Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے اور محمد بن ابی حذیفہ مصر کی گورنری پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے تھے، کیوں کہ سیدنا عثمان غنیؓ نے انھیں وہاں کا گورنر نہیں مقرر کیا تھا، سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تھوڑے وقت کے لیے مصر کا گورنر مقرر کیا، اس لیے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر مصر کے نواحی علاقے میں بھیجا جس نے محمد بن ابی حذیفہ کو پکڑ کر قید کر دیا پھر قتل کر دیا۔

(ولاۃ مصر للکندی: صفحہ 42، 43، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 9)

اس بات کا بھی تذکرہ آتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی انھیں مصر کا گورنر نہیں مقرر کیا تھا، بلکہ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا تھا، جب قتل کردیے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر مقرر کیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 44، النجوم الزاھرۃ: جلد 1 صفحہ 94)

 چنانچہ ان سے کہا: مصر چلے جاؤ، میں نے تمھیں وہاں کا گورنر بنا دیا ہے، اپنے معتمدین اور جنھیں تم اپنے ساتھ پسند کرو انھیں اکٹھا کر کے لے جاؤ، جب تم وہاں لشکر لے کر پہنچو گے تو یہ تمھارے دشمن کو زیادہ مرعوب کرنے والی اور تمھارے حاکم کی زیادہ عزت افزائی والی بات ہوگی، جب تم اللہ کی مشیت سے وہاں پہنچ جاؤ تو بھلے لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو، اور غلط لوگوں پر سختی کرو، عام اور خاص لوگوں کے ساتھ نرمی برتو، بلاشبہ نرمی باعث برکت ہوتی ہے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 354)

بہت سارے معاملات میں قیس رضی اللہ عنہ کی ذہانت اور حسن تدبیر کا ثبوت ملتا ہے، جب وہ مصر جا رہے تھے تو وہاں ایک گروہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ سے ناراض تھا، اور دوسرا گروہ ان کے قتل میں شریک تھا، مصر میں داخل ہونے سے پہلے سعد رضی اللہ عنہ سے چند گھڑ سواروں کی ملاقات ہوئی، آپ نے ان سے پوچھا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکست خوردہ فوج کے سپاہی ہیں، ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جن کے یہاں ہم پناہ لیں، پھر ان کے تعاون سے اللہ کے لیے بدلہ لیں، انھوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ آپ نے کہا: قیس بن سعد، انھوں نے کہا: جاؤ، چنانچہ آپ چل پڑے اور مصر میں داخل ہوگئے۔

قیس رضی اللہ عنہ اپنی اس تدبیر سے مصر میں داخل ہو سکے، پھر اس کے بعد اعلان کیا کہ وہ گورنر ہیں، اگر آپ نے ان گھڑ سواروں کو بتا دیا ہوتا کہ آپ گورنر ہیں تو وہ حضرت قیسؓ کو مصر میں داخل ہی نہ ہونے دیتے، جیسا کہ ان کے ساتھ پیش آیا جن کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شام کا گورنر بنا کر بھیجا تھا، شام کی فوجوں کو جب معلوم ہوگیا کہ انھیں گورنر بناکر بھیجا گیا ہے تو شام میں داخل ہونے سے روک دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 10، نقلا عن نھایۃ الأرب فی تاریخ العرب للنویری)

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے فسطاط پہنچ کر منبر پر اہل مصر کو خطاب کیا، انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سنایا اور ان کے لیے بیعت کا مطالبہ کیا۔

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 4 صفحہ 39)

اس موقع پر اہل مصر دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کر لی، دوسرے گروہ نے بیعت نہیں کی اور الگ ہو گیا، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے دونوں گروہوں کے ساتھ بڑی حکمت سے کام لیا، بیعت نہ کرنے والوں کو مجبور نہیں کیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 44)

 بلکہ ان کو اپنی حالت پر نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ ان کے پاس عطیات و تحائف بھیجے، ان میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان کے ساتھ اکرام و احسان کا سلوک کیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 44)

اس اچھے سلوک نے ان کے ٹکراؤ کو ٹال دیا، اس سے مصر کے حالات کو پُرسکون کرنے میں آپ کو مدد ملی، آپ نے وہاں کے امور کو منظم کیا، مختلف شعبوں کے ذمہ داران کو ادھر ادھر بھیجا، ٹیکس کے امور کو مرتب کیا، پولیس افسران کی تعیین کی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 11)

اس طرح وہ مصر کی گورنری کو منظم کرکے تمام گروہوں کو راضی کر سکے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 11)

