سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحامداً و مصلیاً ارباب بصیرت و اہل فہم و فراست پر اظہر من الشمس ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر زمانے نبوت محمدیہ تک جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اللہ رب العزت کی برگزیدہ ہستیاں دنیا کی ہدایت کے لیے تشریف لائیں اور اپنے اپنے نورِ ہدایت سے عالم میں اجالا پھیلایا اور جیسا کہ حق تھا تشنگان ہدایت کو سیراب فرمایا اور طالبان فیض کو فیض پہنچایا یہاں تک کہ وہ اپنے بھٹکے ہوئے راستے سے صراطِ مستقیم پر آ گئے اور بھولے ہوؤں نے منعم حقیقی کو پہچان لیا۔ لیکن پھر بھی ان مقدس ہستیوں کو مطعون کیا گیا جہاں تک ہو سکا ان کو ایذاء رسانی کی گئی اتہام اور الزامات کا طومار ان پر باندھا گیا ان کے پاک دامن کو گالم گلوچ اور سب وشتم سے ملوث کیا گیا ایسے ہی جتنے اولیاء کرام و مشائخ عظام آج تک پیدا ہوئے ان پر بھی طعن و تشنیع کا بازار گرم کیا گیا اور کتنے جلا وطن اور شہر بدر کر دیئے گئے اور کتنوں کو بے خانما کیا گیا ؟
خود ہمارے آقا تاجدار مدینہﷺ کو ساحر کہا گیا مفتری اور کذاب کے خطاب سے یاد کیا گیا حتیٰ کہ مجنون اور پاگل بھی بنائے گئے:
وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ
(سورۃ آلِ عمران: آیت 4)
اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود اللہ جل جلالہ پر بھی اعتراض کیا گیا اس سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک ہستیاں ہیں کہ ایک گروہ نے ان کو بھی برا بھلا کہا ان کی توہین اور ان پر تبرا اور سبِ وشتم کرنے کو اپنا دین سمجھا حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ رب العزت نے جو فضیلت بخشی اور سرکار دو عالمﷺ نے ان کی جو عزت کی اور تعریف فرمائی قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ میں اس کے متعلق دفتر کا دفتر موجود ہے مگر ایک گروہ جو اپنے دریدہ دہنی سے باز نہیں آتا برابر ان پر لعن و طعن کرتا ہے۔
اوروں سے ہمیں کیا شکوہ خود ہمارے یہاں بعض ایسے حضرات موجود ہیں جو بظاہر سنی حنفی اپنے آپ کو کہتے ہیں لیکن در حقیقت ان کا مجازی شعار یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ فاسق و فاجر تھے نعوذ باللہ من ذلک مجازی شعار میں نے اس وجہ سے کہا کہ اصل میں شعار اس کو کہتے ہیں جو کھلم کھلا ہو مگر یہ طائفہ پہلے تو اہلِ بیتؓ کی محبت اور بزرگانِ دین کی مودت ظاہر کرتا ہے جب تمام لوگ اس کے دامِ پر فریب میں پھنس جاتے ہیں تب اس عقیدہ باطلہ کا زہر لوگوں میں پھیلا کر قصرِ ایمان کو تباہ و برباد کر دیا کرتا ہے العیاذ بالله ہمارے دیار میں بھی ایسے نام نہاد سنی حنفی جماعت کا وجود پیدا ہو چلا ہے اس لیے اس مسئلہ پر کچھ لکھنے کی جرأت ہوئی۔
وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ
(سورۃ البقرہ: آیت 213)
حضرات! معلوم نہیں کس دل سے یہ لوگ بد زبانی کرتے ہیں قلم لرزتا ہے اور دل دہلتا ہے کہ وہ مقدس ہستیاں جن کی شان میں تمام امت کا اتفاق ہو، الصحابة كلهم عدول (یعنی اصحابِ رسولﷺ سب عادل ہیں جن کے فضائل میں احادیثِ نبویہﷺ کا خزانہ معمور ہوا اور قرآنِ کریم جن کے ایمان اور قوت ایمان پر شاہد عدل ہو کیسے ان کی تفسیق کی جائے؟خواہ کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا صحابی کیوں نہ ہو بالخصوص جب تمام اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہو کہ کتنا ہی بڑا غوث قطب کیوں نہ ہو ایک ادنیٰ درجہ کے صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا جیسا کہ بزرگانِ دین کے مقالات گرامی قدر سے ظاہر و باہر ہے۔
چنانچہ از غوث الثقلین قدس سره منقول است که اگر در ره گزر حضرت امیرِ معاویہؓ نشنیم و گر دسم اسپ برمن افتد باعث نجات می شناسم۔
(فتاویٰ امدادیہ: جلد، 4 صفحہ، 123)
غوث الثقلین (حضرت شیخ عبد القادر قدس سرہ) سے منقول ہے کہ اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے رہ گزر میں بیٹھوں اور آپ کے گھوڑے کے سم کا غبار میرے اوپر پڑ جائے تو میں اس کو باعثِ نجات خیال کروں۔
سبحان اللہ کیا جلالت شان ہے اور سینے:
ہمام عبداللہ بن مبارکؒ سے سوال کیا گیا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ افضل ہیں یا عمرو بن عبد العزیز؟ (ان کی شان میں بس اتنا ہے کہ ان کو عمر ثانی کہا گیا) تو جواب ريا: والله ان الغبار الذی دخل فی انف فرس معاوية مع رسول اللهﷺ افضل من عمرو الف مرة۔
(مفسق معادية من الفرقة الغاوية: صفحہ: 28)
یعنی خدا کی قسم وہ غبار جو سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کے گھوڑے کی ناک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ گھسا ہے عمر بن عبد العزیزؒ بنانے سے ہزار درجہ افضل ہےاسی طرح بہت سے بزرگوں کے اقوالِ سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کی فضیلت میں منقول ہیں مگر منصف مزاج حضرات کے لیے انہی دونوں بزرگوں کی شہادت کافی ہے اب آئیے کتبِ فنِ رجال کی سیر بھی فرمائیے:
