Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حامداً و مصلیاً ارباب بصیرت و اہل فہم و فراست پر اظہر من الشمس ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر زمانے نبوت محمدیہ تک جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اللہ رب العزت کی برگزیدہ ہستیاں دنیا کی ہدایت کے لیے تشریف لائیں اور اپنے اپنے نورِ ہدایت سے عالم میں اجالا پھیلایا اور جیسا کہ حق تھا تشنگان ہدایت کو سیراب فرمایا اور طالبان فیض کو فیض پہنچایا یہاں تک کہ وہ اپنے بھٹکے ہوئے راستے سے صراطِ مستقیم پر آ گئے اور بھولے ہوؤں نے منعم حقیقی کو پہچان لیا۔ لیکن پھر بھی ان مقدس ہستیوں کو مطعون کیا گیا جہاں تک ہو سکا ان کو ایذاء رسانی کی گئی اتہام اور الزامات کا طومار ان پر باندھا گیا ان کے پاک دامن کو گالم گلوچ اور سب وشتم سے ملوث کیا گیا ایسے ہی جتنے اولیاء کرام و مشائخ عظام آج تک پیدا ہوئے ان پر بھی طعن و تشنیع کا بازار گرم کیا گیا اور کتنے جلا وطن اور شہر بدر کر دیئے گئے اور کتنوں کو بے خانما کیا گیا ؟

خود ہمارے آقا تاجدار مدینہﷺ کو ساحر کہا گیا مفتری اور کذاب کے خطاب سے یاد کیا گیا حتیٰ کہ مجنون اور پاگل بھی بنائے گئے:

وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ 

(سورۃ آلِ عمران: آیت 4)

اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود اللہ جل جلالہ پر بھی اعتراض کیا گیا اس سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک ہستیاں ہیں کہ ایک گروہ نے ان کو بھی برا بھلا کہا ان کی توہین اور ان پر تبرا اور سبِ وشتم کرنے کو اپنا دین سمجھا حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ رب العزت نے جو فضیلت بخشی اور سرکار دو عالمﷺ نے ان کی جو عزت کی اور تعریف فرمائی قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ میں اس کے متعلق دفتر کا دفتر موجود ہے مگر ایک گروہ جو اپنے دریدہ دہنی سے باز نہیں آتا برابر ان پر لعن و طعن کرتا ہے۔

اوروں سے ہمیں کیا شکوہ خود ہمارے یہاں بعض ایسے حضرات موجود ہیں جو بظاہر سنی حنفی اپنے آپ کو کہتے ہیں لیکن در حقیقت ان کا مجازی شعار یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ فاسق و فاجر تھے نعوذ باللہ من ذلک مجازی شعار میں نے اس وجہ سے کہا کہ اصل میں شعار اس کو کہتے ہیں جو کھلم کھلا ہو مگر یہ طائفہ پہلے تو اہلِ بیتؓ کی محبت اور بزرگانِ دین کی مودت ظاہر کرتا ہے جب تمام لوگ اس کے دامِ پر فریب میں پھنس جاتے ہیں تب اس عقیدہ باطلہ کا زہر لوگوں میں پھیلا کر قصرِ ایمان کو تباہ و برباد کر دیا کرتا ہے العیاذ بالله ہمارے دیار میں بھی ایسے نام نہاد سنی حنفی جماعت کا وجود پیدا ہو چلا ہے اس لیے اس مسئلہ پر کچھ لکھنے کی جرأت ہوئی۔

وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ 

(سورۃ البقرہ: آیت 213)

