مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک…

مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3
  1. مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار) 

کل رات دو شیعہ اہلِ علم حضرات رانا محمد سعید اور سید علی حیدری صاحب کو موقعہ دیا گیا کہ وہ قرآن کریم کے متعلق واضح اور آسان الفاظ میں اہل تشیع عقیدہ اور نظریہ عوام تک پہنچائیں ، خاص طور ان نکات کو کلیئر کریں جن پر اہلِ سنت کو صدیوں سے اہلِ تشیع سے گلہ رہا ہے اور اسی بنا پر اہلِ سنت کی طرف سے اہلِ تشیع کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے۔ 

دونوں مکالموں کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

گفتگو کا پس منظر یہ تھا کہ رانا محمد سعید صاحب نے ایک اہلِ سنت بھائی کو جواب دیتے ہوئے بڑھکیں ماری کہ اہلِ تشیع پر کفر کے فتوے لگانے والے خود ذلیل و خوار ہوکر مرے، کفر کفر کی گردان کرتے ہیں لیکن ثابت کرنے پر موت آتی ہے، عدالتوں سے بھاگ جاتے ہیں۔

 اس کمنٹ پر انہیں بتایا گیا کہ اصل مسئلہ اہلِ تشیع کا تقیہ ہے، جس دن وہ تقیہ کرنا چھوڑ دیں گے، اسی دن ان کے اپنے قریبی لوگ بھی انہیں کافر کافر کہنا شروع کر دیں گے۔

اس کے جواب میں رانا صاحب کا نہایت سخت الفاظ میں جواب آیا کہ جو ہمیں کافر کہے وہ ملعون خود کافر ہے، زندیق ہے بلکہ حرام زادہ دجال ہے

اس صریح بداخلاقی کے باوجود خندہ پیشانی سے رانا محمد سعید صاحب کو اہلِ تشیع کے پانچ کفریہ عقائد آسان الفاظ میں اور وضاحت کے ساتھ پیش کردئیے گئے۔

شیعہ کے پانچ کفریہ عقائد 

¹ـتحریف قرآن کا عقیدہ۔

²ـ شیعہ کا عقیدہ امامت۔

³ـ ازواج مطہراتؓ کی شان  و عظمت کا انکار۔ 

⁴ـ شیعہ صحابہ کرامؓ بالخصوص خلفائے ثلاثہ (حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ ) کو کافر و مرتد سمجھتے ہیں۔ 

⁵ـ کلمہ طیبہ اور اذان میں من مانی تحریف۔

 موصوف رانا محمد سعید شیعہ کو چیلینج کیا گیا کہ کسی بھی عقیدے پر تفصیلی گفتگو کرے اور عوام کو بتائے کہ یہ عقائد اہلِ تشیع کے ہیں یا نہیں۔ اگر انکار کرے گا تو مستند روایات سے ثابت کئے جائیں گے اور اگر اقرار کرے گا تو بتایا جائے کہ اہلِ تشیع کو دائرہ اسلام میں کیسے داخل کیا جائے؟

گفتگو 10 جولائی 2022 رات 9:40 سے شروع ہوئی اور سوا دو گھنٹے تک جاری رہی۔ انہوں نے پہلے بیان کئے گئے عقیدہ تحریف قرآن پر گفتگو کرنے پر آمادگی دکھائی۔ شروعاتی  پانچ منٹ چھ منٹ  کے اندر ہی اہلِ سنت کا قرآن کریم کے متعلق واضح مؤقف پیش کر دیا گیا۔ 

قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی۔ ایک ایک لفظ وہی ہے جو وحی الہٰی ہے۔ کوئی کمی بیشی رد و بدل نہیں ہوا۔ تحریف کا قائل کافر ہے۔

دو گھنٹے سے جاری گفتگو میں بجائے اہلِ تشیع عقیدہ بیان کرنے کے رانا صاحب  مختلف سوالات و اعتراضات کرتے رہے، شروع سے آخر تک ان سے کئی بار شیعہ عقیدہ پوچھا گیا لیکن موصوف بضد رہے کہ میں صرف اہل سنت کو تحریف قرآن کا قائل ثابت کروں گا۔ انہیں اس کی بھی اجازت دی گئی اور کہا گیا کہ اہلِ تشیع عقیدہ بیان کرنے کے بعد آپ دو دن یا دس دن جتنا چاہیں گفتگو کریں لیکن کم از کم عوام کو یہ تو بتائیں کہ موجودہ قرآن کریم پر شیعوں کا عقیدہ کیا ہے۔ 

