سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو قبرص کے مال غنیمت کا نگران مقرر فرماتے ہیں
علی محمد الصلابیسیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو لوگ مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا مال اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: ’’اس مال غنیمت میں خمس کے علاوہ میرا کوئی حق نہیں ہے اور خمس بھی تم پر ہی تقسیم کر دیا جائے گا۔‘‘ عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: معاویہ! اللہ سے ڈریں اور مال غنیمت کو صحیح طور سے خرچ کریں اور کسی شخص کو بھی اس کے حصہ سے زیادہ نہ دیں۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں اس کی تقسیم کا معاملہ تمہارے سپرد کرتا ہوں اس لیے کہ شام میں تم سے افضل شخص اور کوئی نہیں ہے۔ اسے اس کے حق داروں میں تم تقسیم کرو اور اللہ سے ڈرتے رہنا، چنانچہ اسے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے جملہ حق داروں میں تقسیم کر دیا۔ اس کے لیے ابودرداء اور ابو امامہ رضی اللہ عنہما نے ان کی معاونت کی۔
(الریاض النضرۃ: صفحہ 561)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا شمار مدرسہ شامیہ کے مؤسسین میں ہوتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معلم اور قاضی بنا کر شام بھیجا تھا۔ انہوں نے کچھ دیر حمص میں قیام کیا پھر فلسطین منتقل ہو کر منصب قضاء پر فائز ہوئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فلسطین میں یہ منصب سنبھالنے والے پہلے خوش نصیب تھے اس دوران آپ لوگوں کو قرآن حکیم کی تعلیم بھی دیا کرتے اور زندگی کے آخری ایام تک یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ آپ نے فلسطین میں ہی وفات پائی۔
(عبادۃ بن صام: صحابی کبیر و فاتح مجاہد: صفحہ 84)
سیدنا عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ نے خلافت راشدہ کی علمی، تربیتی اور جہادی سیاست کے نفاذ میں بڑا اہم کردار ادا کیا، آپ کا شمار اہل زہد و تقویٰ میں ہوتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حمص تشریف آوری پر لوگوں سے فرمایا: ’’خبردار! دنیا ایک عارضی سامان ہے اور یقیناً آخرت سچا وعدہ ہے، خبردار دنیا کے بھی بیٹے ہیں اور آخرت کے بھی بیٹے ہیں۔ تم آخرت کے بیٹے بنو دنیا کے بیٹے مت بنو۔ اس لیے کہ ہر ماں کے بیٹے اسی کے پیچھے جاتے ہیں۔‘‘
(الاکتفاء، الکلاعی: جلد 3 صفحہ 310)