شعر و لغت
علی محمد الصلابیسیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شعر کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے اور انہوں نے حکومت کے سیاسی ابلاغی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ وہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کی شعر و شاعری، اس کی معرفت اور شعری ذوق پر تربیت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے زیاد کو لکھا کہ اپنے بیٹے کو میرے پاس بھیجیں، جب وہ سیدنا معاویہؓ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے جو سوال بھی کیا اس نے اس کا اطمینان بخش جواب دیا، مگر جب اس سے شعر و شاعری کے بارے سوال کیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ اس پر سیدنا معاویہؓ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: امیر المؤمنین! مجھے اپنے سینہ میں کلام الرحمٰن کے ساتھ شیطانی کلام جمع کرنا ناپسند ہے، یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جنگ صفین کے دن راہِ فرار اختیار کرنے سے مجھے صرف ابن اطنابہ کے ان اشعار نے روکا تھا:
ابت لی عفتی و ابی بلائی و اخذی الحمد بالثمن الربیح
و اعطائی علی الاعدام مالی و اقدامی علی البطل المشیح
و قولی کلما جشأت و جاشت مکانک تحمدی او تستریحی
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 426)
نیز سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے:
ترجمہ: جہالت و حماقت کو قتل کرنے والی حلم جیسی کوئی چیز نہیں ہے، بردبار انسان اس کے ساتھ جہالت کو ختم کیا کرتا ہے، کسی کے خلاف حماقت نہ کر اگرچہ تو غصے سے بھرا ہوا ہو۔ اس لیے کہ برائی و قباحت قابل ملامت ہوا کرتی ہے، کسی گناہ کی وجہ سے اپنے بھائی سے قطع تعلقی نہ کرنا کریم(معزز) انسان گناہ معاف کر دیا کرتا ہے۔‘‘
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت سارے اشعار زبانی یاد تھے، ایک دن ان کی مجلس میں مشہور عربی شاعر ابن ابو محجن ثقفی حاضر ہوا تو آپ نے اس سے فرمایا: تمہارا باپ وہ ہے جو کہتا ہے:
اذا مت فادفنی إلی جنب کرمۃ تروی عظامی بعد موتی عروقہا
و لا تدفننی بالفلاۃ فإننی اخاف اذا ما مت ان لا اذوقہا
ترجمہ: ’’جب میں مر جاؤں تو مجھے انگور کی بیل کے پہلو میں دفن کرنا اس کی جڑیں میری موت کے بعد میری ہڈیوں کو راحت پہنچائیں گی۔ اور مجھے بیابان میں دفن نہ کرنا اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد اسے چکھ نہیں سکوں گا۔‘‘
اس پر ابن ابی محجن نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ان سے اچھے اشعار ذکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: وہ کون سے ہیں؟ اس نے کہا: وہ یہ ہیں:
لا تسئل الناس مالی و کثرتہ و سائل القـوم ما حزمی و ما خلقی
القوم اعلم أنی من سراتہم اذا تطیش ید الرعدیدۃ الفرق
قد ارکب الہول مسدولا عساکرہ و اکتم السر فیہ ضربۃ العنق
’’لوگوں سے میرے مال اور اس کی کثرت کے بارے میں سوال نہ کر ان سے میری ہوشیاری، دوراندیشی اور میرے اخلاق کے بارے میں سوال کر، میری قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ میرا شمار اس کے سرداروں میں ہوتا ہے۔ جب ڈرپوک اور بزدل کا ہاتھ لرزنے لگتا ہے۔ جب ہولناکی ہر طرف اپنے لشکر پھیلا دے تو اس پر سوار ہو جاتا ہوں اور میں وہ راز چھپا لیتا ہوں جس میں گردن کٹ جایا کرتی ہے۔‘‘
شاعر مسکین دارمی کا شمار سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کے مقربین میں ہوتا تھا، ایک دفعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں عطارد بن حاجب سے پوچھا: خوبرو اور فصیح اللسان دارمی کا کیا ہوا؟ تو اس نے اسے اچھے الفاظ سے یاد کیا۔ انہوں نے اس سے فرمایا: اسے اس امر سے مطلع کر دے کہ میں نے اس کے لیے وظیفہ مقرر کر دیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے علاقہ میں مقیم رہے اور اگر چاہے تو ہمارے پاس چلا آئے۔ اس کا وظیفہ اس کے پاس پہنچتا رہے گا اور اسے یہ بھی خوش خبری دینا کہ میں نے اس کی قوم کے چار ہزار لوگوں کے لیے وظائف مقرر کیے ہیں۔
(تاریخ دمشق: صفحہ 20 ،39 ،40)
اسی شاعر نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا تھا:
إلیک امیر المؤمنین رحلتہا تثیر القطا لیلا و ہن ہجود
علی الطائر المیمون و الجد صاعد لکل اناس طائر و جدود
اذا المنبر الغربی خلی مکانہ فان امیر المؤمنین یزید
ترجمہ: ’’امیر المؤمنین اس کے کوچ کرنے کو دیکھو وہ رات کے وقت سوئے ہوئے بھٹ تیتروں کو جگا دیتا ہے، بابرکت پرندے پر اور نصیب بلند ہوتا رہے، سب لوگوں کے اعمال بھی ہوتے ہیں اور نصیب بھی، مغربی منبر نے اپنی جگہ خالی کر دی، بے شک امیر المؤمنین یزید ہے۔‘‘