حضرات! معلوم نہیں کس دل سے یہ لوگ بد زبانی کرتے ہیں قلم لرزتا ہے اور دل دہلتا ہے کہ وہ مقدس ہستیاں جن کی شان میں تمام امت کا اتفاق ہو، الصحابة كلهم عدول (یعنی اصحابِ رسولﷺ سب عادل ہیں جن کے فضائل میں احادیثِ نبویہﷺ کا خزانہ معمور ہوا اور قرآنِ کریم جن کے ایمان اور قوت ایمان پر شاہد عدل ہو کیسے ان کی تفسیق کی جائے؟خواہ کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا صحابی کیوں نہ ہو بالخصوص جب تمام اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہو کہ کتنا ہی بڑا غوث قطب کیوں نہ ہو ایک ادنیٰ درجہ کے صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا جیسا کہ بزرگانِ دین کے مقالات گرامی قدر سے ظاہر و باہر ہے۔

چنانچہ از غوث الثقلین قدس سره منقول است که اگر در ره گزر حضرت امیرِ معاویہؓ نشنیم و گر دسم اسپ برمن افتد باعث نجات می شناسم۔ 

(فتاویٰ امدادیہ: جلد، 4 صفحہ، 123)

غوث الثقلین (حضرت شیخ عبد القادر قدس سرہ) سے منقول ہے کہ اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے رہ گزر میں بیٹھوں اور آپ کے گھوڑے کے سم کا غبار میرے اوپر پڑ جائے تو میں اس کو باعثِ نجات خیال کروں۔

سبحان اللہ کیا جلالت شان ہے اور سینے:

ہمام عبداللہ بن مبارکؒ سے سوال کیا گیا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ افضل ہیں یا عمرو بن عبد العزیز؟ (ان کی شان میں بس اتنا ہے کہ ان کو عمر ثانی کہا گیا) تو جواب ريا: والله ان الغبار الذی دخل فی انف فرس معاوية مع رسول اللهﷺ افضل من عمرو الف مرة۔

(مفسق معادية من الفرقة الغاوية: صفحہ: 28)

 یعنی خدا کی قسم وہ غبار جو سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کے گھوڑے کی ناک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ گھسا ہے عمر بن عبد العزیزؒ بنانے سے ہزار درجہ افضل ہےاسی طرح بہت سے بزرگوں کے اقوالِ سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کی فضیلت میں منقول ہیں مگر منصف مزاج حضرات کے لیے انہی دونوں بزرگوں کی شہادت کافی ہے اب آئیے کتبِ فنِ رجال کی سیر بھی فرمائیے:

تقریب التہذیب میں ہے: معاوية بن ابی سفيان خليفة صحابی اسلم قبل الفتح وكتب الوحى۔ (حضرت امیرِ معاویہؓ بن سفیانؓ خلیفہ صحابی ہیں فتح مکہ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے اور آپ نے وحی لکھی ایک شاعر اس کے متعلق کہتا ہے: 

قد كان كاتب وحيه وامينه

سند الامانة حاصل لمعاوية

یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے جس کی وجہ سے آپ کو امین ہونے کی سند حاصل ہے کہ وحی جیسا مہتم بالشان کام آپ کے سپرد کیا گیا علامہ صفی الدین اپنی کتاب خلاصہ میں تحریر فرماتے ہیں:

معاوية بن ابی سفيان بن صخر بن حرب الأموى ابو عبد الرحمٰن اسلم زمن الفتح له مائة وثلثون حديثا۔

(حضرت امیرِ معاویہؓ فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے اور آپ سے 130 حدیثیں روایت کی گئی ہیں)

تاریخ الخلفاء میں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے نبی کریمﷺ میں ہم سے 163 احادیث روایت کی ہیں اور آپ سے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً ابنِ عباس، ابنِ عمر، ابنِ زبیر، ابوالدرداء جریر المجلی، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہم اور تابعین مثلاً ابن المسیب، حمید بن عبدالرحمٰن وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین نے روایت کی ہے آپ ہوشیاری، دانائی اور بردباری میں بہت زیادہ مشہور تھے آپ کی فضیلت میں بہت زیادہ احادیث وارد ہیں آپ کا علم ضرب المثل تھا چنانچہ ابن ابی الدنیا اور ابوبکر بن ابی عالم دین نے تو آپ کے علم پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے حضرت امیرِ معاویہؓ لمبے قد کے خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے آپ کی طرف عمرؓ ہی دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ عرب کے کسریٰ ہیں نیز حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو برا نہ سمجھو جس وقت یہ تمہارے پاس سے اٹھ جائیں گے تو تم دیکھو گے کہ بہت سے سرتن سے جدا کیے جائیں گے مقری کہتے ہیں کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ کسریٰ اور ہرقل کا تو ذکر کرتے ہیں مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھول جاتے ہیں۔

