مختصر یہ کہ آنحضرتﷺ کے اقوال و افعال اور خود حضرت علی المرتضیٰؓ کے اقوال سے واضح ہوا کہ بنو امیہ ایک منظور و مقبول، مظفر و منصور اور مستحسن و پسندیدہ قبیلہ ہے، اور جن روایات میں بنو امیہ کا مکروہ و مبغوض ہونا پایا جاتا ہے وہ روایات عند المحدّثین صحیح نہیں ہیں۔ اب جو ان جعلی روایات سے بنو امیہ کا مبغوض و مطرود ہونا بیان کرتا ہے وہ خود عند اللہ مبغوض و مطرود اور ملعون ہے۔ آخر میں ہم مصنف نام و نسب ہی کا لکھا ہوا ایک اقتباس پیش کر رہے ہیں، اسے چشمِ عبرت سے ملاحظہ فرمائیے:
اس تفصیلی جائزے سے ایک منصف مزاج اور ذی عقل انسان بنو امیہ کی دینی حیثیت اور مقام کا خود اندازہ کر سکتا ہے۔ اگر اب بھی کوئی شک و شبہ ذہن کے کسی گوشے میں جاگزین ہو، جبکہ ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا، تو ایسی صورت میں ان افراد کے لیے (جن کی نگاہ میں بنو امیہ مبغوض قبیلہ ہے ناقل) ہم بارگاہِ ایزدی میں یہی دعا کر سکتے ہیں:
بہ ایں بے حاصلاں یا دانشے یا مرگِ ناگہاں
(نام و نسب: صفحہ555)