اس دوران انہوں نے تحریف کی تعریف پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ انہیں مختلف اہلِ سنت تفاسیر سے تحریف کی تعریف اور اقسام دکھا دی گئیں تو اس پر ہی اشکالات وارد کر کے وقت ضائع کرنے لگے، انہیں عرض کیا گیا کہا اس میں تمام اقسام تحریف بیان کئے گئے ہیں۔ اگر وہ تعریف درست نہیں ہے تو ناقص ثابت کرنے کے لئے کوئی متبادل جامع تعریف پیش کرنی ہوگی جس میں کوئی نئی بات شامل ہو۔

اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

انہیں وضاحت سے سمجھا دیا گیا کہ

تحریف کے دو اقسام ہیں لفظی اور تفسیری۔

تفسیری تحریف مجازی تحریف ہوتی ہے اور اس بنا پر ہی کئی فرقے وجود میں آئے ہیں۔

لفظی تحریف پر اہل سنت کا واضح عقیدہ ہے کیونکہ قرآن کا محافظ اللہ عزوجل خود ہے۔

ان سے بار بار دو سوال پوچھے گئے۔

¹ـکیا شیعہ لفظی تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں یا اس کے قائل کو کافر سمجھتے ہیں؟

²ـکیا اہل تشیع قرآن کریم کا ایک ایک لفظ محفوظ سمجھتے ہیں؟

ان کی طرف سے عقیدہ کی وضاحت نہ آئی اور ممبرز کا وقت ضائع ہوتے دیکھ کر مزید انہیں آدھ گھنٹہ بھی دیا گیا کہ اگر آپ شیعہ عقیدہ بیان نہیں کریں گے تو پھر آگے گفتگو نہیں کی جائے گی۔

 ہر دس منٹ بعد انہیں باور بھی کرایا جاتا رہا کہ وہ پہلے اپنے عقیدے کی وضاحت کریں پھر دل کھول کر اہل سنت پر الزامات عائد کرتے رہیں لیکن سوائے بدتمیزی اور بداخلاقی کے ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ 

نتیجہ: اہل تشیع مناظروں، مکالموں اور مباحثوں میں اپنے عقائد چھپاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ حقیقت کھل جائے گی اور عوام ہم پر تُھوکے گی۔ اس لئے ان کا پورا زور یہ ہوتا ہے کہ مخالف پر بھی وہی اعتراض اور الزام ثابت کیا جائے۔ 

غور فرمائیں! بالفرض تحریف قرآن کا عقیدہ اہل تشیع کا نہیں ہے تو اسے چھپانے کے بجائے فخریہ انداز سے بیان کرنا چاہئے تھا،  لیکن ہائے مجبوری! چور کی داڑھی میں تنکا!

دوسرا شکار شیعہ عالم سید علی حیدری

اس کے بعد رات 12:40 پر ایک اور شیعہ عالم سید علی حیدری صاحب نے آستینیں چڑھائیں اور علمی میدان میں اترے۔  آئے تو وہ تحریف قرآن پر گفتگو کرنے کے لئے تھے لیکن آتے ہی اہلِ سنت عقیدہ خلافت کو مجہول کہتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ اہلِ سنت عقیدہ خلافت کا نہ سر ہے نہ پیر!

انہیں بتایا گیا کہ اگرچہ تحریف قرآن کا موضوع طئے ہے اور دونوں فریقین جب اپنا اپنا عقیدہ دوٹوک بیان کریں گے تو اس کے بعد دلائل کی روشنی میں گفتگو ہوگی لیکن وہ چاہیں تو عقیدہ خلافت پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بالآخر تحریف قرآن پر گفتگو کے لئے حامی بھری اور اعتراض وارد کیا کہ تحریف قرآن کا مسئلہ اہل سنت کی بنیاد کے وقت موجود نہیں تھا اور نہ آج ہے۔

 (غور فرمائیں! موصوف خود اقرار کر رہے ہیں کہ اہلِ سنت کے ہاں تحریف قرآن کا مسئلہ  شروع سے آج تک موجود ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود شیعہ حضرات عام لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اہل سنت بھی معاذاللہ تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں!)

صفحہ 1 از 3