سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

سیرت سیدہ ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا

نبی کریمﷺ کی براہِ راست فیض یافتہ مقدس اور کامیاب جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور ان میں بلند مرتبہ کے حساب بے شمار شخصیات اور باکمال ہستیاں موجود ہیں۔

اس جماعت کا فضل و کمال خداوند کریم نے اپنی مقدس کتاب میں جا بجا ذکر فرمایا ہے اور فرمودات نبویﷺ میں ان کی فضیلتیں بے حساب مذکور ہیں۔ ان حضرات نے اللہ تعالیٰ کے دین کو بلند کرنے کے لیے اور اعلاء کلمۃ الحق کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی تھیں اور ان کا نصب العین اشاعت دین تھا۔

اس مقدس جماعت کے مرد و خواتین دینی کاموں کے لیے شب و روز مصروف کار رہتے تھے۔ مثال کے طور پر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت عبدالمطلب، ام حرامؓ بنت ملحان، ام عمارہؓ انصاریہ اور اسماءؓ بنت یزید انصاریہ (جن کو ام سلمہؓ انصاریہ کہتے ہیں) وغیرہا خواتین نے اسلامی خدامات کی خاطر بڑا عمدہ کردار ادا کیا اور اضطراری حالات میں معاونت کی خاطر مسلمان مردوں کے ساتھ جنگوں میں بھی شمولیت کی۔

اسی طرح دینی ضرورتوں کے لیے سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے بھی امتیازی خدمات سر انجام دیں۔

نسبی تشریحات اور قبیلہ قریش میں ان کا مقام:

ان کا نام ہند بنت عتبہ بن عبد شمس ہے۔ یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔

سیدنا ابو سفیانؓ کی متعدد ازواج تھیں۔ ان میں سیدہ ہند بنت عتبہؓ بن ربیعہ مشہور اور معروف اور ایک امتیازی مقام کی حامل خاتون ہیں۔ سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے خوب فہم و فراست اور اہلیت بخشی تھی۔

مؤرخین نے ان کے متعلق مندرجہ ذیل صفات ذکر کی ہیں۔

وکانت من سیدات نساء قریش ذا رای ودھاء وریاسہ فی قومھا۔

اور علماء نے مزید ان کے حق میں یہ الفاظ بھی تحریر کیے کہ

وکانت امراہ لھا نفس وانفہ ورأی وعقل۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ سیدہ ہند رضی اللہ عنہق قریش کی سردار عورتوں میں سے تھی صاحبِ رائے، زیرک و ہوشمند، خودار اور بڑی عقل مند عورت تھیں اپنی قوم میں اپنی صنف کے لیے رئیس سمجھی جاتی تھیں۔

قبول اسلام اور پھر اس پر استقامت:

قبول اسلام سے پہلے ہندؓ بنت عتبہ اسلام اور اہلِ اسلام کے ساتھ بڑی عداوت رکھتی تھیں جس طرح ان کے خاوند سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے قبل اہلِ اسلام کے ساتھ بڑے مقابلے اور معرکے قائم کیے، اسی طرح ان کی اہلیہ مذکورہ نے ہر مرحلہ پر مسلمانوں کے ساتھ انتہائی عناد اور مخالفت قائم رکھی۔ پھر جب اللہ تعالی نے ان کی قسمت کا رخ بدلا ہے اور فتح مکہ ہوئی ہے تو اس موقع پر اپنے خاوند کے اسلام لانے کے ایک دن بعد ہند رضی اللہ عنہ بنت عتبہ اسلام لائی ہیں سردار دو عالمﷺ نے ان دونوں کو اپنے سابق نکاح پر قائم رکھا۔

قاعدہ یہ ہے کہ جس وقت انسان اسلام لے آئے تو گزشتہ چیزیں سب معاف ہو جاتی ہیں۔ (ان الاسلام يـهـدم مـا كان قبله) اس آئین اسلام کی رو سے ہندؓ بنت عتبہ کی بھی سب سابقہ غلطیاں معاف ہو گئیں۔

علماء نے لکھا ہے کہ:  اسلام لانے کے بعد ہندؓ بنت عتبہ اپنے دین پر نہایت مستقیم تھیں اور ان کا اسلام نہایت پختہ تھا۔

