حکومت کی طرف سے سرکاری کارروائی
علی محمد الصلابیاندر سے ناکام بنانے کا طریقہ
خود رسول اللہﷺ نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا چنانچہ آپﷺ نے مدعیان نبوت کے قبائل کو خطوط اور پیغامبر بھیجے تا کہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کو اکٹھا کیا جا سکے اور مرتدین سے قتال کے لیے ان کی جماعت تشکیل دی جائے اور اسی منہج کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اختیار کیا اور اس بات کی کوشش کی کہ مرتدین کی تحریک کو روکا جائے اور بقدر امکان اس کو ختم کیا جائے، اس کے خلاف لوگوں کی ذہن سازی شروع کی، ان کا ساتھ چھوڑنے پر اکسایا لوگوں کو ان سے متنفر کیا، اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں سے رابطہ قائم کیا اور انہی میں سے منظم فوج کے لیے افراد تیار کیے۔ اس طرح لشکر اسامہ کی واپسی کے بعد مرتدین کے ساتھ منظم کارروائی کے لیے امت کو تیار کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے قائدین اور اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں سے خط کتابت کی تاکہ بعض اہداف کے حصول میں کامیابی حاصل ہو مثلاً لشکر اسامہ کے لوٹنے تک موقع مل جائے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے یمن وغیرہ میں بھی طریقہ ان لوگوں کو خطوط بھیجے، جن کو رسول اللہﷺ نے خطوط ارسال کیے تھے۔
(دراسات فی عہد النبوۃ للشجاع: صفحہ 319)
تاکہ اپنی پوری کوشش اسلام کی طرف دعوت دینے کے لیے صرف کریں اور ثابت قدم رہنے والوں سے اس بات کا مطالبہ کریں کہ وہ مقررہ مقامات پر جمع ہو جائیں اور خلیفہ کے حکم کا انتظار کریں۔ یہ ترتیب آئندہ فوجی منصوبے کا آغاز تھی۔
(دراسات فی عہد النبوۃ للشجاع: صفحہ 319)
اور بعض ثابت قدم رہنے والوں کو توفیق الہٰی سے مدینہ پہنچنے کا موقع ملا، وہ اپنی زکوٰۃ لے کر خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جیسے عدی بن حاتم طائی اور زبرقان بن بدر تمیمی۔
(دراسات فی عہد النبوۃ للشجاع: صفحہ 319 منقول از تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 10، 12)
اور ثابت قدم رہنے والے، قیس بن مکشوح مرادی کی تحریک اور تہامہ، سراۃ اور نجران کے علاقوں میں بعض قبائلی جماعتوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس طریقے سے بعض نتائج برآمد ہوئے:
ذہن سازی، اطلاعات و نشریات، مسلمانوں کی تقویت اور مرتدین کو کمزور کرنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا منصوبہ کامیاب ثابت ہوا، حسب موقع دوسرے ذرائع کو استعمال کرنے کی یہ تمہید تھی اور یہ سب چیزیں منظم فوج کا ہتھیار ہوتی ہیں۔
اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کی تربیت و ٹریننگ میں یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوا، وہ مستقبل میں اسلامی فتوحات کی تحریک کے قائد بنے جیسے عدی بن حاتم طائی جو فتوحات عراق کے قائدین میں سے ہیں۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ بعض مرابط (مراکز) میں مسلمان بہادروں کی تشکیل ہوئی جو بعد میں اسلامی فوج میں شامل ہوئے۔
ارتداد کے بعض علاقوں میں ارتداد کو کچلا گیا، اگرچہ محدود پیمانے پر سہی جیسا کہ جزیرہ عرب کے جنوب میں ہوا۔