تقریب التہذیب میں ہے: معاوية بن ابی سفيان خليفة صحابی اسلم قبل الفتح وكتب الوحى۔ (حضرت امیرِ معاویہؓ بن سفیانؓ خلیفہ صحابی ہیں فتح مکہ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے اور آپ نے وحی لکھی ایک شاعر اس کے متعلق کہتا ہے:
قد كان كاتب وحيه وامينه
سند الامانة حاصل لمعاوية
یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے جس کی وجہ سے آپ کو امین ہونے کی سند حاصل ہے کہ وحی جیسا مہتم بالشان کام آپ کے سپرد کیا گیا علامہ صفی الدین اپنی کتاب خلاصہ میں تحریر فرماتے ہیں:
معاوية بن ابی سفيان بن صخر بن حرب الأموى ابو عبد الرحمٰن اسلم زمن الفتح له مائة وثلثون حديثا۔
(حضرت امیرِ معاویہؓ فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے اور آپ سے 130 حدیثیں روایت کی گئی ہیں)
تاریخ الخلفاء میں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے نبی کریمﷺ میں ہم سے 163 احادیث روایت کی ہیں اور آپ سے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً ابنِ عباس، ابنِ عمر، ابنِ زبیر، ابوالدرداء جریر المجلی، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہم اور تابعین مثلاً ابن المسیب، حمید بن عبدالرحمٰن وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین نے روایت کی ہے آپ ہوشیاری، دانائی اور بردباری میں بہت زیادہ مشہور تھے آپ کی فضیلت میں بہت زیادہ احادیث وارد ہیں آپ کا علم ضرب المثل تھا چنانچہ ابن ابی الدنیا اور ابوبکر بن ابی عالم دین نے تو آپ کے علم پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے حضرت امیرِ معاویہؓ لمبے قد کے خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے آپ کی طرف عمرؓ ہی دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ عرب کے کسریٰ ہیں نیز حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو برا نہ سمجھو جس وقت یہ تمہارے پاس سے اٹھ جائیں گے تو تم دیکھو گے کہ بہت سے سرتن سے جدا کیے جائیں گے مقری کہتے ہیں کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ کسریٰ اور ہرقل کا تو ذکر کرتے ہیں مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھول جاتے ہیں۔
(بیان الامراء ترجمک تاریخ الخلفاء: صفحہ، 207، 208)
حافظ شمس الدین ذہبی میزان الاعتدال میں ارقام فرماتے ہیں:
ولى الشام عشرين سنة وملك عشرين سنة وكان حليماً كريماً سائساً عاقلاً خليقاً للامارة كامل السود۔
سیدنا امیرِ معاویہؓ بیس سال شام کے والی اور بیس سال مالک رہے اور حلیم و کریم تھے اور بہت مدبر و منتظم تھے عقل مند تھے اور امیر ہونے کے لائق اور سرداری کے لیے کامل تھے۔
حضرات! سیدنا امیرِ معاویہؓ بہت بڑے مجتہد تھے اگر ان کی شان فقاہت اور اجتہاد بھی ملاحظہ فرمانا ہو تو بخاری اور مشکوٰۃ ملاحظہ فرمائیے یہ ابِن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ امیر المؤمنین امیرِ معاویہؓ وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں تو ابنِ عباسؓ نے فرمایا: اصاب انه فقیہ کہ معاویہؓ صائب الرائے شخص ہیں اور فقیہ ہیں اور ایک اور روایت میں ہے: دعه انه اصحاب النبیﷺ۔
(مشكوٰۃ: صفحہ، 114)
یعنی امیرِ معاویہؓ کو کچھ نہ کہو وہ تو حضورﷺ کے صحابی ہیں بخاری میں ہے:
عن حميد بن عبد الرحمٰن انه سمع معاوية بن ابی سفيان يوم عاشوراء عام حج على المنبر يقول يا اهل المدينة اين علماء کم سمعت رسول اللهﷺ يقول هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله اليكم صيامه وانا صائم فمن شاء فليصم فمن شاء فليفطر۔
(بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 268)
حمید بن عبد الرحمٰن نے معاویہؓ کو حج کے سال میں عاشورہ کے دن منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ اے اہلِ مدینہ کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسولِ اقدسﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ یہ یومِ عاشورہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض نہیں کیا البتہ میں روزہ دار ہوں پس جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے افطار کرے۔
حضرات! اس طرح سے مجمع عام میں تمام علماء کو دعوت دے کر حکمِ شرعی بیان فرمانا مجتہد ہی کی شان ہے ماوشما کا کام نہیں پھر بھی باوجود اتنے فضائل و کمالات کے فسق کا فتویٰ دینا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بدگمانی کرنا کہ اہلِ بیتؓ کے نعوذ باللہ آپ دشمن تھے حضرت علیؓ حضرت حسنؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ میں جو کچھ ہوا اور جتنے واقعات مابین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس قسم کے واقع ہوئے اور وہ محض خطاء اجتہاد پر مبنی تھے اور ہر فرد اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا نہ بغض و عناد کی وجہ سے بالخصوص جب تینوں حضرات میں صلح ہو گئی جیسا کہ تمہید شرح عقائد میں ہے:
