شیعہ اصولِ حدیث پر ایک نظر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اصولِ حدیث پر ایک نظر

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 2

پارٹ 1 

شیعہ اصولِ حدیث پر ایک نظر:

ابتدائیہ:

اہل سنت کی طرح اہل تشیع میں بھی قرآن پاک کے بعد شریعت کا دوسرا بڑا ماخذ سنت کو ماناجاتا ہے۔ مشہور شیعہ عالم آیت اللہ مرتضیٰ مطہری سنت کی تعریف ایسے کرتے ہیں: ’’سنت سے مراد معصوم کا قول، فعل اور تائید ہے۔‘‘ 

(مجموعہ آثار شہید مطہری جلد 20صفحہ 32) 

شیعہ عقیدہ کے مطابق معصوم سے مراد ہے’’آئمہ اور انبیا معصوم ہیں گناہوں ، غلطیوں اور خطاؤں سے پاک‘‘ ( الامامۃ از شہید مطہری صفحہ 81)

شیخ صدوق لکھتے ہیں ’’ ہمارا عقیدہ ہے انبیا ، رسل ، آئمہ اور ملائکہ معصوم اور پاک ہیں‘‘ 

(الاعتقادات صفحہ:304)

شیعہ اثنا عشریہ کے عقائد اور فروع کے اختلاف سے دو فرقے ہیں۔ 

1️⃣ اخباری

2️⃣ اصولی 

شیعہ اثناعشریہ اخباری کے نمایاں عقائد میں ترکِ  تقلید مجتہد اور شیعہ کتب حدیث میں موجود تمام احادیث کو من عن تسلیم کرنا ہے۔

اور شیعہ اثنا عشریہ اصولی تقلید کے قائل اور اہل سنت کی طرح احادیث کو تحقیق کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں۔ 

یہی دوسرا فرقہ ہماری بحث کا محور رہے گا کیونکہ احادیث کی تحقیق کے لئے اصولی شیعہ نے کچھ اصول وضع کئے ہیں جن کو ہم اجمالاً بیان کریں گے۔

جس طرح اہل سنت کے ہاں صحاح ستہ کا مقام ہے ایسے ہی شیعہ اثناعشریہ کے ہاں کتبِ اربعہ ہیں۔

کتبِ اربعہ کا تعارف:

1۔ الکافی مولف محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی الرازی المتوفی ۳۲۹ ھ: ااس کے تین حصے ہیں۔

 (الف) اصولِ دین 

(ب) فروعِ دین 

(پ) روضۃ کافی۔

اس میں تقریباً سولہ ہزار احادیثِ معصومین ہیں۔ جس میں سے صحیح روایات کی تعداد 5,072ہیں، حسن 144،موثق 178، قوی 302 اور ضعیف 9,485ہیں۔

(ترتیب اسنانید الکافی صفحہ 59حصہ اول از سید آقا حسین طباطبائی)

2۔ من لا یحضرۃ الفقیہ مولف الشیخ ابو جعفر محمد بن الحسین بن موسی بن بابویہ القمی المعروف الصدوق: اس میں کل 5,998احادیث درج ہیں جن میں سے 3,943متصل السند ہیں اور 2,055مراسیل ہیں۔

(الحاشیہ علی من لا یحضرۃ الفقیہ از الشیخ بھاء الدین محمد بن حسین الحارثی الھمدانی العاملی صفحہ 20)

3۔ تہذیب الاحکام مولف الشیخ الطائفہ محمد بن الحسن بن علی ابو جعفر الطوسی متوفی 460ھ: اس کتاب میں ابواب کی تعداد 393ہے اور احادیث 13,590ہیں ۔اس کی احادیث کے متعلق شہید الثانی کہتے ہیں:’’ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس کتاب کی احادیث ،متن اور اسناد کے لحاظ سے بکثرت معلل(علت ارسال اور وقف کی بنا پر ہے) ہیں‘‘ 

( علل الحدیث فی تہذیب الاحکام ازعادل عبدالجبار ثامر الشاطی صفحہ 48)

4۔ الاستبصار فیما اختلف من الاخبار مولف الشیخ الطائفہ محمد بن الحسن بن علی ابو جعفر الطوسی:یہ کتاب تہذیب الاحکام کے بعد لکھی گئی ہے اس کی تدوین و تالیف مختلف اسلوب اپنایا گیا اور آئمہ اہل بیت کی باہم متعارض احادیث کو درج کیا گیا جو اوپر بیان کی گئیں کتب میں وارد ہوئیں ہیں ۔(الاستقصاء الاعتبار فی شرح الاستبصار از محمد بن الحسین بن الشہید ثانی صفحہ 7,8)

