مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف

  مولانا مہر محمد

صفحہ 1 از 13

شیعہ مذہب کا آغاز و تعارف

اسلام جب اپنے محسنین تلامذہ نبوت (شاگردانِ رسولﷺ)، خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے بام عروج (بلند مقام) پر پہنچا،معلوم کرّہِ ارضی کے چپہ چپہ پر چھا گیا۔ بڑی بڑی متمدن فارس و روم کی حکومتیں پیوندِ خاک ہو گئیں تو یہود و مجوس منافقانہ اسلام میں داخل ہوئے اور حسد و نفاق کی وجہ سے اسلام سے انتقام کی ٹھانی۔ ان کا سرغنہ صنعاء یمن کا یہودی عالم عبداللہ ابن سباء تھا۔ جو صحابہؓ دشمنی، تعلیمِ نبوتﷺ سے بیزاری، خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین فاتحینِ اسلام کی کردار کشی اور ملی منافرت پھیلانے میں ابنِ ابی رئیس المنافقین کا پورا وارث و جانشین تھا۔ اسی (عبداللہ ابن سباء یہودی) نے حب اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پر فریب نعرے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرایا۔ دورِ مرتضویؓ میں شدید خونریزیاں کرائیں۔ اسی کے پیروکار ابنِ ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، اتحادِ ملت کے دشمن اسی کے حواریوں نے سبطِ پیغمبر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت و بیعت کر لینے کی وجہ سے”مذل المؤمنین مسود المسلمین“ مومنوں کو رو سیاہ کرنے والے اور ان کی ناک کٹوانے والے القابات سے نوازا۔ (جلاء العیون) 
(شیعہ کتاب رجال کشی: صفحہ،71 پر اسی عبداللہ ابنِ سباء کے حالات میں لکھا ہے کہ ”اہلِ علم کا بیان ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا۔ پھر (منافقانہ طور پر) اسلام قبول کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کیا۔ وہ یہودیت کے زمانے میں غلو کر کے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کا وصی (جانشین) کہتا تھا تو مسلمان ہو کر اس نے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وصی ہونے کا عقیدہ نکالا، یہ پہلا شخص ہے جس نے سیدنا علیؓ کی امامت کا فرض ہونا مشہور کیا، اور سب سے پہلے اس نے آپ کے دشمنوں سے تبراء کیا اور اسی نے ان کی مخالفت کی، اور ان (خلفاء ثلاثہؓ) کو کافر قرار دیا۔اسی لیے مخالفینِ شیعہ کہتے ہیں کہ مذہبِ شیعہ کی اصل یہودیت سے ماخوذ ہے“)
اسی بدبخت گروہ نے سیدہ ریحانہ بتولؓ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر غداری سے شہید کیا اور قافلہ اھل بیتؓ سے بد دعائیں لے کر رونا پیٹنا اپنا مذہب بنا لیا۔ عبداللہ ابن سباء اور اس کی پیروکار ذرّیت کے یہ اسلام سوز مسلم کش کارنامے تاریخ کی سب معتبر کتابوں کے علاوہ شیعہ کی علم اسماء الرجال کی کتابوں میں صراحت سے موجود ہیں۔
اس نے اپنی پُر تقیہ خفیہ تحریک سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیتؓ کے قتل کا ہی کام نہ لیا بلکہ اسلام کے اساسی عقائد پر تیشہ چلایا۔ سیدنا علی المرتضٰیؓ کو رب باور کروایا، یا علی مشکل کشاء اور یا علی مدد کے نعرے اسی کا نتیجہ ہیں۔ امامت کا عقیدہ ایجاد کر کے نبوتﷺ کا صفایا کیا قرآن میں تحریف اور کمی بیشی کا نظریہ ایجاد کر کے اسلام کی جڑ کاٹ دی۔ سرمایہ نبوت، تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معاذ اللہ منافق غاصب اور بے ایمان کہہ کر پیغمبر کی ناکامی اور اسلام کے جھٹلانے کا برملا اعلان کیا۔ امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن ازواجِ پیغمبرﷺ اور بناتِ طاہرات رضی اللہ عنھن اور آپﷺ کے سب سسرالی اور خاندانی رشتوں کی عظمت کا انکار کر کے مقامِ اہلبیتؓ کے نظریے کو تہس نہس کر دیا۔ 
