فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد - ردِ رافضیت…

فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے آئمہ کا متکلمین پر رد

متکلمین کہتے ہیں : اس سے توجسم کا حدوث ثابت ہوتا ہے ۔کیونکہ جسم حوادث سے خالی نہیں ہوتا۔ اور جو بھی چیز حوادث سے خالی نہ ہوتو وہ خود بھی حادث ہوتی ہے۔ اور ان لوگوں نے ان اشیاء کے درمیان جو نوعِ حوادث سے خالی نہیں ہوتی اور ان اشیاء کے درمیانِ جو عینِ حوادث سے خالی نہیں ہوتی ؛کوئی فرق نہیں کیا ۔ اور نہ ہی انہوں نے حوادث کے باب میں ان حوادث کے درمیان جو کہ خود مفعول اور معمول بنیں کسی علت کے لیے یا یہ کہ کسی مفعول کے لیے وہ خود فاعل بنیں ؛ اور بذاتِ خود واجب ہو،اس میں کوئی فرق نہیں کیا۔پس ان متکلمین سے فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے آئمہ نے کہا ہے کہ: یہ دلیل جس سے تم نے عالم کا حدو ث ثابت کیاہے؛حقیقت میں یہ دلیل تو عالم کے حدوث کے ممتنع ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اور جو کچھ تم نے ذکر کیا ہے وہ تو اس بات کی نقیض پر دلالت کرتا ہے جس کوتم ثابت کرنا چاہتے ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حادث جب ایک بار عدم سے وجود میں آیا تو یہ ضروری ہے کہ وہ ممکن ہو۔اور امکان کے لیے کوئی خاص متعین وقت ثابت نہیں ۔پس جوبھی وقت فرض کرلیا جائے؛امکان اس سے پہلے ثابت ہوگا ۔پس فعل کے امکان اور اس کے جواز اور صحت کے لیے کوئی ایسا مبدأ ثابت نہیں جس کی کوئی منتہی ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ فعل ازل سے ممکن اورجائز اور صحیح تھا۔اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ازل سے قادر تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے حوادث کا وجود ممکن ماننا پڑے گا جن کے اول کے لیے کوئی منتہیٰ نہیں ؛ یعنی وہ ازل سے ہیں ۔

جہمیہ ، معتزلہ اور ان کے وہ متبعین جو متکلمین میں سے ہیں ان کی طرف سے مناظر نے کہا کہ:’’ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ حوادث کے امکان کے لیے کوئی ابتداء نہیں یعنی وہ ازل سے ہیں ۔ البتہ ہم کہتے ہیں کہ :’’حوادث کا امکان اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ مسبوق بالعدم ہوتے ہیں جس کے لیے کوئی بدایت اور شروع نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک حوادث کا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہونا ممتنع ہے۔ بلکہ اس کے نوع کا حادث ہونا ضروری ہے لیکن کسی معین وقت میں اس کا حدوث معین نہیں ۔ پس حوادث کا ممکن ہونا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ ایسے مسبوق بالعدم ہیں جن کے لیے کوئی اول نہیں بخلافِ جنسِ حوادث کے۔