لا يجرز اللعن على المعاويه لان عليا صالح معه وفيه ان الحسن بن علی صالح معه ولو كان مستحقا للعن لكان لا يجرز صلح معه۔
(الفرقۃ الغاویۃ: صفحہ، 8 شرح عقائد: صفحہ، 116)
یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ پر لعن جائز نہیں کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کر لی تھی اور اسی حاشیہ میں ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی آپ سے مصالحت فرما لی تھی اور اگر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ لعن کے مستحق ہوتے تو البتہ ان کے ساتھ صلح جائز نہ ہوتی۔ وفی الانوار لا يجوز الطعن فی المعاويه لانه من كبار الصحابه۔ (حوالابالا)
حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں طعن جائز نہیں کیونکہ وہ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں علامہ نوی شارح مسلم رقمطراز ہیں: وما معاویہ فهو من العدول الفضلاء والصحابه والنجباء۔
(نووی شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 272 وتتمہ مظاہر حق، جلد، 4 صفحہ، 82)
یعنی سیدنا امیرِ معاویہؓ فضلاءِ عادلین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اخیار میں سے ہیں صاحبِ تاریخ الخلفاء چند واقعات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے چونکہ ارشاد فرمایا ہے کہ جب ہمارے اصحاب کا ذکر کیا جائے تو خاموش ہو جاؤ اس لیے مجال دم زدنی نہیں۔
(بیان الامر: صفحہ، 185)
بہر کیف اگر ذاتی عداوت ان باہمی لڑائیوں کا سبب ہوتی تو صلح مشکل ہوتی اس کے علاوہ بہیقی اور ابنِ عساکر نے ہشام کے والد سے روایت کی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ سالانہ وظیفہ ملا کرتا تھا۔ (بیان الامراء: صفحہ، 205)
کیا کوئی خلیفہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے حاشا و کلا ان کا آپس میں ذاتی عناد نہیں تھا اس لیے کسی پر بھی تان جائز نہیں بلکہ اہلِ سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے جیسا کہ علامہ نووی اور علامہ نسفی تحریر فرماتے ہیں:
واما الحروب التی جرت بين الصحابه فكانت لكل طائفه شبهه اعتقد تسريب انفسها وكلهم عدول فما متاولون في حروبهم وغيرها ولم يخرج شیء من ذلك احدا من العداله لانهم مجتهدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتهاد كما يختلف المجتهدون فبعدهم فی مسائل من الدعاء وغيرها ولم يلزم من ذلك نقص احد منهم۔
(نووی: جلد، 2 صفحہ، 272 مظاہر حق: جلد، 4 صفحہ، 82)
اور بہرحال وہ لڑائیاں جو مابینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واقع ہوئیں پس ہر گروہ کے لیے شبہ تھا جس کے سبب سے ہر شخص نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا اور وہ سب کے سب عادل ہیں اور اپنے حروب وغیرہ میں متاول ہیں اور ان اشیاء میں سے کوئی شے عدالت سے ان کو نہیں نکالتی اس واسطے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مجتہد ہیں مسائل میں اختلاف محلِ اجتہاد میں فرمایا ہے جیسا کہ ائمہ مجتہدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد دعا وغیرہ کے مسائل میں مختلف ہوئے ہیں اور ان اختلاف سے اس میں سے کسی کا نقص نہیں لازم آتا حضورِ اکرمﷺ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق فرماتے ہیں:
عن عبد الرحمٰن ابن ابی اميره عن النَّبِیﷺ انه قال لمعاويه اللهم اجعله ھادیا مھديا واهدى به رواه الترمذی۔
(مشکوٰۃ شريف: صفحہ، 571)
ابو عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ اے اللہ معاویہؓ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا بنا دے اور معاویہؓ کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت دے اس روایت کے تحت علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ ولا ارتياب ان دعائهﷺ فمن كان هذا حالته كيف يرتاب فی حقه۔
(حاشیہ حوالہ بالا)
یعنی اس میں شک نہیں ہے کہ جو دعا رسول اللہﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے فرمائی وہ عند اللہ مقبول ہے پس جس کی یہ حالت ہو کہ حضورِ اکرمﷺ اس کے حق میں دعا فرمائیں اور وہ مقبول بھی ہو تو اس کے حق میں کیوں کر شک کیا جائے؟
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنا عقیدہ قائم کرنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نظر میں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات
-
شیعوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑنے پر بہت زیادہ اکسایا لیکن آپ معاہدہ پر قائم رہے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوتﷺ
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خال المؤمنين
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق غیر صحیح اور باطل روایات
-
اموی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد خلافت میں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قسمت کا ستارہ طلوع ہونے لگا
-
دمشق، بعلبک اور بلقاء پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت
-
ایک عظیم قافلہ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آمد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے محاذ پر
-
خلافت عثمانی میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بری محاذ پر
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت طلب کرتے ہیں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو قبرص کے مال غنیمت کا نگران مقرر فرماتے ہیں
-
کوفہ کے فتنہ بازوں کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط
-
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حکام سے مشورہ اور اس بارے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے خط کا جواب دیتے ہیں
-
معرکہ جمل کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفین کی طرف روانگی
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے اور اہل شام کو لعن طعن کرنے سے منع کرتے
-
معرکہ صفین کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلاحیتوں کے انداز تبدیل ہو گئے
-
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں صلح
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنتے ہیں
-
ثانیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی اس صلح کے اہم اسباب
-
کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بارہ خلفاء میں ہوتا ہے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات
-
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور ان کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض
-
علماء کی طرف سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف اور اموی دور کا خیر القرون میں شامل ہونا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
-
صلح کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تعلقات
-
قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف
-
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
-
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ندامت
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا امور مملکت کی براہ راست نگرانی کرنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت مرکزی دواوین
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں امن و امان کے استحکام پر حریص ہونا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جھگڑا
-
بنو امیہ کے شاعر کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نصیحت
-
کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول صحیح ہے کہ کریم انسان خوشی سے جھوما کرتا ہے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا صالحین کی موت سے متاثر ہونا
-
قضاء کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قسطنطنیہ
-
قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ ان کی بیماری کی شدت اور وفات
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق اہل علم کے تعریفی کلمات
-
فسادی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جلا وطنی گزارتے ہیں
-
سیرت سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا
-
سیرت سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق غیر صحیح اور باطل روایات
-
باطل احادیث
-
عہد رسول اللہﷺ میں بنو امیہ کا کردار
-
ایک عظیم قافلہ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آمد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے محاذ پر
-
حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کی فتوحات
-
خلافت عثمانی میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بری محاذ پر
-
غزوہ قبرص
-
فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا مؤقف
-
کوفہ کے فتنہ بازوں کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط
-
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حکام سے مشورہ اور اس بارے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے
-
صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص کس طرح لیا جائے
-
معرکہ صفین 37 ھ قبل از معرکہ کے واقعات
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے خط کا جواب دیتے ہیں
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ شام سے جنگ کرنے کی تیاری کرتے ہیں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفین کی طرف روانگی
-
جنگ کا دوسرا دن
-
تحکیم کی تجویز
-
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر اس کے اثرات
-
شاہ روم کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف
-
تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان
-
ان جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف
-
معرکہ صفین کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلاحیتوں کے انداز تبدیل ہو گئے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنتے ہیں
-
حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں
-
اولا صلح کے اہم مراحل
-
ثانیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی اس صلح کے اہم اسباب
-
ثالثا صلح کی شرائط
-
بیعت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اہم صفاتاور علماء کی طرف سے ان کی تعریف
-
عہد خلافت راشدہ کا اختتام
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہم صفات
-
حلم و حوصلہ اور عفو و درگزر
-
ذہانت و فطانت اور حیلہ گری
-
عقل و دانش اور معاملہ فہمی کی قدرت
-
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور ان کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض
-
ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ
-
سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ
-
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ
-
تواضع اور پرہیز گاری
-
اللہ کے ڈر سے رونا
-
علماء کی طرف سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف اور اموی دور کا خیر القرون میں شامل ہونا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
-
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ
-
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
-
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
-
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
-
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ
-
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
-
محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی رضی اللہ عنہما و دیگران کے اقوال
-
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
-
ابن ابو العز حنفی رحمہ اللہ علیہ
-
قاضی ابن العربی المالکی رحمہ اللہ علیہ
-
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ
-
امام ذہبی رحمہ اللہ
-
ابن کثیر رحمہ اللہ
-
ابن خلدون رحمہ اللہ علیہ
-
خلیفہ کی ذمہ داریاں
-
دولت امویہ کا دار الحکومت اور شام کے فضائل میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اہل حل و عقد
-
اہل حل و عقد کے مفہوم و معنیٰ کے بارے میں فقہاء کی آراء
-
شوریٰ عہد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں آزادی رائے
-
ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ علیہ
-
فرزدق معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہجو کرتے ہوئے کہتا ہے
-
ام سنان بنت خیثمہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں
-
شیوخ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے بیٹوں اور خاص طور سے بنو ہاشم کی بڑی شخصیات کے ساتھ احسان پر مبنی رویہ
-
صلح کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تعلقات
-
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ
-
کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبروں پر امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی کھلی اجازت دے رکھی تھی
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا جانا
-
قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف
-
قومی معارضہ 41، 50ھ
-
فعلی معارضہ
-
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
-
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مؤقف
-
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ندامت
-
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا امور مملکت کی براہ راست نگرانی کرنا
-
روزانہ مجلس
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت مرکزی دواوین
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں امن و امان کے استحکام پر حریص ہونا
-
