سیدنا عبد الرحمٰن بن حارثؓ کا آپ کو کوفہ جانے سے روکنا
مولانا اقبال رنگونیسیدنا عبدالرحمٰن بن حارثؓ نے بھی عرض کیا کہ آپ کوفہ کا عزم ترک کر دیں، کیونکہ وہاں عبیداللہ بن زیاد حاکمِ عراق موجود ہے اور کوفہ والے لالچی لوگ ہیں بہت ممکن ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو بلایا ہے وہی آپ کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں نکلیں۔
(تاریخِ اسلام: جلد 2 صفحہ 56 مولانا نجیب آبادی)
انہوں نے آپؓ سے کہا کہ کوفہ کے وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپؓ کے ساتھ ہیں، یاد کریں کہ وہ دولت کی لالچ میں آپؓ کے والد کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، بلکہ ان کے دشمن بن گئے تھے اور پھر وہی ہوا جو خدا کو منظور تھا ان کے بعد آپ کے بڑے بھائی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپؓ ان لوگوں کے پاس جا رہے ہیں اور یہ سمجھ کر جا رہے ہیں کہ وہ آپؓ کی حمایت کریں گے؟ جو لوگ آپؓ کی محبت کے دعوے کر رہے ہیں وہ سب آپؓ کے مخالف ہو جائیں گے۔
(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 457)