تو ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ: فرض کر لو تم یہ بات کہتے ہو۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمہارے نزدیک جنسِ حوادث کے امکان کے لیے ایک ابتداء ہے۔ پس یقیناً جس طرح حدوث تمہارے نزدیک نا ممکن ہونے کے بعد ممکن بن گیا ؛ اور اس امکان کے لیے کوئی معین وقت نہیں ؛بلکہ کوئی بھی وقت فرض کر لیا جائے۔ تو امکان اس سے پہلے ثابت ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں لازم آتا ہے کہ امکان کو دائمی ماننا پڑ ے گا ورنہ لازم آئے گا کہ بغیر کسی چیز کے حدوث کے اور بغیر کسی نئے حال کے تجدد کے جنس حوادث امکان سے امتناع کی طرف بدل گئے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ بغیر کسی سبب کے تجدد کے جنسِ حدوث یا جنسِ حوادث یا جنسِ فعل یا جنسِ احداث ( یااس کے مشابہ جو دیگر عبارات ہیں )کی حقیقت کا امتناع سے امکان کی طرف بدل جانا (حالانکہ وہ پہلے ممتنع تھا )؛عقل کے صریح فیصلے کے مطابق ممتنع ہے۔ اور یہ اس بات کو بھی مستلزم ہے کہ کوئی جنس امتناعِ ذاتی سے امکانِ ذاتی کی طرف بدل جائے۔ کیونکہ یقیناً ان کے نزدیک جنسِ حوادث کی ذات ممتنع ہونے کے بعد ممکن بن جاتی ہے۔ اور یہ انقلاب کسی وقتِ معین کے ساتھ خاص نہیں اس لیے کہ یقیناً کسی بھی وقت کو اگر فرض کر لیا جائے گا تو امکان اس سے پہلے ثابت ہوگا لہٰذا لازم آیا کہ یہ حقیقت کا انقلاب امتناع سے امکان کی طرف ازل سے ثابت ہے جو اس بات کو مستلزم ہے کہ ممتنع ازل سے ممکن ہی تھا۔

اور یہ بات امتناع کے اعتبار سے زیادہ ابلغ اور عقلی اعتبار سے زیادہ ناجائز ہے ہمارے اس قول سے کہ حادث ازل سے ممکن ہے پس تحقیق جس مقصد اور جس نتیجہ سے یہ بھاگنا چاہتے تھے ان پر اس سے زیادہ شنیع اور فساد کے اعتبار سے زیادہ اشد بات کا الزام آگیا اس لیے کہ یقیناً یہ بات عقلا سمجھ میں آتی ہے کہ حادث ممکن ہے اور یہ بات بھی عقلا سمجھ میں آتی ہے کہ یہ امکان ازل سے ہے ۔رہا ممتنع کا ممکن بننا ؛تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ممتنع ہے۔ پس یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ اس ممتنع کا امکان ازل سے ہے اور یہ بھی کہ جو شرط انہوں نے ذکر کی ہے کہ جنسِ فعل یا جنسِ حوادث کا ازل سے امکان اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ مسبوق بالعدم ہو ں ؛تو یہ شرط جمع بین النقیضین کو مستلزم ہے۔ اس لیے کہ اس کا ازل سے ہونے کا تقاضا ہے کہ اس کے امکان کے لیے کوئی ابتداء اور شروع نہیں اور اس کا امکان قدیم اور ازلی ہواور اس کا مسبوق بالعدم ہونے کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے کوئی ابتداء ہے جو کہ قدیم اور ازلی نہیں ۔ پس ان کا یہ قول اس بات کو مستلزم ہوا کہ حوادث کے لیے کوئی ابتداء ثابت ہوناضروری ہو۔اور یہ بھی کہ ضروری نہیں ۔ بے شک انہوں نے ایک ایسی بات فرض کی ہے جو ممتنع ہے اور جو ممتنع تقدیر ہو تو تحقیق اس کے نتیجے میں حکمِ ممتنع ہی لازم آتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿ لَوْ کَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا﴾ [الانبیاء ۲۲]

’’ اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود ہوتا تو ان دونوں میں فساد پیدا ہوجاتا۔‘‘

پس بے شک ان لوگوں کا قول یعنی جنس حوادث کے امکان[اس شرط پر کہ وہ مسبوق بالعدم ہوں ]کے لیے کوئی ابتداء نہیں اس بات کومتضمن ہے کہ جس چیز کے لیے ابتداء ثابت ہے اسی کے لیے ابتداء ثابت نہ ہو اس لیے کہ جو چیز بھی مسبوق بالعدم ہونے کے ساتھ مشروط ہو اس کے لیے ابتداء ہوتی ہے اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس کے لیے کوئی ابتداء نہیں یہ تو جمع بین النقیضین ہوا۔

صفحہ 1 از 5