(بیان الامراء ترجمک تاریخ الخلفاء: صفحہ، 207، 208)

حافظ شمس الدین ذہبی میزان الاعتدال میں ارقام فرماتے ہیں:

ولى الشام عشرين سنة وملك عشرين سنة وكان حليماً كريماً سائساً عاقلاً خليقاً للامارة كامل السود۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ بیس سال شام کے والی اور بیس سال مالک رہے اور حلیم و کریم تھے اور بہت مدبر و منتظم تھے عقل مند تھے اور امیر ہونے کے لائق اور سرداری کے لیے کامل تھے۔  

حضرات! سیدنا امیرِ معاویہؓ بہت بڑے مجتہد تھے اگر ان کی شان فقاہت اور اجتہاد بھی ملاحظہ فرمانا ہو تو بخاری اور مشکوٰۃ ملاحظہ فرمائیے یہ ابِن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ امیر المؤمنین امیرِ معاویہؓ وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں تو ابنِ عباسؓ نے فرمایا: اصاب انه فقیہ کہ معاویہؓ صائب الرائے شخص ہیں اور فقیہ ہیں اور ایک اور روایت میں ہے: دعه انه اصحاب النبیﷺ۔ 

(مشكوٰۃ: صفحہ، 114)

یعنی امیرِ معاویہؓ کو کچھ نہ کہو وہ تو حضورﷺ کے صحابی ہیں بخاری میں ہے:

عن حميد بن عبد الرحمٰن انه سمع معاوية بن ابی سفيان يوم عاشوراء عام حج على المنبر يقول يا اهل المدينة اين علماء کم سمعت رسول اللهﷺ يقول هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله اليكم صيامه وانا صائم فمن شاء فليصم فمن شاء فليفطر۔

(بخاری شریف: جلد، 1 صفحہ، 268)

حمید بن عبد الرحمٰن نے معاویہؓ کو حج کے سال میں عاشورہ کے دن منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ اے اہلِ مدینہ کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسولِ اقدسﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ یہ یومِ عاشورہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض نہیں کیا البتہ میں روزہ دار ہوں پس جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے افطار کرے۔

حضرات! اس طرح سے مجمع عام میں تمام علماء کو دعوت دے کر حکمِ شرعی بیان فرمانا مجتہد ہی کی شان ہے ماوشما کا کام نہیں پھر بھی باوجود اتنے فضائل و کمالات کے فسق کا فتویٰ دینا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بدگمانی کرنا کہ اہلِ بیتؓ کے نعوذ باللہ آپ دشمن تھے حضرت علیؓ حضرت حسنؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ میں جو کچھ ہوا اور جتنے واقعات مابین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس قسم کے واقع ہوئے اور وہ محض خطاء اجتہاد پر مبنی تھے اور ہر فرد اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا نہ بغض و عناد کی وجہ سے بالخصوص جب تینوں حضرات میں صلح ہو گئی جیسا کہ تمہید شرح عقائد میں ہے:

لا يجرز اللعن على المعاويه لان عليا صالح معه وفيه ان الحسن بن علی صالح معه ولو كان مستحقا للعن لكان لا يجرز صلح معه۔

(الفرقۃ الغاویۃ: صفحہ، 8 شرح عقائد: صفحہ، 116)

