سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 13

سوال نمبر 656: تنقید کے معنی اہلِ سنت کے نزدیک کیا ہیں؟

جواب: لغوی معنیٰ، پرکھنے اور کلام کے عیوب و محاسن ظاہر کرنے کے ہیں نقد، نقدًا، تنقادًا، ناقده، مناقدة۔ کسی معاملہ میں جھگڑنا۔ انتقد الکلام۔ کلام کی تنقید کرنا عیوب و محاسن ظاہر کرنا۔ (مصباح اللغات: صفحہ، 900)

اصطلاح اور محاورہ اردو میں، کسی چیز کے عیوب کو ظاہر کرنا ہے۔ اگر خوبیاں ظاہر کی جائیں تو تقریظ و تبصرہ کہلاتا ہے۔

سوال نمبر 657: کوئی آیت قرآن بتائیں کہ کسی صحابی پر تنقید نہ کی جائے؟

جواب: تنقید مروجہ اور کسی کے عیوب ظاہر کرنا، غیبت و عیب جوئی کہلاتا ہے۔ قرآن میں ہے:

1: وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا يَغۡتَبْ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا‌ (سورۃ الحجرات: آیت، 12 پارہ 26) 

ترجمہ: تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے اور نہ عیوب تلاش کرے۔

2: وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ (سورۃ الهمزة:

آیت، 1 پارہ، 30)

ترجمہ: ہلاکت ہے ہر عیب جو اور طعنہ دینے والے کے لیے۔

جب قرآن مدحِ صحابہؓ سے پُر ہے تو ان کی عیب جوئی و مذمت، غیبت، جھوٹ اور طعنہ بازی ہو گی جو قطعی حرام ہے۔ یہ حقوق جب تمام مسلمانوں کو حاصل ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا مصداق اوّلین ہیں۔ جب وہ معیارِ ایمان ہیں تو معیار پر تنقید نہیں کی جاتی ہے۔ 

(یہی وجہ ہے کہ منافقوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیوقوف کہا تو خدا نے ان کو بڑا بے وقوف اور بے علم کہا۔ (پارہ، 1 رکوع، 2)

سوال نمبر 658: حُرمتِ تنقید پر حدیث مرفوع صحیح توثیق شدہ پیش کریں۔

جواب: ترمذی شریف میں ارشاد نبویﷺ‏ ہے: لوگو! میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ ان کو میرے بعد طعن و تشنیع (تنقید) کا نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے دراصل میرے ساتھ اپنے بغض کی وجہ سے بغض رکھا جس نے انہیں طعن و تشنیع سے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو ناراض کیا۔ عنقریب اللہ اسے برا عذاب دے گا۔ (ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 249 و موارد الظمآن ملخص صحیح ابنِ حبان: صفحہ، 569)

اس کے پانچ راویوں کی توثیق تقریب التہذیب سے یہ ہے:

1: محمد بن یحییٰ بن عبداللہ شیخ ترمذی۔ اس کی توثیق سوال نمبر 655 میں آ گئی۔

2: یعقوب بن ابراہیم بن سعد ابو یوسف مدنی نزیل بغداد ثقہ اور نویں طبقہ کے صغار سے ہیں۔ 208ھ میں وفات پائی۔

3: عبیدہ بن ابی رائطہ المجاشعی کوفی صدوق طبقہ ثامنہ کے ہیں۔

4: عبدالرحمٰن بن زیاد، اسے ابی زیاد بھی کہتے ہیں۔ یہ ابوبکر نخعی کوفی ہیں ثقہ اور کبار ثالثہ میں سے ہیں 83ھ میں وفات ہوئی۔

5: عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیعتِ رضوان والے صحابی ہیں 75ھ میں بصرہ جا آباد ہوئے۔

سوال نمبر 659: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی ممانعت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کلام سے ثابت کریں۔

جواب: جب اصل ممانعت قرآن و سنت سے ثابت ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کامل متبع قرآن و سنت تھے تو حکماً ان کا فتویٰ بھی یہی سمجھا جائے گا۔ چونکہ مختصراً دو سالہ دورِ خلافت میں صحابی پر تنقید کا واقعہ پیش نہیں آیا لہٰذا صراحت منقول نہیں ہے۔

سوال نمبر 660: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے حرمت ثابت کریں۔

جواب: شفاء قاضی عیاضؒ میں ہے کہ صاحبزادے عبیداللہ نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی زبان کاٹنی چاہی۔ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سفارش کی تو آپؓ نے فرمایا مجھے چھوڑو میں اس کی زبان کاٹ دوں تاکہ پھر کوئی شخص رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا نہ کہے۔ (شفاء مع شرح خفا جی: جلد، 4 صفحہ، 613)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک بدوی آپؓ کے پاس لایا گیا جس نے انصار رضی اللہ عنہم کی ہجو کی تھی۔ (مگر اس نے ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ‏ کو دیکھا ہوا تھا) تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر رسول اللہﷺ کی (تھوڑی دیر کی) زیارت و صحبت کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اس بدوی کو سزا دینے میں تم سب کی طرف سے کافی تھا۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول آخری فصل) 

ابو داؤد جلد 2 صفحہ 284 پر طویل حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے احادیثِ رسولﷺ‏ ایسے ذکر کیں کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بے ادبی ہوتی تھی تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ڈانٹ کر کہا کہ اس روش سے باز آ جاؤ ورنہ میں سیدنا عمرؓ کو لکھتا ہوں۔ (وہ تمہیں سزا دیں گے) 

یہاں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بدگوئی کا جرم ہونا ثابت ہوا تو صحابیت کے مرتبہ کا لحاظ بھی معلوم ہوا۔

سوال نمبر 661: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کلام سے ممانعت ثابت کریں۔

جواب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی متبع قرآن و سنت تھے۔ الگ ایسی صراحت نظر سے نہیں گزری۔

سوال نمبر 662: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے حُرمتِ تنقید ثابت کریں۔

جواب: 1: سب سے بڑا اور صریح وہ فرمان ہے جو اہلِ شام اور محاربین کے متعلق ہے کہ ان کے حق میں بجز خیر کے کچھ نہ کہو، ہمارا ان کا اختلاف دمِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق غلط فہمی پر ہوا، انہوں نے ہم پر الزام لگایا اور ہم سے لڑے حالانکہ ہم اس سے پاک ہیں۔ اسی طرح ہم نے ان کو غلطی پر سمجھ کر ان سے جنگ کی (حالانکہ وہ اپنے خیال میں اس سے پاک ہیں) (نہج البلاغہ) حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ شامی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شیعہ سب سے برا جانتے ہیں۔ جب حضرت علی المرتضیٰؓ نے ان پر تنقید سے منع کیا تو بقیہ کی تنقید بدرجہ اولیٰ حرام ہے۔

2: اللّٰه اللّٰه فی اصحابِ نبيّكم صلى اللّٰه عليه وسلم فانه اوصىٰ بهم (رواه الطبرانی)

ترجمہ: لوگو! اپنے نبی کریمﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اللہ سے ڈرو۔ اللہ سے ڈرو (ان کی تنقید و برائی نہ کرو) کیونکہ حضور اکرمﷺ‏ نے ان کے متعلق ذکرِ خیر کی وصیت فرمائی ہے۔

صفحہ 1 از 13