شعر و لغت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شعر و لغت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شعر کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے اور انہوں نے حکومت کے سیاسی ابلاغی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ وہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کی شعر و شاعری، اس کی معرفت اور شعری ذوق پر تربیت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے زیاد کو لکھا کہ اپنے بیٹے کو میرے پاس بھیجیں، جب وہ سیدنا معاویہؓ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے جو سوال بھی کیا اس نے اس کا اطمینان بخش جواب دیا، مگر جب اس سے شعر و شاعری کے بارے سوال کیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ اس پر سیدنا معاویہؓ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: امیر المؤمنین! مجھے اپنے سینہ میں کلام الرحمٰن کے ساتھ شیطانی کلام جمع کرنا ناپسند ہے، یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جنگ صفین کے دن راہِ فرار اختیار کرنے سے مجھے صرف ابن اطنابہ کے ان اشعار نے روکا تھا:

ابت لی عفتی و ابی بلائی و اخذی الحمد بالثمن الربیح

و اعطائی علی الاعدام مالی و اقدامی علی البطل المشیح

و قولی کلما جشأت و جاشت مکانک تحمدی او تستریحی

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 426)

نیز سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے:

ترجمہ: جہالت و حماقت کو قتل کرنے والی حلم جیسی کوئی چیز نہیں ہے، بردبار انسان اس کے ساتھ جہالت کو ختم کیا کرتا ہے، کسی کے خلاف حماقت نہ کر اگرچہ تو غصے سے بھرا ہوا ہو۔ اس لیے کہ برائی و قباحت قابل ملامت ہوا کرتی ہے، کسی گناہ کی وجہ سے اپنے بھائی سے قطع تعلقی نہ کرنا کریم(معزز) انسان گناہ معاف کر دیا کرتا ہے۔‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت سارے اشعار زبانی یاد تھے، ایک دن ان کی مجلس میں مشہور عربی شاعر ابن ابو محجن ثقفی حاضر ہوا تو آپ نے اس سے فرمایا: تمہارا باپ وہ ہے جو کہتا ہے:

اذا مت فادفنی إلی جنب کرمۃ تروی عظامی بعد موتی عروقہا

و لا تدفننی بالفلاۃ فإننی اخاف اذا ما مت ان لا اذوقہا

ترجمہ: ’’جب میں مر جاؤں تو مجھے انگور کی بیل کے پہلو میں دفن کرنا اس کی جڑیں میری موت کے بعد میری ہڈیوں کو راحت پہنچائیں گی۔ اور مجھے بیابان میں دفن نہ کرنا اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد اسے چکھ نہیں سکوں گا۔‘‘

اس پر ابن ابی محجن نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ان سے اچھے اشعار ذکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: وہ کون سے ہیں؟ اس نے کہا: وہ یہ ہیں:

لا تسئل الناس مالی و کثرتہ و سائل القـوم ما حزمی و ما خلقی

القوم اعلم أنی من سراتہم اذا تطیش ید الرعدیدۃ الفرق

قد ارکب الہول مسدولا عساکرہ و اکتم السر فیہ ضربۃ العنق

’’لوگوں سے میرے مال اور اس کی کثرت کے بارے میں سوال نہ کر ان سے میری ہوشیاری، دوراندیشی اور میرے اخلاق کے بارے میں سوال کر، میری قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ میرا شمار اس کے سرداروں میں ہوتا ہے۔ جب ڈرپوک اور بزدل کا ہاتھ لرزنے لگتا ہے۔ جب ہولناکی ہر طرف اپنے لشکر پھیلا دے تو اس پر سوار ہو جاتا ہوں اور میں وہ راز چھپا لیتا ہوں جس میں گردن کٹ جایا کرتی ہے۔‘‘

