شیعی مراجع و مصادر نے بھی عبداللہ بن سبا کا تذکرہ کیا ہے
علی محمد الصلابیالکشی نے محمد بن قولویہ سے روایت کی ہے کہ مجھ سے سعید بن عبداللہ نے بیان کیا، اس نے کہا مجھ سے یعقوب بن یزید اور محمد بن عیسیٰ نے علی بن مہزیار سے روایت کی اور اس نے فضالہ بن ایوب ازدی سے، اس نے ابان بن عثمان سے، اس نے کہا میں نے ابو عبداللہ (جعفر صادق) کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کی لعنت ہو عبداللہ بن سبا پر، اس نے امیر المؤمنین (علی رضی اللہ عنہ) کے سلسلہ میں ربوبیت کا دعویٰ کیا۔ اللہ کی قسم امیر المؤمنین اطاعت گزار بندہ تھے، تباہی و بربادی ہو اس شخص کے لیے جو ہم پر جھوٹ باندھے، یقیناً کچھ لوگ ہمارے متعلق وہ باتیں کہتے ہیں جو ہم اپنے بارے میں نہیں کہتے، ہم اللہ کے حضور ان لوگوں سے اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں۔
(رجال الکشی: جلد 1 صفحہ 324)
یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔
(عبداللہ بن سبا الحقیقۃ المجہولۃ: محمد علی العلم: صفحہ 30)
کتاب الخصال میں قمی نے اس روایت کو نقل کیا ہے، لیکن دوسری سند سے موصولاً بیان کیا ہے، اور ’’روضات الجنات‘‘ کے مصنف نے ابنِ سباء کا تذکرہ اپنی کتاب میں الصادق المصدوق سے کیا ہے، جنھوں نے ابنِ سبا پر لعنت بھیجی ہے اور اسے کذب و تزویر، افشائے راز اور تاویل سے متہم ٹھہرایا ہے۔
(عبداللہ بن سبا: سلیمان العودۃ: صفحہ 62)
ڈاکٹر سلیمان بن العودہ نے اپنی کتاب میں ان نصوص کو ذکر کیا ہے جن سے شیعی کتب اور عبداللہ بن سبا کے ذکر سے ان کی مرویات بھری پڑی ہیں، یہ رجسٹرڈ دستاویزات ہیں جو ان متاخرین شیعہ کی تردید کرتے ہیں جو عبداللہ بن سبا سے متعلق روایات کی قلت یا ضعف کے بہانے اس کا انکار یا اس کے وجود میں تشکیک کرتے ہیں۔ (عبداللہ بن سبا: العودہ: صفحہ 62)
یقیناً عبداللہ بن سبا کی شخصیت ایک تاریخی حقیقت ہے، سنی و شیعی جدید و قدیم تمام مراجع اس پر متفق ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں، اسی طرح اکثر مستشرقین کے یہاں بھی یہ مسلم ہے جیسے جولیس ولہاؤزن، (الخوارج والشیعۃ: بولیوس فلہاوزن: صفحہ 170)
فان فولٹن، (السیادۃ العربیۃ والشیعۃ والاسرائیلیات: فان فولتن: صفحہ 80)
لیفی دیلا فیدا، (تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 312)
گولڈ زیہر، (العقیدۃ والشریعۃ الاسلامیۃ: جولد تسہیر: صفحہ 229)
رینولڈ نکلس، (تاریخ الادب الاد بی فی الجاہلیۃ و صدر الاسلام: صفحہ 235)
ڈوایٹ رونلڈسن، (عقائد الشیعۃ: صفحہ 58)
صرف تھوڑے سے مستشرقین نے ابنِ سباء کی شخصیت کو محل شک اور خرافہ قرار دیا ہے، جیسے کیتانی، برنارڈلویس، (اصول الاسماعیلیۃ: صفحہ 86)
فریڈ لنڈر۔ (تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 312)
یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم اپنے تاریخی واقعات سے متعلق ان کا اعتبار نہیں کرتے۔ جو بھی سنی اور شیعی مراجع کا استقراء کرے گا خواہ وہ جدید ہوں یا قدیم، اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ عبداللہ بن سبا کا وجود حقیقت ہے، تاریخی روایات اس کو ثابت کرتی ہیں، عقائد کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں اور حدیث، رجال، انساب، ادب اور لغت کی کتابوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ بہت سے جدید محققین اور ریسرچ اسکالرز نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ سب سے پہلے ابنِ سبا کی شخصیت کو مشکوک قرار دینے والے بعض مستشرقین ہیں، پھر اس نظریہ کی تائید اکثر جدید شیعوں نے کی اور بعض نے تو اس کے وجود ہی کا انکار کر دیا، اسی طرح اس کا شکار بعض وہ عرب معاصرین ہوئے جو مستشرقین کے افکار و خیالات کے دلدادہ ہیں، اور جدید شیعی تحریروں سے متاثر ہیں، لیکن ان سب کے پاس کوئی دلیل نہیں، صرف شک، مجرد وہم وگمان اور مفروضوں پر اپنی عمارت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 312)
جو حضرات ان سنی، شیعی اور استشراقی مراجع کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہیں جن میں ابن سبا کا تذکرہ ہے تو وہ ڈاکٹر محمد امحزون کی کتاب ’’تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ‘‘ اور ڈاکٹر سلیمان بن حمد العودۃ کی کتاب ’’عبداللّٰہ بن سبا و اثرہ فی احدث الفتنۃ فی صدر الاسلام‘‘ کا مطالعہ کریں۔