سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حکام سے مشورہ اور اس بارے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے باغی عناصر کی طرف سے کھڑے کیے گئے فتنہ کا مختلف وسائل و اسالیب کے ساتھ مقابلہ کیا، اس دوران آپ نے پوری کوشش کی کہ اہل فتنہ کے اصل اغراض و مقاصد سے آگاہی حاصل کی جائے۔ مذاکرات کے ذریعے شورش پسندوں اور سرکشی اختیار کرنے والوں کے خلاف اتمام حجت کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کر لیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ نے مشورہ کے لیے مندرجہ ذیل حکام کو اپنے پاس بلایا: عبداللہ بن عامر، معاویہ بن ابو سفیان، عمرو بن العاص، عبداللہ بن سعد اور سعید بن العاص رضی اللہ عنہم، یہ سب لوگ مشورہ کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہوئے۔ سب حضرات نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا: آپ اپنے سپہ سالاروں کو حکم دیں کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کا انتظام کریں۔ میں اہل شام کو قابو میں رکھنے کا ذمہ لیتا ہوں۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجلاس میں شریک تمام لوگوں کی آراء و تجاویز سن لیں تو آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: میں نے تمہاری آراء سن لیں، ہر آنے والے واقعہ کا ایک دروازہ ہوتا ہے جس سے وہ آتا ہے۔ اس امت کے لیے جس حادثہ کا خوف ہے وہ آ کر رہے گا۔ اگر اس کا دروازہ بند بھی کر دیا جائے تو اسے بزور کھول دیا جائے گا مگر میں اسے نرمی سے بند کروں گا۔ البتہ حدود اللہ میں کسی سے کوئی نرمی نہ ہو گی۔ اگر یہ دروازہ بزور بازو کھولا گیا تو پھر مجھ پر کسی کی حجت باقی نہ رہے گی۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں کی بھلائی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ فتنہ کی چکی چلنے والی ہے اگر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس حالت میں فوت ہو گیا کہ اس نے چکی کو حرکت نہ دی تو اس کے لیے بشارت ہے۔ تم لوگ واپس جا کر لوگوں میں سکون پیدا کرو، ان کے حقوق ادا کرو، ان کی کوتاہیوں سے درگزر کرو اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کوئی مداہنت نہ کرو۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 351)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں پر سختی نہ کی جائے۔ نہ انہیں قید کیا جائے اور نہ کسی کو قتل کیا جائے اور یہ کہ ان کے ساتھ اچھائی اور نرمی والا معاملہ کیا جائے۔
(خلافۃ عثمان از ڈاکٹر سلمیٰ: صفحہ 77)
سیدنا عثمانؓ نے اپنے عمال سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں لوٹ جائیں اور اس فتنہ کا اسی انداز سے مقابلہ کریں جس کا ان کے سامنے اعلان کیا گیا ہے۔ ایسا فتنہ جسے صاحب بصیرت آتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
(الخلفاء الراشدون از خالدی: صفحہ 151)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام روانگی سے پہلے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: امیر المومنین! آپ میرے ساتھ شام تشریف لے چلیں قبل اس کے کہ ایسے امور و واقعات آپ پر ہجوم کر آئیں جن کا آپ سامنا نہ کر سکیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کو کسی بھی چیز کے بدلے میں نہیں بیچ سکتا۔ چاہے اس کے بدلے میری شاہ رگ ہی کیوں نہ کاٹ دی جائے۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: پھر میں آپ کے لیے شام سے لشکر بھیج دیتا ہوں۔ وہ متوقع خطرات کا مقابلہ کرنے، آپ اور اہل مدینہ کا دفاع کرنے کے لیے مدینہ میں قیام کرے گا۔ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس لشکر کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائیوں کا رزق کم نہیں کر سکتا اور نہ میں اہل ہجرت اور اہل نصرت کو مشکلات میں ہی ڈال سکتا ہوں۔ سیدنا امیر معاویہؓ گویا ہوئے: امیر المومنین! یا تو آپ کو اچانک قتل کر دیا جائے گا یا آپ سے جنگ کی جائے گی۔ اس پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’حسبی اللّٰه و نعم الوکیل‘‘ ’’میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 353)
پھر وہی ہوا جس کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ توقع کر رہے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرنے اور آخر کار انہیں قتل کر دینے کے ارادہ سے اہل فتنہ کے جتھے آنا شروع ہو گئے مگر مختلف صوبوں سے آنے والے ان باغیوں میں شام کی کوئی جماعت شامل نہیں تھی۔
(عبداللہ بن سبا از عودۃ صفحہ 152 )