شاعر مسکین دارمی کا شمار سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کے مقربین میں ہوتا تھا، ایک دفعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں عطارد بن حاجب سے پوچھا: خوبرو اور فصیح اللسان دارمی کا کیا ہوا؟ تو اس نے اسے اچھے الفاظ سے یاد کیا۔ انہوں نے اس سے فرمایا: اسے اس امر سے مطلع کر دے کہ میں نے اس کے لیے وظیفہ مقرر کر دیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے علاقہ میں مقیم رہے اور اگر چاہے تو ہمارے پاس چلا آئے۔ اس کا وظیفہ اس کے پاس پہنچتا رہے گا اور اسے یہ بھی خوش خبری دینا کہ میں نے اس کی قوم کے چار ہزار لوگوں کے لیے وظائف مقرر کیے ہیں۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 20 ،39 ،40) 

اسی شاعر نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا تھا:

إلیک امیر المؤمنین رحلتہا تثیر القطا لیلا و ہن ہجود

علی الطائر المیمون و الجد صاعد لکل اناس طائر و جدود

اذا المنبر الغربی خلی مکانہ فان امیر المؤمنین یزید

ترجمہ: ’’امیر المؤمنین اس کے کوچ کرنے کو دیکھو وہ رات کے وقت سوئے ہوئے بھٹ تیتروں کو جگا دیتا ہے، بابرکت پرندے پر اور نصیب بلند ہوتا رہے، سب لوگوں کے اعمال بھی ہوتے ہیں اور نصیب بھی، مغربی منبر نے اپنی جگہ خالی کر دی، بے شک امیر المؤمنین یزید ہے۔‘‘

(الشعر و الشعراء لابن قتیبۃ: جلد 1 صفحہ 544)

کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسکین دارمی کو یزید کی بیعت کے بارے میں قصیدہ لکھنے کا حکم دیا، جب اس نے بنو امیہ اور دیگر معززین کی موجودگی میں اپنا قصیدہ پڑھا تو ان سب لوگوں نے اس کی تائید کی، اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید نے اسے بھاری انعام سے نوازا۔

(الاغانی للاصفہانی نقلا عن الحیاۃ العلمیۃ فی العراق: صفحہ 115)

مسکین دارمیؒ کا شمار عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔ اس کے خوبصورت اشعار میں سے چند اشعار:

ناری و نار الجار واحدۃ و الیہ قبلی تنزل القدر

ما ضر جارا لی اجاورہ ان لا یکون لبابہ ستر

اعمی اذا ما جارتی برزت حتی یعیب جارتی الخدر

ترجمہ: ’’میری اور میرے ہمسائے کی آگ ایک ہی ہے، ہنڈیا مجھ سے پہلے اس کے پاس رکھی جاتی ہے، میرے پڑوسی کے لیے یہ بات ضرر رساں نہیں ہے کہ اس کے دروازے پر پردہ نہیں ہے۔ جب میری ہمسائی ظاہر ہوتی ہے تو میں اندھا ہو جاتا ہوں یہاں تک کہ پردہ اسے چھپا لے۔‘‘

(الشعر و الشعراء: جلد 1 صفحہ 545)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اعرابی غلطی کو انتہائی ناپسند کیا کرتے تھے، جب والی عراق زیاد بن ابیہ نے اپنے بیٹے کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو اس نے ان سے گفتگو کرتے وقت اعرابی غلطیاں کیں، اس پر انہوں نے زیاد کو لکھا: تمہارا بیٹا اسی طرح ہے جس طرح تم نے بیان کیا، لیکن اس کی زبان کو درست کریں۔

(البیان و التبین: جلد 2 صفحہ 210)

جب ایک آدمی نے زیاد کے سامنے وراثت کا مقدمہ پیش کرتے وقت یہ کہا: ’’ان ابونا مات و إن اخینا وثب علی مال ابانا فاکلہ‘‘ تو زیاد نے اس سے کہا: تیرے ضائع شدہ مال نے تیرا اتنا نقصان نہیں کیا جتنا نقصان تو نے اپنی زبان کو ضائع کر کے کیا۔

صفحہ 1 از 2