سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی اور ثبوت کے طور پر قرآن کریم نازل ہوا اور جن لوگوں نے افواہیں پھیلائیں ان پر حد قذف (80 کوڑے) نافذ ہوئی۔ لیکن اہل تشیع مسلسل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے آئے ہیں اور اس ذات شریفہ پر بہتانات کے طومار باندھنے سے باز نہیں آتے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اگر دوبارہ زندہ ہو کر آئیں تو انھیں حد کے کوڑے ضرور لگائیں گے اور ان سے وہ انتقام لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شکلیں مسخ کر دے۔ چنانچہ عبداللہ بن شبر (عبداللہ بن محمد رضا بن محمد شبر۔ 1188 ہجری میں نجف میں پیدا ہوا۔ امامیہ اثنی عشریہ شیعوں کا سرخیل مانا جاتا ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’تفسیر القرآن الکریم‘‘ اور ’’الحق الیقین فی معرفۃ اصول الدین‘‘ مشہور ہیں۔ 1242 ہجری میں کاظمیہ میں فوت ہوا۔ (معارف الرجال لمحمد حرز الدین: جلد 2 صفحہ 9۔ الذریعۃ للطہرانی: جلد 11 صفحہ 216۔) ایرانی شیعہ نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہے:

’’صدوق نے اپنی کتاب ’’العلل‘‘ میں باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا: اے کاش! ہمارے امام قائم (مہدی) کو حمیرا (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا )مل جائے تاکہ وہ فاطمہ بنت محمد کے انتقام میں اس پر حد کے کوڑے لگائے۔‘‘(حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین: جلد 2 صفحہ 25۔) (نقل کفر کفر بناشد)

اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والا اجماعاً کافر ہے مگر آپ ان ظالموں کو دیکھتے رہیں کہ جس تہمت سے اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی اپنی کتاب میں ثابت کی ہے وہ وہی تہمت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر مسلسل لگاتے آ رہے ہیں۔ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت بھی قبول نہیں۔

اسی لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ روافض اپنے معتقدات کے مطابق اپنے حسد اور بغض کے الاؤ میں جل کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تواتر و تکرار کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے اس عقیدے کو تقیہ کے طور پر اپنے سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں، لیکن جیسے عربوں کے نامور شاعر نے کہا تھا:

وَ مَہْمَا تَکُنْ عِنْدَ امْرِیئٍ مِّنْ خَلِیْقَۃٍ

وَ إِنْ خَالَہَا تَخْفٰی عَلَی النَّاسِ تُعْلَمِ

(دیوان زہیر بن ابی سلمی: صفحہ 111)

’’جس کسی شخص کے پاس کوئی خدا داد صلاحیت ہو تو وہ اپنی طرف سے اسے چھپا رہا ہوتا ہے لیکن لوگ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔‘‘

روافض کا ایک گروہ یہ بھی کہتا ہے کہ ’’واقعہ افک کے حوالے سے جو آیات نازل ہوئیں وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر نازل نہیں ہوئیں بلکہ وہ ان کے جرم کے ثبوت کے طور پر نازل ہوئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ ام ابراہیم علیہا السلام پر جو تہمت لگائی تھی اس سے ماریہ کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر وہ آیات نازل ہوئیں۔‘‘

مجلسی نے یہ من گھڑت روایت من گھڑت سند کے ساتھ ’’بحار الانوار‘‘ میں نقل کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، محمد بن عیسیٰ نے بواسطہ حسن بن علی بن فضال ہمیں یہ حدیث سنائی کہ مجھے عبداللہ بن بکیر نے زرارہ کے واسطے سے یہ حدیث سنائی۔ اس نے کہا: میں نے ابو جعفر علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم علیہ السلام فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی موت پر شدید غمگین ہو گئے۔ عائشہ نے کہا: آپ کو اس کی موت کی وجہ سے کیوں پریشانی لاحق ہے؟ حالانکہ وہ جریج کا بیٹا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی علیہ السلام کو بھیجا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں۔ سیدنا علی علیہ السلام اس کی طرف ننگی تلوار لے کر گئے۔ جریج ایک قبطی تھا اور باغ میں رہتا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے باغ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو جریج دروازہ کھولنے کے لیے آیا۔ جب اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غصیلے چہرے کے ساتھ دیکھا تو الٹے پاؤں واپس چلا گیا اور دروازہ نہ کھولا۔ علی علیہ السلام چار دیواری پھلانگ کر باغ کے اندر چلے گئے اور اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ جب جریج کو پکڑے جانے کا خوف لاحق ہوا تو وہ کھجور کے ایک درخت پر چڑھ گیا۔ علی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے پیچھے درخت پر چڑھنے لگے۔ جب علی جریج کے قریب گئے تو جریج نے درخت کے اوپر سے چھلانگ لگا دی اس کا ستر کھل گیا۔ تب علی کو پتا چلا کہ وہ نہ تو مرد ہے اور نہ عورت۔ تب علی علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے اور کہا: اے رسول اللہ! آپ نے مجھے جس معاملے میں بھیجا ہے اس میں میرا کردار آگ میں پگھلائی گئی میخ والا ہے یا پختہ میخ والا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ پختہ میخ والا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے پاس نہ مردوں والی دیوان کوئی چیز ہے نہ عورتوں والی کوئی چیز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کے لیے تمام تعریفات ہوں جس نے ہم اہل بیت کو برائی سے محفوظ کر دیا۔

(بحار الانوار للمجلسی: جلد 76 صفحہ 103 )

اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مفید نے لکھا: ماریہ قبطیہ پر عائشہ رضی اللہ عنہما کی طرف سے بری افواہ پھیلانے والی خبر شیعہ کے نزدیک صحیح و مسلم ہے۔

(رسالۃ فیما اشکل من خبر معاویۃ للمفید: صفحہ 29)

صفحہ 1 از 5