سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 11

سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان غنیؓ

نام مبارک: عثمان۔

کنیت: ابو عبد اللہ، ابو عمرو۔

لقب: ذوالنورین، غنی۔

والد کا نام: عفان۔

والدہ کا نام: اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی۔

سلسلہ نسب:

عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی قرشی اموی۔

تاریخ پیدائش: آپؓ کی ولادت باسعادت واقعہ فیل کے چھٹے سال (ہجرت سے 27 سال پہلے) قریش کے ایک ممتاز گھرانے میں ہوئی۔

(استیعاب: جلد، 3 صفحہ، 1038)

قبل از اسلام:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرب کے شریف زادوں کی طرح بڑے ناز و نعم میں پرورش پائی اور مروجہ علوم و فنون کی تحصیل کے بعد اپنے آبائی پیشہ تجارت سے وابستہ ہو گئے اور اپنی دیانت و راست بازی کی وجہ سے بہت جلد ترقی کرکے قریش کے دولت مند لوگوں کی صف میں شامل ہو گئے اور غنی کے لقب سے یاد کئے جانے لگے۔

قبول اسلام:

سیدنا عثمانؓ فطرتاً سلیم الطبع، حلیم و بردباد واقع ہوئے تھے۔ عہد جاہلی کے پُر آشوب معصیت شعار ماحول میں بھی آپ کا دامن بت پرستی، شراب نوشی، جوا بازی، بدکاری جیسے مذموم کاموں کے داغ سے پاک رہا۔ آپؓ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس اٹھتے بیٹھتے تھے۔

ظہور اسلام کے بعد آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کی ترغیب دی اور ان کو رسولِ کریمﷺ کی خدمت میں لے کر گئے۔ اور آپ نے اسلام قبول کر لیا۔

شرف دامادی:

دولت دنیا کے ساتھ دولت ایمان سے بہرہ مند ہونے کے بعد سرکارﷺ نے آپ کو شرف دامادی بخشا اور اپنی منجھلی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے عقد میں دیا۔ جنگ بدر کے موقع پر جب ان کا انتقال ہو گیا تو حضور اکرمﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کر دیا پھر جب ان کا بھی انتقال ہو گیا تو حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے پاس تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں اس کا بھی نکاح عثمان سے کر دیتا۔

(اسد الغابہ: جلد، 2 صفحہ، 249)

ہجرت:

قبول اسلام کی وجہ سے آپ کو سخت مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ لوگ جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے ان میں آپ کے خاندان کے لوگ قائد کا رول نبھا رہے تھے اس لیے یہ بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی کہ ان ہی کے خاندان کا کوئی فرد اسلام قبول کر لے۔ چنانچہ آپ کے خاندان کے لوگوں نے آپ کو برا بھلا کہا اور آپ کے حقیقی چچا حکم بن ابی العاص نے آپ کو باندھ کر مارا، لیکن ان آزمائش کی سخت گھڑیوں میں بھی آپؓ مکمل طور سے ثابت قدم رہے۔

ایک زمانے تک آپ پر اور دوسرے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے۔ پھر جب حق کے علمبرداروں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ بغیر وطن اور عزیز و اقارب کو چھوڑے دین حق کی نشر و اشاعت نہیں ہو سکتی ہے تو آقائے کریمﷺ نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ چنانچہ نبوت کے پانچویں سال سب سے پہلی مرتبہ دین حق کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک قافلہ ہجرت کرنے کے لیے تیار ہوا جس میں 11/مرد اور 4/عورتیں تھیں اور یہ قافلہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حبشہ کی طرف روانہ ہوا، اس سفر میں سیدنا عثمانؓ کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہ بنت رسولﷺ بھی تھیں۔

یہ سارے لوگ حبشہ ہی میں اقامت گزیں ہو گئے پھر ایک خبر پا کر مسلمان وہاں سے مکہ آنے لگے تو آپ بھی مکہ واپس آگئے، لیکن خبر جھوٹی ثابت ہوئی تو پھر کچھ لوگ دوبارہ حبشہ چلے گئے مگر آپ مکہ ہی میں رہے۔ مکہ کی فضا اہلِ اسلام کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تاریک ہو چکی تھیں اور مسلمان ناقابلِ برداشت ظلم و ستم سے دوچار تھے۔ آخر کار ہجرت کی عام اجازت ہوئی تو دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ شریف چلے آئے۔

فضائل و مناقب:

خاص آپ کے فضائل و مناقب سے متعلق کثیر روایتیں کتب احادیث میں وارد ہیں، ان میں سے چند حاضر ہیں۔

  1. رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی ہو گا اور جنت میں میرے ساتھی عثمانؓ ہوں گے۔ (ترمذی: حدیث، 3498)
  2.  حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا کہ کیا جنت میں برق (یعنی جگمگاہٹ) ہو گی؟ تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! بے شک عثمان جب ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہو گا تو جنت ان کے لیے جگمگائے گی۔ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابہ: حدیث، 4540)
  3. حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریمﷺ کے زمانے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سمجھتے تھے اور ان کے بعد ہم لوگ حضورکے صحابہ میں کسی کو کسی پر فضیلت کی بات نہیں کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: حدیث، 3698 ترمذی حدیث، 3706)
  4. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر حضورﷺ نے حضرت عثمانؓ کو مکہ بھیجا تھا پھر جب ان کے جانے کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضورﷺ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کیا تو حضورﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ کے بارے میں فرمایا ک یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور آپ نے اسے اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث، 3698 ترمذی حدیث، 3706)

اعزازات:

حضرت عثمانؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یکے بعد دیگرے حضورﷺ کی دو بیٹیاں آپ کے نکاح میں آئیں۔جب آپؓ کی بیوی سیدہ حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول خداﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں تو میں ایک ایک کر کے عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔

(مرقاۃ شرح مشکوۃ: جلد، 11 صفحہ، 231 باب مناقب عثمان بن عفان،الفصل الثالث)

نبی کریمﷺ نے فرمایا

لکل نبی رفیق و رفیقی فی الجنۃ عثمان

(جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 689 مناقب عثمان بن عفان)

ترجمہ: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہو گا اور میرا رفیق عثمانؓ ہو گا۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضورﷺ نے آپ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا۔

صفحہ 1 از 11