حاصلِ بحث - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حاصلِ بحث

  محمد ظفر اقبال

گزشتہ تفصیل سے واضح ہوا کہ جامی کی کوئی اجتہادی بات ہم اہلِ سنت والجماعت پر حجت نہیں بن سکتی۔ 

علمائے اسلام کے نزدیک جامی کی شخصیت و عبقریت بطورِ ایک صوفی، نعت گو شاعر اور لغت و ادب کے امام کی ہے، بطورِ ایک محدث، مفسر اور فقیہ کے نہیں۔ اور اکابرِ علمائے اسلام کے نزدیک یہ بات طے ہے کہ حلت و حرمت کے مسائل میں صوفیاء کی بات شرعاً حجت نہیں، الاّ یہ کہ وہ شریعت کے موافق ہو۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ (متوفی 1024ھ) نے کیا ہی خوب ارشاد فرمایا ہے:  

عملِ صوفیہ در حل و حرمت سند نیست، ہمیں بس است کہ ما ایشان را معذور داریم و ملامت نکنیم و امرِ ایشان را بہ سجق و سبحانہ و تعالیٰ مفوض داریم اینجا قولِ امام ابوحنیفہ و امام ابویوسف و امام محمد معتبر است، نہ ابوبکر شبلی و ابوالحسن نوری 

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول، مکتوب، 266)  

صوفیہ کرام کا عمل حلت و حرمت میں سند نہیں۔ یہی کافی ہے کہ ہم ان کو معذور رکھیں اور ملامت نہ کریں، اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ اس جگہ حضرت امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا قول معتبر ہو گا، نہ کہ ابوبکر شبلی اور ابوالحسن نوری رحمہما اللہ کا عمل۔

اور امام ابنِ جوزیؒ کا یہ اصول کسی صاحبِ نظر سے پوشیدہ نہیں: 

إذا وقع فی الإسناد صوفی فاغسل یدیک منه 

(العلالۃ الناجعہ: صفحہ77) 

جب اسناد میں کسی صوفی کا نام آئے تو حدیث سے ہاتھ دھو لو۔

امامِ راشد حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ (متوفی 1377ھ) فرماتے ہیں:  

عرض یہ ہے کہ یہاں اکابرِ علمِ طریقت اور تصوف کے ائمہ عظام ہیں، علمِ ظاہر اور شریعت کے امام نہیں۔ اس کے امام حضرت امام ابوحنیفہ و امام محمد و امام ابو یوسف رحمہم اللہ اور فقہائے کرام ہیں۔ اس بارے میں ان کا قول و فعل حجت ہو گا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت جنید بغدادیؒ، حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبندیؒ، حضرت خواجہ معین الدین سنجریؒ کے اقوال اور فتاویٰ اور اعمال حجت نہ ہوں گے، اگرچہ یہ حضرات علمِ طریقت کے سب سے اونچے پہاڑ ہیں۔ لکل فن رجال۔

(مکتوباتِ شیخ الاسلام: جلد: 3 صفحہ: 225 مکتوب:89)

علامہ قاضی ابراہیم الحنفی رحمۃ اللہ (المتوفی فی حدود 1000ھ) فرماتے ہیں: 

اور جو عابد و زاہد اہلِ اجتہاد نہیں، وہ عوام میں داخل ہیں، ان کی بات کا کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں اگر ان کی بات اصول اور معتبر کتابوں کے مطابق ہو تو پھر اس وقت معتبر ہو گی۔ 

(نفس الاخبار ترجمہ مجالس الابرار: صفحہ 127 اٹھارویں مجلس: بدعت کے بیان میں)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ (متوفی 1052ھ) لکھتے ہیں: 

مذہبِ پیر حجت نیست دلیل از کتاب و سنت باید 

(اخبار الاخیار: صفحہ93) 

کسی پیر کا مسلک حجت نہیں ہوتا، دلیل کتاب اور سنت سے پیش کی جاتی ہے۔ ایک عارف نے کیا خوب کہا ہے:  

نیست حجت قول و فعلِ ہیچ پیر 

قولِ حق و فعلِ احمد را بگیر

مندرجہ بالا ارشادات و تصریحات سے واضح ہوا کہ حلت و حرمت کے مسائل میں حضراتِ صوفیاء کرام رحمہم اللہ کا قول حجت نہیں، الاّ یہ کہ وہ موافقِ شریعت ہو۔ جب حلت و حرمت میں اس سے احتجاج نہیں کر سکتے تو بابِ العقائد اور خصوصاً مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ایک صوفی کی اس بات کو کیسے قابلِ احتجاج سمجھا جا سکتا ہے جو جمہورِ علمائے امت کے خلاف ہے؟ یہاں تو صحیح حدیث بھی ناقابلِ احتجاج ہے۔

جناب احمد رضا خان صاحب بریلویؒ (متوفی 1341ھ) فرماتے ہیں:  

بابِ عقائد میں ضعاف تو در کنار، بخاری و مسلم کی صحیح حدیثیں بھی مردود ہیں، جب تک قطعی الدلالہ اور متواتر نہ ہوں۔ 

(فتاویٰ رضویہ: جلد2 صفحہ505) 

اگر بالفرض جامی شیعیت کے ساتھ متہم نہ بھی ہوتے اور ان کی کتابوں میں سبائی تدسیس و تدلیس کا ثبوت نہ بھی ہوتا تو بھی جمہورِ امت کے مقابلے میں ان کا (خطائے منکر) کا قول مردود ہوتا۔ واللہ اعلم بالصواب