اب شام میں سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی سیاسی گرفت اور فوجی اہمیت کا احساس کرنے لگے، چوں کہ مصر شام سے قریب تھا، اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے وہاں کے امور کو منظم و مرتب کر لیا تھا، اور ان کی دوراندیشی و معاملہ فہمی مشہور تھی، ان باتوں کو دیکھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خوف لاحق ہوگیا کہ وہ مصر سے نکل کر ان کے خلاف فوجی کارروائیاں نہ کریں، اس بنا پر مصر میں قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت شروع کر دی، انھیں دھمکی دیتے، ساتھ ہی ساتھ اپنے ساتھ ہو جانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ ان خطوط کا بڑی ہوشیاری سے جواب دیتے، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے رجحان اور یہ کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اس کا پتہ نہ چل سکا، جب کہ ان کے مابین متعدد خطوط آئے گئے۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 355، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 11)

کتب تاریخ میں ابومخنف کی ذکر کردہ سیدنا معاویہ و قیس رضی اللہ عنہما کے مابین خطوط سے متعلق شیعی روایتیں عام لوگوں میں پھیل گئیں، جب کہ وہ سراسر غلط اور باطل ہیں۔ ان کو تنہا ابومخنف نے ذکر کیا ہے جسے اصحاب جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے، نیز ان روایتوں کی متن میں بہت ساری عجیب وغریب باتیں ہیں۔ ان میں سے نمایاں باتیں درج ذیل ہیں:

أ۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کے ساتھ مصر والوں کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو خط بھیجا تھا اس میں یہ بات مذکور ہے:

’’پھر ان دونوں(ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کے بعد وہ (عثمان رضی اللہ عنہ) خلیفہ مقرر کیے گئے، امت کو ان کی بعض باتوں پر اعتراض ہوا، پھر لوگ اس بات سے ناراض ہو گئے اور اس منکر بات کا خاتمہ کر دیا۔‘‘

اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے باغی امت کے اچھے لوگ تھے، اور انھی لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے اس منکر بات کا خاتمہ کر دیا، جب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس اعتراض سے بالکل بری ہیں اور یہ یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین اوباش لوگ تھے اور آپ کا قتل سراسر ظلم اور جرم تھا، جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اقوال ان باتوں پر دلالت کرتے ہیں، ان اقوال میں سے بعض درج ذیل ہیں:

ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کبھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ کرتے ہوئے نہیں سنا۔

(تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

حاکم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: اے اللہ! میں تیرے حضور عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے برأت کا اظہار کرتا ہوں، قتل کے دن میں حواس باختہ ہو گیا تھا، میں اپنے آپ کو نہیں پہچان پا رہا تھا، لوگ میرے پاس بیعت کرنے آئے تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں اللہ سے شرمندہ ہوں کہ ایسے لوگوں سے بیعت لوں جنھوں نے ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

أَلَا أَسْتَحْیِیْ مِمَّنْ تَسْتَحْیِیْ مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ۔

’’کیا میں اس شخص سے شرم نہ کروں جن سے فرشتے شرم کرتے ہیں۔‘‘

میں اللہ سے شرمندہ ہوں کہ میں بیعت لوں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مقتول پڑے ہیں، اب تک ان کی تدفین نہیں ہوئی ہے، چنانچہ وہ سب لوٹ گئے، جب تدفین ہو گئی تو پھر آئے اور بیعت لینے کا مطالبہ کرنے لگے، میں نے کہا: اے اللہ! جو میں کرنے جا رہا ہوں اس سے میں ڈر رہا ہوں، پھر ہمت بندھی اور بیعت لی، جب لوگوں نے امیر المؤمنین کہہ کر پکارا تو ایسا لگاکہ دل پھٹ گیا ہو اور خون کے آنسو جاری ہو گئے ہوں۔

المستدرک: جلد 2 صفحہ 355)

آپ نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع کے لیے بھیجا تھا، اس سلسلے میں آپ کے اقوال بہت سارے ہیں۔

(مرویات أبی مخنف: دیکھیے یحیی الیحیی: صفحہ 211)

 میں نے انھیں اپنی کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ أمیر المؤمنین عثمان بن عفان‘‘

(عثمان بن عفان: للصلابی: صفحہ 407، 409)

میں جمع کیا ہے۔

ب: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کا قول:

أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا بَایَعْنَا خَیْرَ مَا نَعْلَمُ بَعْدَ نَبِیِّنَا صلي الله عليه وسلم ۔

