امویوں کے شاہانہ طرز زندگی
علی محمد الصلابیامویوں کی خوشحالی اور ان کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہمارے مورخین کا بڑا پسندیدہ موضوع رہی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ رہائش، لباس، عطیات اور اخراجات کے حوالوں سے ان پر شاہانہ انداز زیست کا رنگ نمایاں تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے والی تھے اس دوران جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو وہ ایک بھاری بھر کم جلوس کے ساتھ صبح و شام ان کے ساتھ رہتے جس کا خلیفۃ المسلمین نے نوٹس لیا تو انہوں نے اس کا جواز بھی پیش کیا۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمیں امویوں کی زندگی کو اس وقت کے عربی اور اسلامی معاشرے سے الگ کر کے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان دونوں کا ایک دوسرے سے متاثر ہونا ضروری تھا اور ایسا ہوا بھی۔ اسی دور میں سماجی ترقی کا عمل تسلسل سے جاری تھا۔ مال داری، خوشحالی اور جائز طریقہ سے ان سے لطف اندوز ہونے کی رغبت اس قدر عام ہو چکی تھی کہ کیا حاکم اور کیا محکوم سبھی مزید سے مزید کی جستجو میں سرگرداں تھے، مگر اس کے ساتھ ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زہد اور ان کے لباس کی بوسیدگی (العواصم من القواصم: صفحہ 217۔ تعلیق محب الدین الخطیب) اور ان کے عامل زیاد اور اس کے پیوند لگے کپڑوں (تاریخ طبری: نقلا عن الدولۃ المفتری علیہا: صفحہ 424)
کے بارے میں وارد تاکیدی روایات و اخبار کا انکار بھی ممکن نہیں۔ حکمران طبقہ کے شاہانہ لباس اور ان روایات میں کوئی تناقض بھی نہیں بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نفوس عالیہ نہ تو زہد و ورع کو نقص خیال کرتی ہیں اور نہ ہی دنیوی نعمتوں کو حرام۔
(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 424)
اسی طرح اگر ہم ہمہ گیر نظروں سے اس دور کے مالی اخراجات کا جائزہ لیں تو ہمیں خوشحالی کے یہ مظاہر بنو امیہ اور ان کے خلفاء و امراء میں ہی نظر نہیں آئیں گے بلکہ بنو ہاشم، بنو زبیر وغیرہ کے بعض لوگ جن کا امویوں کے مخالفین و معارضین میں شمار ہوتا ہے وہ بھی بنو امیہ سے کم خرچ نہ تھے۔
(ایضاً: صفحہ 424)
اگر بنو امیہ نے محلات تعمیر کیے تھے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے اشراف عرب میں سے کتنے ہی لوگوں نے بڑے عالیشان اور قابل ذکر محلات تعمیر کیے تھے۔ عرب لوگ اسے باعث عزت خیال کرتے، اس پر فخر کرتے اور اپنے معززین میں سے ہر شخص سے اس کی توقع رکھتے تھے اگرچہ وہ کسی حکومتی منصب پر فائز نہ ہی ہوں۔
(ایضاً: صفحہ 425)
مالی اخراجات میں امویوں کے اس طرز عمل کی وجہ سے ہر طرف آسائش و خوشحالی کا دور دورہ ہوا۔ پھر امت میں اس کی جڑیں مزید گہری ہوئیں تو اس نے تباہ کن صورت حال اختیار کر لی جس کا نتیجہ صلیبیوں کے ہاتھوں بلاد شام، تاتاریوں کے ہاتھوں سقوط بغداد اور دولت عباسیہ کے زوال کی صورت میں سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آسائش و تعیش کو ناپسند کرتا اور اس سے خبردار کرتا ہے۔
وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 16)
ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی نسبتاً مال و اسباب کی بہتات تھی مگر انہوں نے اسے وجہ فساد نہیں بننے دیا تھا، اس کے سدباب کے طور پر انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدینہ منورہ سے نکل کر زمینوں پر جانے اور کاروبار کرنے سے روک دیا تاکہ اس طرح ان کے ہاتھوں میں زیادہ مال آنے کی وجہ سے غربت و امارت کے مابین کوئی حد فاصل کھڑی نہ ہونے پائے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو سکے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مال و اسباب کے حوالے سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں سخت پالیسی اختیار کی تاکہ وہ رعایا کے لیے برا نمونہ نہ بنیں اور لوگ ان کے نقش قدم پر چل کر تباہی سے دوچار نہ ہو جائیں۔ اگر حکمران کی طرف سے مال و زر کمانے اور اسے خرچ کرنے کے بارے میں ضروری حدود و قیود وضع نہ کی جائیں اور پھر ان کی پاسداری نہ کی جائے تو پھر سنت الہٰیہ کے مطابق اس کے طے شدہ نتائج کا سامنے آنا ضروری ہوتا ہے اور یہ اس لیے نہیں ہے کہ مال فے حد ذاتہ کوئی بری شے ہے بلکہ اس لیے کہ اس کے مثبت نتائج اخذ کرنے کے لیے جن انسانی کوششوں کی ضرورت تھی ان کے حوالے سے کوتاہی کا ارتکاب کیا گیا، یاد رہے کہ مال کی آفت آسائش و تعیش ہے اور اس کا علاج حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں سنجیدگی کو پروان چڑھائیں اور اس کے لیے اپنی ذات کو بہترین نمونہ کے طور پر پیش کریں۔ اگر مال و زر کو بغیر کسی ضابطہ کے لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا جائے اور کسی سے کسی چیز کے بارے باز پرس نہ کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کے اخلاق و کردار کو تباہ کرنے کے لیے کچھ قوتیں بھی بڑی متحرک ہوں تو پھر اس نتیجہ کا انتظار کیا جائے جسے سنت ربانیہ ضروری قرار دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِى النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۞ (سورۃ الروم آیت 41)
ترجمہ: لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا۔ تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔
مال و زر کی بہتات ایک متعدی آفت ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے اور اسے آگے بڑھنے سے نہ روکا جائے تو اس کا پھیلتے چلے جانا یقینی ہے، پھر جب اس کا آغاز خلافت کے محلات سے ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، اس لیے کہ حکام لوگوں کے لیے نمونہ ہوا کرتے ہیں۔ اگرچہ اموی بڑے خوشحال تھے مگر ان کا مالی فساد عباسیوں سے بہت کم تھا اس لیے کہ وہ ایک طرف اپنی حکومت کے استحکام میں زیادہ مصروف رہے اور دوسری طرف جہاد فی سبیل اللہ میں لگے رہے۔ عباسی، تو ان کے ہاتھ حکومت آنے کے بعد ان میں خوشحالی بڑی سرعت کے ساتھ سرایت کرنے لگی اور پھر خلافت کے محلات سے نکل کر امراء و وزراء کے محلات تک اور پھر وہاں سے ہوتی ہوئی ان کے تاجروں کے محلات تک جا پہنچی جن کی عالمی تجارت میں آمدن کئی ملین دینار تھی۔ آہستہ آہستہ اس فساد نے پہلے دار الخلافہ بغداد کو اور پھر دیگر اسلامی دار الحکومتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: محمد قطب: صفحہ 126، 127)