سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 1 از 3

سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں

بعض شیعہ امام اسحاق بن راہویہؒ کی طرف منسوب ایک قول اور دیگر علماء کے کچھ اقوال کو بغیر تحقیق و بغیر سمجھے بیان کر کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان علماء کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔

 پہلی دلیل: شیعہ بطور دلیل امام اسحاق بن راہویہؒ کی طرف منسوب قول پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔

 سند:

انبانا زاهر بن طاہر انبانا احمد بن الحسن البيہقی حدثنا ابو عبد اللّٰه الحاكم قال سمعت ابا العباس محمد بن يعقوب بن يوسف يقول سمعت أبی يعقوب بن يوسف يقول سمعت اسحاق بن ابراهيم الحنظلی۔

 متن: محدث ابو العباس محمد بن یعقوب اپنے والد (یعقوب بن یوسف) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں یعقوب بن یوسف نے امام اسحاق بن راہویہؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبیﷺ سے سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی چیز (حدیث) صحیح (سند سے ثابت) نہیں۔ 

(کتاب الموضوعات لابنِ جوزی (عربی) جلد 2 صحفہ 24)۔

 اسناد کا تعاقب: یہ قول ثابت نہیں کیونکہ اس روایت کی سند کا مرکزی راوی یعقوب بن یوسف جو کہ محدث ابو العباس محمد بن یعقوب کا والد ہے مجہول ہے۔

جب تک کسی راوی کی عدالت ثابت نہ ہو تو اس کی روایت سے استدلال کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اس کا بیٹا محمد بن یعقوب خود محدث ہے تو والد کا مجہول ہونا اس کی ثقاہت کو اور مشکوک بناتا ہے۔

امام ابنِ عساکرؒ محمد بن یعقوب کے بارے میں فرماتے ہیں۔

یہ مشہور محدث ہے

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 56 صحفہ 287)۔

جبکہ اس کے والد کے ترجمہ میں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی اس کے والد کا ترجمہ امام ابنِ عساکرؒ نے تاریخ مدینہ دمشق (عربی) جلد 74 صحفہ 180 پر بیان کیا ہے۔

اس لئے اس قول سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں یہ جائز نہیں۔

اگر کوئی پھر بھی انکار کرتے ہوئے اس قول کو صحیح مانے تو اس کو چاہیے کہ سب سے پہلے یعقوب بن یوسف بن معقل بن سنان کی ثقاہت ثابت کرے۔

 دوسری دلیل: شیعہ اس اعتراض پر دوسری دلیل کے طور پر امام عبد اللّٰہ بن مبارکؒ کی طرف منسوب قول پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔

 سند:

حدثنی الحسين بن على الأسود عن يحيیٰ عن عبداللّٰه بن مبارك قال۔

 متن: امام عبد اللہ بن مبارکؒ کہتے ہیں کچھ لوگ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حالانکہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ اُن کو چھوڑ دیا جائے (یعنی ان کے بارے میں کوئی سخت بات نہ کی جائے)۔

(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 ، صحفه 137) 

 اسناد کا تعاقب: اس روایت سے استدلال جائز نہیں کیونکہ اس روایت کی سند میں حسین بن علی بن اسود راوی ہے اِس کی روایت پر کلام کیا گیا ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

شیخ ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ حدیث میں سرقہ کا مرتکب ہوتا تھا اس کی نقل کردہ روایات کی متابعت نہیں کی گئی شیخ ابو الفتح ازدیؒ کہتے ہیں یہ انتہائی ضعیف ہے۔

(میزان الاعتدال (عربی) جلد 2 صحفه 350)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

گیارہویں طبقہ کا صدوق بکثرت خطاء کرنے والا راوی ہے۔

(تقریب التہذیب (رود) جلد 1 صحفہ 189)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے اور روایات میں خطاء کرتا ہے اور اس کی روایات کی متابعت نہیں کی گئی اس لئے اس کی ایسی روایات جن کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہو سے استدلال جائز نہیں۔

اس لیے اس قول کو امام عبد اللہ بن مبارکؒ کی طرف منسوب کرنا اور اس سے استدلال کرنا جائز نہیں۔

 تیسری دلیل: شیعہ اس اعتراض پر تیسری دلیل کے طور پر امام نسائیؒ کی طرف منسوب قول پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔

 سند:

قال محمد بن اسحاق الاصبهانیؒ سمعت مشايخنا بمصر يقولون۔

 متن: محمد بن اسحاق الاصبھانیؒ کہتے ہیں میں نے مصر میں اپنے مشائخ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام نسائیؒ نے مصر کو آخری عمر میں چھوڑا تھا اور دمشق چلے گئے تھے اُن سے سیدنا امیر معاویہؓ اور جو کچھ ان کی فضیلت میں روایت کیا گیا ہے کہ بارے میں سوال ہوا تو امام نسائیؒ نے کہا کیا سیدنا امیر معاویہؓ اس پر راضی نہیں کہ وہ برابر برابر نکل جائیں گے (یعنی بخش دیے جائیں گے) چِہ جائے کہ ان کو فضیلت دی جائے اور دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا میں اُن کی کوئی فضیلت نہیں جانتا سوائے اس حدیث ہے کہ اللّٰہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے۔

(وفیات الاعیان (عربی) جلد 1 صحفه 77)

 روایت کا تعاقب: محمد بن اسحاقؒ نے یہ بات اپنے جن مشائخ سے بیان کی ہے وہ مشائخ کون ہیں ان کے نام کیا ہیں یہ بیان نہیں کیا گیا اس روایت میں محمد بن اسحاقؒ کے مشائخ مجہول ہیں ان کا تعین کیے بغیر امام نسائیؒ کی طرف منسوب اس قول سے استدلال جائز نہیں کیونکہ یہاں اس چیز کی صراحت نہیں ہے کہ وہ مشائخ کون ہیں؟ ان کے نام کیا ہیں؟ ثقہ ہیں یا نہیں؟۔

جبکہ اس قول کے برعکس امام نسائیؒ سے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں صحیح سند سے جو بات منقول ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

أبی الحسن على بن محمد القابسی قال سمعت ابا على الحسن بن ابى بلال يقول سئل ابو عبد الرحمان النسائی۔

 متن: امام نسائیؒ سے صحابی رسول سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے سوال ہوا تو امام نسائیؒ نے فرمایا اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اور اسلام کے دروازے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں پس جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اذیت دی اس نے اسلام کو اذیت دی جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں (زبردستی) داخل ہونا چاہتا ہے پس جو سیدنا امیر معاویہؓ کے درپے ہوتا ہے وہ تمام صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے درپے ہوتا ہے۔

(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی) جلد 1 صحفہ 340 339)۔

امام نسائیؒ کے اس فرمان سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی سیدنا امیر معاویہؓ جلیل القدر صحابی ہیں اور جو ان کی شان میں کوئی نازیبا بات کہے وہ اسلام کا دشمن ہے اس قول سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام نسائیؒ کی طرف منسوب اس قول کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو فضیلت نہیں دینی چاہیے بھی محض باطل ہے۔

صفحہ 1 از 3