’’لوگو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل شخص سے بیعت کر رہے ہیں۔‘‘

یہ قول سراسر مردود و مرفوض ہے، اس لیے کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ اور بقیہ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ اس کی صراحت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کی ہے، اس میں اس زمانے کے کسی صحابی یا غیرصحابی کو شک نہیں تھا، اس لیے اس قول کی نسبت قیس بن سعد رضی اللہ عنہما یا کسی دوسرے صحابی کی جانب صحیح نہیں ہے، یہ قول صرف بعد کے شیعوں کے یہاں مشہور ہوا ہے۔ 

(مرویات أبی مخنف: صفحہ 211)

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

’’متقدم شیعہ سب کے سب سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو افضل قرار دینے پر متفق ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 1 صفحہ 111)

سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تفضیل کی بہت ساری دلیلیں ہیں، انھی میں سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جس میں کہتے ہیں:

کُنَّا نُخَیِّرُ بَیْنَ النَّاسِ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صلي الله عليه وسلم فَنُخَیِّرُ أَبَابَکْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3697)

’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کے مابین موازنہ کرتے تھے تو ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو افضل قرار دیتے تھے۔‘‘

اس سلسلے کی حدیثیں بکثرت اور مشہور و معروف ہیں۔

(مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 212)

صحیح روایتوں کے مطابق حقیقت واقعہ یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو انھیں سونپ دیں اور امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے اس کو اہمیت نہیں دی۔

ج: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی جانب معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط اور اس میں ان کا اس جانب اشارہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں فریق تھے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایسا اشارہ درست نہیں ہے، اس لیے کہ اس سلسلے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی برأت (جیسا کہ گزر چکا ہے) بالکل واضح تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس سے ناواقف نہیں تھے کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ ان کے لیے اسے ثابت کرتے ہیں، محمد بن سیرین رحمۃاللہ (جو کبار تابعین میں سے تھے اور انھیں وہ زمانہ ملا تھا) کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے، اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو ان کے قتل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو متہم کرتا ہو۔

(مرویات أبی مخنف: صفحہ 212، تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

نیز وہی کہتے ہیں: جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ہوا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا، انھی میں عبداللہ بن عمر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی گردن میں تلوار لٹکائے موجود تھے، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں سختی سے حکم دے رکھا تھا کہ وہ لڑائی نہ کریں۔

(تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 350)

ابن ابی شیبہ نے صحیح سند سے محمد بن حنفیہ کی روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: میدان، پہاڑ، خشکی اور تری ہر جگہ اللہ تعالیٰ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ملعون قرار دے۔

(المصنف: جلد 15، صفحہ 268)

اس معنیٰ کے صحیح نصوص بہت سارے ہیں 

(تاریخ ابن عساکر: ترجمۃ عثمان: صفحہ 395)

 جو بالتاکید ثابت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی مشہور تھی۔

(مرویات أبی مخنف: فی تاریخ الطبری: صفحہ 214)

د: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں انصار کو متہم کرنا۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اتہام درست نہیں ہے اس لیے کہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ دفاع کرنے والے انصار تھے، چنانچہ ابن سعدؒ نے صحیح سند سے نقل کیا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جب کہ وہ محصور تھے آئے اور کہا: دروازے پر موجود انصار کہہ رہے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم دوبارہ انصار اللہ بننے کے لیے تیار ہیں، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جواباً آپ نے فرمایا: رہا لڑائی کا معاملہ تو لڑائی مت کرو۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 70، اس کی سند صحیح ہے۔)

ھ: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک جھوٹا خط تیار کرنا:

یہ ایسا جھوٹ ہے جس کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صادر ہونا غیرمعقول ہے، اس لیے کہ عرب جھوٹ کو سب سے قبیح صفت سمجھتے تھے جس سے شریف لوگ بہت دور رہا کرتے تھے، امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا قصہ جب کہ وہ مشرک تھے نقل کیا ہے کہ جب ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا: اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ جھوٹ کو نقل کر دیں گے تو آپ کے بارے میں جھوٹ بول دیتا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7)

عربوں کے نزدیک جھوٹ ایک قبیح صفت تھی، اور مسلمانوں کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ قبیح صفت ہے۔

کوئی کہنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک چال تھی، اور جنگ چال ہی کا نام ہے، اس لیے کہ چال کے معنیٰ جھوٹ نہیں ہیں جیسا کہ کلام عرب میں معلوم ہے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذہانت ایسا کرنے میں مانع تھی۔