(الشعر و الشعراء لابن قتیبۃ: جلد 1 صفحہ 544)
کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسکین دارمی کو یزید کی بیعت کے بارے میں قصیدہ لکھنے کا حکم دیا، جب اس نے بنو امیہ اور دیگر معززین کی موجودگی میں اپنا قصیدہ پڑھا تو ان سب لوگوں نے اس کی تائید کی، اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید نے اسے بھاری انعام سے نوازا۔
(الاغانی للاصفہانی نقلا عن الحیاۃ العلمیۃ فی العراق: صفحہ 115)
مسکین دارمیؒ کا شمار عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔ اس کے خوبصورت اشعار میں سے چند اشعار:
ناری و نار الجار واحدۃ و الیہ قبلی تنزل القدر
ما ضر جارا لی اجاورہ ان لا یکون لبابہ ستر
اعمی اذا ما جارتی برزت حتی یعیب جارتی الخدر
ترجمہ: ’’میری اور میرے ہمسائے کی آگ ایک ہی ہے، ہنڈیا مجھ سے پہلے اس کے پاس رکھی جاتی ہے، میرے پڑوسی کے لیے یہ بات ضرر رساں نہیں ہے کہ اس کے دروازے پر پردہ نہیں ہے۔ جب میری ہمسائی ظاہر ہوتی ہے تو میں اندھا ہو جاتا ہوں یہاں تک کہ پردہ اسے چھپا لے۔‘‘
(الشعر و الشعراء: جلد 1 صفحہ 545)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اعرابی غلطی کو انتہائی ناپسند کیا کرتے تھے، جب والی عراق زیاد بن ابیہ نے اپنے بیٹے کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو اس نے ان سے گفتگو کرتے وقت اعرابی غلطیاں کیں، اس پر انہوں نے زیاد کو لکھا: تمہارا بیٹا اسی طرح ہے جس طرح تم نے بیان کیا، لیکن اس کی زبان کو درست کریں۔
(البیان و التبین: جلد 2 صفحہ 210)
جب ایک آدمی نے زیاد کے سامنے وراثت کا مقدمہ پیش کرتے وقت یہ کہا: ’’ان ابونا مات و إن اخینا وثب علی مال ابانا فاکلہ‘‘ تو زیاد نے اس سے کہا: تیرے ضائع شدہ مال نے تیرا اتنا نقصان نہیں کیا جتنا نقصان تو نے اپنی زبان کو ضائع کر کے کیا۔
(ایضاً: جلد 2 صفحہ 222)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کے دوران بصرہ میں بہت سارے نحوی علماء کا ظہور ہوا، ابو الاسود الدؤلی وہ پہلا نحوی عالم ہے جس نے بصرہ میں علم نحو کی بنیاد رکھی اور عربی زبان کے قواعد وضع کیے، اس زمانہ میں سرداران قوم اور رؤساء اعرابی غلطیوں کے مرتکب ہوا کرتے تھے، لہٰذا انہوں نے فاعل، مفعول، مضاف، رفع، نصب، جر اور جزم
(طبقات النحویین: زبیدی: صفحہ 21۔ الحیاۃ العلمیۃ فی العراق: صفحہ 104) دینے والے حروف کے ابواب وضع کیے اور علم نحو میں ایک کتاب لکھی۔
(الشعر و الشعراء: جلد 7 صفحہ 729)
ابو الاسود نحوی ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے، ان کے چند مشہور اشعار ملاحظہ فرمائیں:
یا ایہا الرجل المعلم غیرہ
ہلا لنفسک کان ذا التعلیم
تصف الدواء لذی السقام و ذی الضنا
کیما یصح بہ و انت سقیم
و نراک تصلح بالرشاد عقولنا
ابدا و انت من الرشاد عدیم
ابدأ بنفسک فانہہا عن غیہا
فإذا انتہت عنہ فانت حکیم
فہناک یسمع ما تقول و یہتدی
بالقول منک و ینفع التعلیم
لا تنہ عن خلق و تاتی مثلہ
عار علیک اذا فعلت عظیم
(الادب الاسلامی و تأریخہ: عابد الہاشمی: جلد 2۔صفحہ 17)
’’دوسروں کو تعلیم دینے والے یہ تعلیم تیرے لیے کیوں نہیں ہے؟ تو بیماروں اور کمزوروں کو تندرست کرنے کے لیے علاج تجویز کرتا ہے جبکہ تو خود بیمار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمیشہ ہماری عقلوں کی رشد و ہدایت سے اصلاح کرتا رہتا ہے، حالانکہ تو خود اس سے محروم ہے۔ پہلے اپنے آپ سے آغاز کر اور اپنی ذات کو گمراہی سے روک جب تیری ذات اس سے باز آ جائے گی تو تو حکیم کہلائے گا۔ اس وقت تیری بات سنی بھی جائے گی اور اس سے راہنمائی بھی لی جائے گی اور پھر تعلیم بھی نفع بخش ہو گی۔ دوسروں کو اس کام سے منع نہ کر جو تو خود کیا کرتا ہے اگر تو یہ کام کرے گا تو یہ تیرے لیے باعث عار ہو گا۔‘‘
زہد کے بارے میں اس کے چند اشعار ہیں:
و اذا طلبت من الحوائج حاجۃ
فادع الإلہ و أحسن الاعمالا
فلیعطینک ما اراد بقدرۃ
فہو اللطیف لما اراد فعالا
و دع العباد و شانہم و امورہم
بید الالہ یقلب الاحوالا
(الادب الاسلامی و تاریخہ: جلد 2 صفحہ 17 دیوان ابی الاسود الدؤلی)
’’اگر تجھے کوئی ضرورت درپیش ہو تو الہ العالمین سے دعا کر اور نیک اعمال کر۔ وہ جو چاہے گا اپنی قدرت سے تجھے عطا کرے گا، وہ باریک بیں ہے جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ لوگوں کو چھوڑ اور ان کے معاملات کو ترک کر سب کچھ الہ العالمین کے ہاتھ میں ہے وہی احوال کو تبدیل کیا کرتا ہے۔‘‘