مصطلح الحدیث:

کتبِ شیعہ میں مردود روایات کی چھان پھٹک کے لئےشیعہ علماء اصولین نے کچھ اصطلاحات وضع کیں جو یقیناً اہل سنت کے اصولوں سے ادھار لیں گئیں مگر ان کے مطالب قدرے مختلف رکھے گے۔ شیعہ کتب میں کثرت سے پائی جانے والی مردود روایات کے لئے درج ذیل اصطلاحات استعمال کی جاتیں ہیں:

۱۔ الخبر و الحدیث:

یہ دونوں لفظ مترادف ہے اور ایک وقت میں ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔

(شرح البدایہ فی علم الدرایہ از الشہید الثانی صفحہ 6)۔ 

لیکن لفظِ حدیث کا اطلاق معصوم کی طرف کیا جاتا ہے جبکہ خبر کا اطلاق غیرِ معصوم پر ہو گا۔

(اصول الحدیث از الدکتور عبد الھادی الفضلی صفحہ 31)

۲۔ المتن: 

حدیث کے الفاظ اور معانی متن کہلاتا ہے۔

(شرح البدایہ فی علم الدرایہ از الشہید الثانی صفحہ 12) 

۳۔ السند:

سند سے مراد راویوں کا سلسلہ ہے جوکہ معصوم تک پہنچتا ہو ۔ 

(المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ 76)

احادیث کی اقسام:

(الف ) تعداد راوی کے لحاظ سے حدیث کی درج ذیل اقسام ہیں:

۱۔ المتواتر: جس کو ہر طبقے میں اتنے کثیر راویوں نے روایت کیا ہو جن کا جھوٹ بولنا عادۃً محال ہو۔ 

(شرح البدایہ فی علم الدرایہ از الشہید الثانی صفحہ 12)

۲۔ الاحاد: خبر واحد وہ ہے جو تواتر تک نہ پہنچے اور اس سے صرف ظن حاصل ہو۔

(اصول الحدیث از الدکتور عبد الھادی الفضلی صفحہ 82)

خبر واحد کی درج ذیل اقسام ہیں:

* مستفیض: جس کو ہر طبقے میں تین راویوں نے روایت کیا ہو بعض کے نزدیک دو راوی بھی کافی ہیں۔ 

(المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ 170)

حدیثِ مستفیض کو حدیثِ مشہور بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ شہیدِ اول نے بھی کہا ہے۔

 (المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ 171)

* عزیز: جس کو دو یا تین راویوں نے کسی ایک ایسے راوی سے روایت کیا ہو جو احادیث معصومین کا جمع کرنے والا مشہور ہو اور اس کے حافظے اور ثقاہت پر سب متفق ہوں۔ 

(مکتب اہل بیت میں علوم حدیث کا ارتقاء از ڈاکٹر محسن نقوی صفحہ 260)

* غریب: جس کو ایک راوی ایک سے زیادہ راویوں سے روایت کرے یا ایک سے زیادہ راوی ایک راوی سے روایت لیں۔ (المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ 187)

(ب) سند کے معتبر ہونے کے لحاظ سے درج ذیل اقسام ہیں:

۱۔ صحیح حدیث:جس کی سند متصل ہو معصوم تک اور روایت کرنے والا شیعہ امامی عادل اور ضابط ہو یا اس جیسا ہو، اور یہ اوصاف تمام طبقات کے راویوں میں پائے جاتے ہوں۔ (شرح البدایہ فی علم الدرایہ از الشہید الثانی صفحہ 21) 

۲۔ حسن حدیث:وہ حدیث جس کے تمام راوی امامی شیعہ ہوں اور عادل اور ضابط ہوں مگر ان میں سے کسی ایک کی یا ایک سے زیادہ کی عدالت ثابت نہ ہو بلکہ صرف مشہور ہو ایسی حدیث کو ’’حسن‘‘کہتے ہیں۔

 (مکتب اہل بیت میں علوم حدیث کا ارتقاء از ڈاکٹر محسن نقوی صفحہ 260)

۳۔ حدیث موثق:جس سند کے راوی شیعہ امامی تو نہ ہوں مگر علماء شیعہ نے ان کے توثیق کر دی ہو تو ایسی حدیث کو ’’موثق ‘‘ کہیں گے۔ 

(اصول الحدیث از الدکتور عبد الھادی الفضلی صفحہ108)

صفحہ 1 از 2