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہل عراق کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے آگاہی
-
بازنطینیوں کے ہاں گرفتار مسلمان قیدی کا واقعہ
-
کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض پیروکاروں کو نگرانی میں رکھنا
-
معاویہ رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جھگڑا
-
میں اس کا تم سے زیادہ حق دار ہوں
-
یہ نہ کہہ کہ میرا گھر بصرہ میں ہے بلکہ یہ کہہ کہ بصرہ میرے گھر میں ہے
-
مجھے معلوم تھا کہ اس کا اس قدر زیادہ کھانا اسے بیمار کر دے گا
-
آپ میرے لقمہ میں بال دیکھ رہے ہیں
-
آپ لباس سے نہیں بلکہ اس میں ملبوس شخص سے مخاطب ہیں
-
کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول صحیح ہے کہ کریم انسان خوشی سے جھوما کرتا ہے
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قرضوں کی ادائیگی
-
لوگوں کی ضروریات کی تکمیل
-
علمی دلچسپی
-
شعر و لغت
-
تجرباتی علوم
-
خوارج عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں
-
کوفہ میں خوارج کی تحریکیں
-
بصرہ میں خوارج کی تحاریک
-
ثالثاً: اہم دروس و عبر اور فوائد
-
خراج
-
الصوافی
-
نفقات عامہ
-
حکومت کی طرف سے زراعت کا اہتمام
-
اندرونی اور بیرونی تجارت
-
صنعت و حرفت
-
بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں
-
لوگوں کے دل جیتنے اور اپنے حمایتی پیدا کرنے کے لیے مال خرچ کرنے میں وسعت
-
امویوں کے شاہانہ طرز زندگی
-
خلفاء کا قضاء سے الگ ہونا
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے قاضیوں کے نام
-
قضاء کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں پولیس کا نظام
-
پولیس عراق میں
-
پولیس دوسرے صوبوں میں
-
پولیس کی ذمہ داریاں
-
کچھ دیگر قوتیں اور ادارے اور ان کا پولیس کے ساتھ تعلق
-
گورنرز اور انتظامیہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں
-
بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر
-
بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء
-
مدینہ نبویہ
-
مدینہ منورہ کے گورنر
-
مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات (58 یا 59ھ)
-
مرض الموت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رونا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ان کے ورثاء کے لیے وصیت کرنا
-
کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ سے شام منتقل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟
-
مکہ مکرمہ
-
طائف کے گورنر
-
فتوحات دولت اسلامیہ
-
بیزنطی حکومت کے خلاف تحریک جہاد
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قسطنطنیہ
-
قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی
-
قسطنطنیہ کا پہلا محاصرہ
-
قسطنطنیہ کا دوسرا محاصرہ
-
دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات
-
عقبہ بن نافع رحمہ اللہ علیہ اور فتح افریقہ
-
دولت امویہ کے مشرقی حصہ میں فتوحات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
-
خراسان، سجستان اور ماوراء النہر کی فتوحات
-
حکم بن عمرو غفاری رضہ اللہ عنہ کا تقرر
-
عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات 57ھ
-
فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ
-
اسلامی فتوحات کی تحریک کی تنظیم و تنسیق میں شوریٰ کا کردار
-
قیادت کی مرکزیت اور امداد
-
جاسوس اور ڈاک کا اہتمام
-
بَری حدود کی حفاظت کا اہتمام
-
بحری بیڑے اور بحری حدود کا اہتمام
-
دیوان جند اور دیوان عطاء کا اہتمام و انصرام
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی فتوحات پر علمی اور اجتماعی اقتصادی اثرات
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں کرامات مجاہدین
-
بیعت وفود
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما
-
ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو وصیت
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں
-
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب ایک خبر جو صحیح نہیں ہے
-
مقدمہ
-
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہما
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق اہل علم کے تعریفی کلمات
-
روایت حدیث
-
حضرت عبداللہ بن عامر بن کریز اموی رضی اللہ عنہ
-
کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد)
-
کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس شرط کی خلاف ورزی کی کہ وہ اپنے بعد مسئلہ خلافت شوری پر چھوڑ دیں گے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرنا
-
سیدنا ابن عباس کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گدھا کہنا
-
معاویہ بن یزید کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خطبہ
