیت سے مراد حضرت سارہ ہیں، جو حضرت ابراہیمؑ کی چچازاد بہن تھیں۔ (اگرچہ انھوں نے اس کی بےبنیاد تاویل کی ہے)۔

 اسی طرح حضرت موسیؑ کے واقعہ میں بھی قرآن کریم میں ضمیر مذکر کا استعمال ہوا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

فَلَمَّا قَضٰی مُوۡسَی الۡاَجَلَ وَ سَارَ بِاَہۡلِہٖۤ  اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا  قَالَ  لِاَہۡلِہِ  امۡکُثُوۡۤا  اِنِّیۡۤ  اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ  اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ (سورۃالقصص: آیت 29)

ترجمہ: پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائش حاصل کرسکو۔

اس آیت میں دو جگہ اہل کا لفظ آیا ہے اور دونوں ہی جگہ تمام شیعہ بلا کسی تاویل کے متفق ہیں کہ اہل سے مراد حضرت موسیٰؑ کی زوجہ ہیں جو حضرت شعیبؑ کی بیٹی تھیں۔

(دیکھئے: تفسیر مجمع البیان، جلد 7 صفحہ 346، (الاحزاب: 33)، للطبرسی (ابوالفضل بن الحسن)

 طبرسی چھٹی صدی ہجری کا فاضل ترین شیعہ علماء میں سے ہے اس کی تفسیر کئی جلدوں میں شائع ہے۔ اس کے علاوہ قمی (ابوالحسن علی بن ابراہیم) بھی تیسری صدی ہجری کا شیعہ علماء میں ممتاز سمجھا جاتا ہے اور ابتدائی شیعہ مفسرین کا امام ہے )۔ ان سب کے نزدیک اس جگہ موسیٰؑ کی زوجہ مراد ہیں۔ اس جگہ انھوں نے صیغہ مذکر مؤنث کی کوئی بحث نہیں کی۔

جہاں تک ان تمام مذکورہ مقامات میں ازواج کو صیغہ مذکر میں مخاطب کرنے کی بات ہے تو اس کی وجہ یہ ہے

(قد اجمع اہل اللسان العربی علی تغلیب الذکور علی الاناث فی الجموع ونحوہا)

عرب میں جب ایک سے زیادہ لوگوں کو خطاب کیا جاتا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوں تو وہاں صیغہ مذکر لایا جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے تحت حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور سردار انبیاءﷺ کی ازواج مطہراتؓ کے لیے ضمیر مذکر لائی گئی ہے۔

 الغرض اہل بیت میں حضورﷺ کی ازواج مطہراتؓ کا داخل ہونا یقینی ہے؛ بلکہ آیت کا خطاب ہی ان سے ہے؛ لیکن چونکہ اولاد و داماد بھی اہل بیت (گھر والوں ) میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے روایات، مثلاً آپ ﷺ کا حضرت فاطمۃ الزہراؓ، علیؓ، حسنؓ وحسینؓ کو ایک چادر میں لے کر 

 اللّٰہم ھؤلاء اھل بیتی

 وغیرہ فرمانا اور حضرت فاطمہؓ کے مکان کے قریب سے گذرتے ہوئے:

الصلاۃ اھل البیت!

اور 

یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس الخ 

صفحہ 1 از 4