یعنی حضرت امیرِ معاویہؓ پر لعن جائز نہیں کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کر لی تھی اور اسی حاشیہ میں ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی آپ سے مصالحت فرما لی تھی اور اگر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ لعن کے مستحق ہوتے تو البتہ ان کے ساتھ صلح جائز نہ ہوتی۔ وفی الانوار لا يجوز الطعن فی المعاويه لانه من كبار الصحابه۔ (حوالابالا)

حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں طعن جائز نہیں کیونکہ وہ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں علامہ نوی شارح مسلم رقمطراز ہیں: وما معاویہ فهو من العدول الفضلاء والصحابه والنجباء۔

(نووی شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 272 وتتمہ مظاہر حق، جلد، 4 صفحہ، 82)

یعنی سیدنا امیرِ معاویہؓ فضلاءِ عادلین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اخیار میں سے ہیں صاحبِ تاریخ الخلفاء چند واقعات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے چونکہ ارشاد فرمایا ہے کہ جب ہمارے اصحاب کا ذکر کیا جائے تو خاموش ہو جاؤ اس لیے مجال دم زدنی نہیں۔

(بیان الامر: صفحہ، 185) 

بہر کیف اگر ذاتی عداوت ان باہمی لڑائیوں کا سبب ہوتی تو صلح مشکل ہوتی اس کے علاوہ بہیقی اور ابنِ عساکر نے ہشام کے والد سے روایت کی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ سالانہ وظیفہ ملا کرتا تھا۔ (بیان الامراء: صفحہ، 205)

کیا کوئی خلیفہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے حاشا و کلا ان کا آپس میں ذاتی عناد نہیں تھا اس لیے کسی پر بھی تان جائز نہیں بلکہ اہلِ سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے جیسا کہ علامہ نووی اور علامہ نسفی تحریر فرماتے ہیں:

واما الحروب التی جرت بين الصحابه فكانت لكل طائفه شبهه اعتقد تسريب انفسها وكلهم عدول فما متاولون في حروبهم وغيرها ولم يخرج شیء من ذلك احدا من العداله لانهم مجتهدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتهاد كما يختلف المجتهدون فبعدهم فی مسائل من الدعاء وغيرها ولم يلزم من ذلك نقص احد منهم۔

(نووی: جلد، 2 صفحہ، 272 مظاہر حق: جلد، 4 صفحہ، 82)

اور بہرحال وہ لڑائیاں جو مابینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واقع ہوئیں پس ہر گروہ کے لیے شبہ تھا جس کے سبب سے ہر شخص نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا اور وہ سب کے سب عادل ہیں اور اپنے حروب وغیرہ میں متاول ہیں اور ان اشیاء میں سے کوئی شے عدالت سے ان کو نہیں نکالتی اس واسطے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مجتہد ہیں مسائل میں اختلاف محلِ اجتہاد میں فرمایا ہے جیسا کہ ائمہ مجتہدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد دعا وغیرہ کے مسائل میں مختلف ہوئے ہیں اور ان اختلاف سے اس میں سے کسی کا نقص نہیں لازم آتا حضورِ اکرمﷺ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق فرماتے ہیں:

عن عبد الرحمٰن ابن ابی اميره عن النَّبِیﷺ انه قال لمعاويه اللهم اجعله ھادیا مھديا واهدى به رواه الترمذی۔

(مشکوٰۃ شريف: صفحہ، 571)

ابو عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ اے اللہ معاویہؓ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا بنا دے اور معاویہؓ کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت دے اس روایت کے تحت علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ ولا ارتياب ان دعائهﷺ فمن كان هذا حالته كيف يرتاب فی حقه۔

(حاشیہ حوالہ بالا) 

یعنی اس میں شک نہیں ہے کہ جو دعا رسول اللہﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے لیے فرمائی وہ عند اللہ مقبول ہے پس جس کی یہ حالت ہو کہ حضورِ اکرمﷺ اس کے حق میں دعا فرمائیں اور وہ مقبول بھی ہو تو اس کے حق میں کیوں کر شک کیا جائے؟