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک وفد کا یا رسول الله کہنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جہنم میں تالا لگے تابوت میں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غیر اسلام پر فوت ہوں گے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنا
-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے جہنم کی بددعا کرنا
-
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خوش ہونا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنا چاہتے تھے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کامال کی خاطر سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کو قید کرنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قبر سے سیاہ غبار نکلنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا گروہ جہنم میں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ کا اعتراض
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا شراب پینا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خوش ہونا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلم خواتین کو لونڈیاں بنایا گیا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے فحش الفاظ استعمال کرنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بدھ کے دن جمعہ پڑھانا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دلوانا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ بڑھ جانا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرنے والوں کو پکڑوانا
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا امارت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو فرعون کی حکومت سے تشبیہ دینا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت گمراہی کی بیعت
-
امام احمدرحمہ اللہ علیہ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ گمراہ ہیں
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نماز میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے بددعا کرنا
-
امام اعمش رحمہ اللہ علیہ کی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بددعا کرنا
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کلیجہ چبانے والی کا بیٹا کہنا
-
حجر بن عدی کے قتل پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اللہ کا غضب ناک ہونا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عیدین کے لئے اذان دلوانا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو شہید کروانا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا
-
سیدنا عماررضی اللہ عنہ کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ظالم کہنا
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو نصیحت
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلسل بارہ سال سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر محض رشتہ داری کی بناء پر بنایا تھا
-
کیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گدھا کہا؟
-
مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف
-
کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد)
-
کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟
-
حدیث ولایت
-
اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے جب کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی عبادت و سعادت ہے اور اگر کثرت افواج کی وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جنگ جمل و جنگ صفین میں بنفس نفیس کیوں ذوالفقار کو نیام سے نکال کر میدان میں اترے کیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ شجاع تھے؟ یا حکومت وقت کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تعلقات اچھے نہ تھے کہ سیف اللہ کا خطاب حضرت خالد بن ولیدؓ کو مل گیا نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے تاریخ طبری سے جو دو مکالمے مولانا شبلیؒ نے کتاب الفاروق صفحہ 285 پر نقل کیے ہیں پیش نظر رہیں انصاف سے یہ دونوں مکالمے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مابین ہیں پڑھ کر فیصلہ صادر فرمائیں۔
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اول ملوک
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ اور قاضی ثناءاللہ پانی پتی
-
کیا جاریہ بن قدامہ نے خلیفہ راشد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معاذاللہ کتیا کہا تھا اس کا جواب
-
کاتب وحی خال المؤمنین حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اردو ڈاکیومینٹری