عالم اسلام کے مشہور مفکر مولانا منظور احمد نعمانیؒ ”اسلام میں شیعت کا آغاز“ کے عنوان میں عبداللہ ابن سباء کے تعارف میں فرماتے ہیں: 
اس خونی فضاء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے آپؓ بلاشبہ خلیفہ برحق تھے اس وقت کوئی دوسری شخصیت نہیں تھی جو اس عظیم منصب کے لیے قابلِ ترجیح ہوتی لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے نتیجہ میں امتِ مسلمہ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی اور نوبت باہم جنگ و قتال کی بھی آئی۔ جمل اور صفین کی دو جنگیں ہوئی۔ عبداللہ ابن سباء کا پورا گروہ، جس کی اچھی خاصی تعداد ہو گئی تھی، سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اس زمانہ اور اس فضا میں اس کو پورا موقع ملا کہ لشکر کے بے علم اور کم فہم عوام کو سیدنا علیؓ کی محبت اور عقیدت کے عنوان سے غلو کی گمراہی میں مبتلا کرے۔ یہاں تک کہ اس نے کچھ سادہ لوح کو وہی سبق پڑھایا جو پولوس نے عیسائیوں کو پڑھایا تھا اور ان کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ حضرت علیؓ اس دنیا میں خدا کا روپ ہیں اور ان کے قلب میں خداوندی روح موجود ہے اور گویا وہی خدا ہیں۔ کچھ احمقوں کے کان میں یہ بھی پھونکا کہ اللہ نے نبوت اور رسالت کے لیے دراصل سیدنا علیؓ بن ابی طالب کو منتخب کیا تھا وہی اس کے اہل اور مستحق ہیں اور حاملِ وحی فرشتے نے جبرائیل امین علیہ السلام کو ان کے پاس بھیجا تھا لیکن ان کو اشتباہ (شبہ) ہو گیا وہ غلطی سے وحی لے کر محمدﷺ بن عبداللہ کے پاس پہنچ گئے۔ استغفر اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ 
(حاشیہ: یہ بات بلفظہ اور من و عن تو ہمیں معلوم نہیں کہ شیعہ کی کس کتاب میں ہے تاہم شیعہ قاضی نور اللہ شوستری نے اپنی کتاب "مجالس المؤمنین" میں بعض شیعوں کا یہ عقیدہ نقل کیا ہے۔ غلط الامین فجاوزھا عن حیدر کہ جبرائیل علیہ السلام نے غلطی کی کہ وحی و شریعت حیدر کے بجائے محمدﷺ تک پہنچا دی۔ بطورِ تقیہ اس کفریہ قول کو چھپا دیا گیا ہے، برملا کہتے اور لکھتے نہیں، ورنہ عقیدہ ہر امامی اثناء عشری شیعہ کا یہی ہے کیونکہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافق اور شیعانِ علی کو مؤمن کہتے ہیں، معجزہ رسولﷺ قرآن کو محرف (تبدیل شدہ) بلا امام ناقابلِ عمل اور بے حجت کہتے ہیں۔ کتاب نہج البلاغہ کو مقدس اور واجب العمل جانتے ہیں۔ خاص رسول اللہﷺ کی طرف منسوب تمام چیزوں سے نفرت و تبراء کرتے ہیں ۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے تمام چیزوں سے محبت کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کی تعلیم و ہدایت سے پانچ صحابہ کرامؓ کو بھی مومن و جنتی نہیں مانتے۔ سیدنا علیؓ کی نسبت سے لاتعداد لوگوں کو مؤمن و جنتی کہتے ہیں۔ یعنی نبوت کو حضور اکرمﷺ سے کاٹ کر سیدنا علیؓ کو نبی و ہادی ماننا چاہیے۔)
صفحہ 1 از 13