Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عبداللہ بن عامر بن کریز اموی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب یہ ہے:

عبداللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی القرشی عبشمی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 91)

حضرت امیرِ معاویہؓ کی ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں 4ھ میں ہوئی۔

(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 272)

اور جب 7ھ میں آپ نے عمرۃ القضاء کیا اور مکہ میں داخل ہوئے تو سیدنا معاویہؓ کی خدمت میں حضرت عبداللہ بن عامرؓ کو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحنیک فرمائی اور فرمایا: کیا یہ سلیمہ کا بیٹا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: یہ تو ہم سے بہت زیادہ مشابہ ہے، اور پھر ان کے منہ میں تھتکارنے اور حفاظت کی دعا کرنے لگے۔ اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب مبارک کو نگلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بچہ سیراب کرنے والا ہو گا۔ اس کا یہ اثر تھا کہ جہاں بھی کھدائی کرتے پانی نکل آتا ۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 19، تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 273، اسد الغابۃ: جلد 3 صفحہ 293، (3031)

آپ 29ھ بمطابق 649ء میں بصرہ کے گورنر مقرر کیے گئے، اس سے قبل کسی انتظامی یا عسکری منصب پر مقرر نہیں ہوئے تھے۔ آپ سیدنا عثمانؓ کے ماموں زاد بھائی تھے کیوں کہ آپ کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ تھیں جو عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی والدہ بنو سلیم سے تھیں۔

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 31، تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 272)

جس وقت بصرہ کے گورنر مقرر کیے گئے اس وقت ان کی عمر چوبیس یا پچیس سال تھی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 91)

سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت تک آپ بصرہ کے گورنر رہے۔ اس موقع پر سیدنا معاویہؓ نے بہت بڑا لشکر تیار کیا، اور آپ کے پاس جو مال و متاع تھا سب لے کر مکہ روانہ ہوئے۔ وہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور وہاں سے بصرہ واپس آ گئے، جنگ جمل میں شرکت کی اور جنگ صفین میں شریک نہ ہوئے، لیکن قلقشندی نے بیان کیا ہے کہ آپؓ تحکیم میں حضرت معاویہؓ کے ساتھ تھے۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 128)

 حضرت معاویہؓ کے دورِ خلافت میں تین سال تک بصرہ کے گورنر رہے، پھر معزول ہوئے، اور مدینہ طیبہ میں اقامت اختیار کر لی اور وہیں 57ھ میں وفات پائی۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 21)

اور ابن قتیبہ کی روایت کے مطابق آپ کی وفات 59ھ میں مکہ میں ہوئی اور عرفات میں مدفون ہوئے۔

(المعارف لا بن قتیبۃ: صفحہ 321)

ابن سعیدؒ نے آپ کی مدح سرائی کرتے ہوئے فرمایا: عبداللہ انتہائی شریف، سخی اور کریم انسان تھے، آپ کے خوب مال و اولاد تھی، آپ تعمیرات اور آبادکاری کے رسیا تھے۔

 (مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 129)

حافظ ابن حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: 

حضرت عبداللہ بن عامرؓ انتہائی سخی اور کریم اور مبارک تھے جری اور بہادر تھے۔

(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 282) 

اہل بصرہ میں سے فیاض ترین شمار کیے جاتے تھے۔

(العقد الفرید: جلد 1 صفحہ 293، 294)

مسلمانوں میں فیاض ترین تھے۔

(صبح الاعشی فی صناعۃ الانشاء: أبو العباس القلقشندي: جلد 1 صفحہ 450، 451)

 فتوحات میں حضرت عبداللہ بن عامرؓ کا بہت بہترین اثر رہا، آپ نے مکمل طور پر اہل فارس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جب کہ قدیم فارسی امید کی آخری رمق کو ختم کرنے میں اس وقت کامیاب ہو گئے جب ان کے آخری بادشاہ یزدگرد بن شہریار بن کسریٰ اور رستم کے بھائی خرزاد مہر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے، جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف فارسی حزب اختلاف کی قیادت سنبھال رکھی تھی۔ 

انتظامی اور عسکری امور میں مہارت کے ساتھ ساتھ حضرت عبداللہ بن عامرؓ اسلامی معارف و علوم کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی روایت کی ہے۔ ابن قتیبہ کا بیان ہے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے مگر کتب ستہ میں آپؓ سے کوئی روایت نہیں ہے۔

(المعارف: صفحہ 321)

حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے جو حدیث روایت کی ہے اس کو ابن قانع اور ابن مندہ نے مصعب زبیری کی سند سے عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من قتل دون مالہ فہو شہید۔

(الحاکم فی المستدرک: جلد 3 صفحہ 639) اس کی سند ضعیف ہے لیکن اس موضوع سے متعلق دیگر و اردشدہ روایات سے اس کو تقویت مل جاتی ہے۔)

’’جو اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔‘‘