(مرویات أبی مخنف: صفحہ 214)

و: اس تسلسل اور باریکی کے ساتھ سیدنا علی، معاویہ اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہم کے مابین بہت سارے خطوط کی روایت قاری کو شک میں مبتلا کر دیتی ہے اس لیے کہ ان خطوط سے آگاہی رکھنے والے اور ان کو نقل کرنے والے مجہول ہیں۔

ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ کہتے ہیں: امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصر پر قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی گورنری متفق علیہ ہے۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 201، فتوح مصر: صفحہ 274، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 12)

قیس رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی لکھنے والوں نے ان تفصیلات کو ذکر نہیں کیا ہے

(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 52، تاریخ بغداد: جلد 1 صفحہ 177، سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 102)

جنھیں ابومخنف نے اپنی روایات میں ذکر کیا ہے، یہاں تک کہ مصر کے معتبر مؤرخوں نے بھی ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ 

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 97، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 251)

ابن الاثیرؒ، ابن کثیرؒ، ابن خلدونؒ اور ابن تغری بردیؒ نے ابومخنف کی روایت کو طبری سے حذف و اختصار کے بعد نقل کیا ہے۔

(مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 210)

کندی نے عبدالکریم حارث سے بھی روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قیس رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ بھاری لگنے لگا تو مدینہ میں بنی امیہ کے بعض لوگوں کو لکھا: اللہ تعالیٰ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر دے اور اسے راز میں رکھنا، مجھے خوف ہے کہ اگر ان کے اور ہمارے موافقین کے مابین جو تعلقات ہیں ان کی خبر علی رضی اللہ عنہ کو پہنچ گئی تو علی رضی اللہ عنہ انھیں معزول کردیں گے، چنانچہ یہ خبر جب علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو ان کے ساتھ موجود اہل عراق و اہل مدینہ کے سرداروں نے کہا: قیس(رضی اللہ عنہ) بدل چکے ہیں(یعنی اپنی وفاداری بدل لی ہے) جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تمھارا ناس ہو، انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، اس لیے مجھ سے کچھ نہ کہو، ان لوگوں نے کہا: آپ ضرور انھیں معزول کریں بلاشبہ وہ بدل چکے ہیں، وہ اس پر مصر رہے تاآنکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے آپ کی قربت کی ضرورت ہے، اس لیے کسی کو اپنا نائب بنا کر چلے آؤ۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 45، 46، اس میں مدائنی ہیں جو صدوق ہیں، بقیہ راوی ثقہ ہیں، مگر یہ روایت مرسل ہے۔)

ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ اپنی کتاب ’’مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری‘‘ میں اس روایت کو راجح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:

  • یہ ایک ثقہ مصری کی روایت ہے جو اپنے ملک کو دوسرے سے زیادہ جانتا ہے۔
  • اس کو ایک مصری مؤرخ نے نقل کیا ہے۔
  •  یہ غرابت سے خالی ہے۔
  • اس کا متن ان لوگوں کی سیرت سے میل کھاتا ہے۔
  •  اس روایت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیس رضی اللہ عنہ کو معزول نہیں کر رہے تھے، تاآنکہ لوگوں نے ان سے اصرار کے ساتھ مطالبہ کیا، پھر انھیں اپنے پاس باقی رکھا، اس طرح ایک کامیاب قائد پریشانیوں کے وقت ذہین قیادتوں کے حق میں کوئی کمی نہیں کرتا۔

(مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 210)

بعض لوگوں نے علی اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کے تعلقات کو خراب کرنا چاہا تاکہ وہ انھیں معزول کر دیں، آخر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض مشیروں نے ان سے قیس رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کا مطالبہ کر دیا، اور ان سے متعلق پھیلائی گئی افواہوں کی تصدیق کرتے ہوئے معزول کرنے پر اصرار کیا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا: ’’مجھے تمھاری کی قربت کی ضرورت ہے، تم کسی کو نائب بنا کر چلے آؤ۔‘‘

(ولاۃ مصر: صفحہ 45، 46)

یہ خط مصر کی گورنری سے قیس رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کے قائم مقام تھا، اکثر اقوال کے مطابق ان کی جگہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اشتر نخعی کو مقرر کیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 229، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 12)