علامہ ابنِ اثیر جزری نے اسد الغابہ میں علامہ نووی رحمہ اللہ نے تہذیب الاسماء واللغات میں اور علامہ ابنِ کثیرؒ نے البدایہ جلد سابع میں مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ ان کے حسن اسلام کی تصدیق فرمائی ہے؛

ان هندا اسلمت يوم الفتح وحسن اسلامها هي أم معاوية بن ابي سفيان اسلمت فى الفتح بعد اسلام زوجها ابى سفيان بليله وحسن اسلامها رضى الله عنها

(أسد الغابة للجزری: صفحہ، 562 جلد، 5 تحت ہند بنت عتبہ)

بعد از قبول اسلام بت شکنی کا عجیب واقعہ:

مؤرخین اور محدثین نے اس موقعہ پر ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ جب سیدہ ہندؓ بنت عتبہ ایمان کی دولت سے مشرف ہو چکیں تو ان کے گھر میں ایک بت تھا جس کی جاہلیت کے دور میں پرستش کرتی تھیں اس کو ایک کلہاڑا لے کر پاش پاش کر دیا۔ ساتھ ساتھ فرماتی تھیں کہ تیری وجہ سے ہم دھوکہ میں پڑے ہوئے تھے اور فریب خوردہ تھے لما اسلمت هندؓ جعلت تضرب صنما في بيتها بالقدوم فلزته فلزه فلزه وهي تقول كنا منك فى غرور۔

(الطبقات الكبير لابن سعد: صفحہ، 182 جلد، 8 تحت عند بن عتبہ بن ربيعہ)

تنبیہ: سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کے قبول اسلام سے قبل ان کو قدرت کی طرف سے ایک خواب متواتر تین شب آتا رہا۔ اس کے بعد آپ اس خواب کی روشنی میں مشرف بہ اسلام ہوئیں۔

تشریف بیعت اور کلمہ مرحبا کا اعزاز:

فتح مکہ کے بعد رسولﷺ کی خدمت اقدس میں مکہ کی اور قریش کی عورتیں حاضر خدمت ہوتی تھیں اور رسولﷺ کی خدمت میں بیعتِ نبوی کا شرف حاصل کرنے کے لیے معروضات پیش کرتی تھیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا ابوسفیانؓ کی بیوی ہندؓ بنت عتبہ بن ربیعہ (جو اپنے قبیلے کی ایک معزز خاتون تھیں) اپنے خاوند کی اجازت سے رسولﷺ کی خدمت میں نقاب پہن کر حاضر ہوئیں۔

سابقہ احوال کے پیش نظر وہ اپنی جگہ پر بہت خائف تھیں کہ خدا جانے میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور میرے حق میں کیا حکم صادر ہو گا۔ طبقات ابنِ سعد میں ہے کہ عورتوں کی بیعت کے لیے حاضری وادی الطح میں ہوئی تھی۔ اس سلسلہ میں جب ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ بن ربیعہ حاضر ہوئیں اور رسولﷺ کی خدمت اقدس میں معروضات پیش کرنے لگیں تو نقاب کھول دیا اور گفتگو شروع کی اور اپنا نام لے کر عرض کرنے لگی کہ میں ہند بنت عتبہ حاضر ہوں رسالت مآبﷺ نے پہچان لیا اور فرمایا مرحبابک (خوش آمدید) ان مبارک الفاظ کے ساتھ باریابی کی عزت بخشی۔

(طبقات ابن سعد: صفحہ، 171 تا 172 جلد، 8 تحت ذکر ہندؓ بنت عتبہ بن ربیعہ)

فائدہ: فتح مکہ کے موقع پر مختلف قبائل قریش سے بے شمار عورتیں رسولﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئیں ان میں بنی عبد شمس میں سے ہندؓ بنت عتبہ اپنے قبیلہ کی مشہور خاتون تھیں۔ رسولﷺ نے ان کا اسلام قبول فرما لیا۔ بعض روایات کے اعتبار سے یہ بھی مذکور ہے کہ ھندؓ بنت عتبہ نے ازراہِ معذرت رسولﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ یا نبی اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف فرمایا ہے۔ ہم کو بھی گزشتہ واقعات کی معافی فرمائی جائے۔

(تفسیر البحر المحیط: صفحہ، 258 جلد، 8)

صفحہ 1 از 4