مصر جانے سے پہلے اشتر نخعی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی، اہل مصر کی باتوں اور خبروں سے آگاہ کیا، اور فرمایا: وہاں کے لیے تم ہی مناسب ہو، اگر میں تمھیں وصیت نہ بھی کروں تو میں تمھاری رائے پر اکتفا کر سکتا ہوں، اپنے پیش آمدہ مسائل میں اللہ سے مدد طلب کرو، سختی اور نرمی دونوں استعمال کرو، جب تک نرمی مؤثر ہو نرمی کرو، اور جب سختی کے بغیر کام نہ چلے تو سختی کرو۔

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 103)

اشتر اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ مصر کے لیے روانہ ہوا، بحرقلزم (بحر احمر) کے قریب پہنچا تو مصر میں داخل ہونے سے پہلے انتقال کر گیا۔ دوسری روایت کے مطابق اسے زہر ملایا ہوا شہد کا شربت پلایا گیا جس کی وجہ سے وہ وفات پا گیا، خراج دینے والے کچھ لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی ہے کہ انھی کے اکسانے پر ان لوگوں نے زہر دیا تھا۔

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 104، سیر أعلان النبلاء: جلد 4 صفحہ 34)

اشتر کو زہر دے کر قتل کرنے سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگائی گئی تہمت کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، ابن کثیر (البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 303)

 و ابن خلدون(تاریخ ابن خلدون: جلد 4 صفحہ 112)

رحمۃ

اللہ علیہ نے اس کا انکار کیا ہے، ڈاکٹر یحییٰ الیحییٰ (مروایات أبی مخنف: صفحہ 224)

بھی انھی کی رائے سے متفق ہیں، میرا بھی یہی رجحان ہے۔ اشتر مصر میں اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالنے سے پہلے انتقال کر گیا، پھر بھی تاریخی مصادر اس کا تذکرہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصر کے ایک گورنر کی حیثیت سے کرتے ہیں، اس کے بعد محمد بن ابوبکر مصر کے گورنر بنائے گئے، 

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 106)

وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر میں رہ چکے تھے، روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے چلے جانے سے پہلے ہی وہ مصر پہنچ گئے تھے، دونوں کے مابین گفتگو ہوئی جس میں قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے محمد کو بہت ساری نصیحتیں کیں، بالخصوص ان لوگوں کے بارے میں جو قتلِ عثمان سے ناراض تھے، اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت نہیں کی تھی، قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالقاسم! تم امیر المؤمنین کی جانب سے آئے ہو، مجھے ان کا معزول کر دینا تمھاری اور ان کی خیرخواہی سے مانع نہیں، مجھے تمھارے اس معاملے کی اچھی طرح واقفیت ہے، انھیں اور ان کے ساتھیوں کو (یعنی جن لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے کے لیے بیعت نہیں کی ہے) ان کی حالت پر چھوڑ دو، اگر تمھارے پاس آئیں تو انھیں قبول کرو، اگر نہ آئیں تو ان کے پیچھے نہ پڑو، لوگوں کو حسبِ مراتب عزت دو، اگر تم مریضوں کی بیمار پرسی اور جنازوں میں شرکت کرسکو تو کرو، اس میں تمھارا کوئی نقصان نہیں۔

(تاریخ ابن عساکر: جلد 22 صفحہ 181)

پھر قیس رضی اللہ عنہ مدینہ لوٹ آئے، پھر کوفہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، ان کے ساتھ معرکۂ صفین میں شریک ہوئے، وہی صفین کے دن ان اشعار کے کہنے والے ہیں:

ہذا اللواء الذی کنا نحفّ بہ مع النبی و جبریل لنا مدد

’’یہ علمِ جہاد جسے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھیرے میں لیے رہتے تھے اور جبریل علیہ السلام ہماری مدد کرتے تھے۔‘‘

ما ضر من کانت الأنصار عیبتہ أن لا یکون لہ من غیرہم أحد

’’جس کے راز دار انصار ہوں، اس کے لیے یہ چیز مضر نہیں کہ ان کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا نہ ہو۔‘‘

قوم إذا حاربوا طالت أکفہم بالمشرفیۃ حتی یفتح البلد

’’یہ ایسے لوگ ہیں کہ جنگ میں جب تلوار اٹھاتے ہیں تو شہروں کو فتح کر لیتے ہیں۔‘‘

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک انھی کے ساتھ رہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گئے، ان کے وفد کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی تو قیس رضی اللہ عنہ بھی ان کی بیعت میں داخل ہو گئے،

(أسد الغابۃ: جلد 4 صفحہ 452)

اور مدینہ لوٹ کر عبادت الہٰی میں مشغول ہو گئے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1290)