سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے

  مولانا محمد علی

صفحہ 1 از 4

سیدنا امیر معاویہؓ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے

سیدنا معاویہؓ نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بناکر ایک تو خلفائے راشدینؓ کی سنت کی مخالفت کی اور دوسرا مسلمانوں کے باہم لڑنے اور قتل و غارت کا ایسا دروازہ کھول دیا کہ آج تک امتِ مسلمہ متحد نہ ہو سکی سانحہ کربلا بھی اسی کے اثرات میں سے ایک بہت بڑا اثر تھا جس میں اہلِ بیت کا قتل عام ہوا۔

جواب: طعن مذکورہ میں دراصل تین باتیں ذکر کی گئیں۔  

1۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کو ولی عہد بنا کر خلفائے راشدینؓ کی سنت کی مخالفت کی۔

2۔ یزید کی ولی عہدی سے سیدنا امیر معاویہؓ نے قصداً اہلِ بیتؓ کے قتل کا راستہ نکالا۔

3۔ اگر سیدنا امیر معاویہؓ ایسا نہ کرتے تو واقعہ کربلا بھی پیش نہ آتا اور مسلمان باہم شیر و شکر رہتے ہم ان تینوں امور کی بالترتیب تردید کرتے ہیں اور ہم ہی نہیں بلکہ خود اہلِ تشیع کی کتب بھی ان کی تردید کرتی ہیں لیجیے سنیئے۔,

تردید امر اول:

بادشاہ کو ولی عہد بنانا ممنوع نہیں سیدنا علیؓ نے بھی سیدنا حسنؓ کو ولی عہد بنایا:

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی معتبر اور مستند سند حدیث سے کوئی ایک آدھ ایسا حوالہ نہیں ملتا نہ ہی کسی امام کا قول بالتصریح ایسا ملتا ہے جس میں یہ کہا گیا ہو یہ کسی امام و خلیفہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی رشتہ دار کو اپنا ولی عہد یا جانشین نہیں بنا سکتا اگر ایسا کرے گا تو اس کا یہ عمل خلافِ اسلام ہوگا بلکہ اس کے برعکس ولی عہدی کا ثبوت موجود ہے کتب شیعہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سیدنا علیؓ نے اپنی زندگی میں سیدنا حسنؓ کو ولی عہد مقرر کر دیا تھا۔

كشف الغمة:

إِنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوْصٰى بِهَا إِلَيْهِ وَافَاضَ رِدَآئَهَا عَلَيْهِ فَهُوَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَسْئلَةُ إِجْمَاعٍ فَقَدْ سَلِمَ الْمُدَّعَى إِمَامَتِهِ عَنِ النِزَاع.

(کشف الغمہ فی معرفة الائمه جلد 1 صفحہ 531 فی امامته عليه السلام مطبوعه تبریز)

ترجمہ:سیدنا علیؓ نے اپنی زندگی میں ہی سیدنا حسنؓ کو اپنا وصی اور ولی عہد بنا دیا اور خلافت کی چادر بھی انہیں پہنا دی لہٰذا سیدنا حسنؓ کی خلافت ایک اجماعی مسئلہ ہے اور ہر قسم کے تنازعات سے پاک ہے (کیونکہ یہ دورِ خلافت اس زمانے میں شامل ہے جس کی حضورﷺ نے پیش گوئی فرماتے ہوئے میں تئیس (23) سالہ قرار دیا تھا)۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنا کر سنتِ خلفائے راشدینؓ کی مخالفت نہیں کی تو سیدنا معاویہؓ نے بھی یزید کو ولی عہد بنا کر مخالفت نہیں کی بلکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے طریقہ کی اتباع کی ہے۔

تردید امر دوم:

سیدنا معاویہؓ کی یزید کو سیدنا حسینؓ کے متعلق وصیت

یہ کہنا کہ سیدنا معاویہؓ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اہلِ بیتؓ کے قصداً قتل کا دروازہ کھول دیا پہلے امر کی طرح غلط اور بے اصل ہے اس کی تردید بھی اہلِ تشیع کی کتب سے ملاحظہ فرمائیں۔

مقتل ابی مخنف:

والرابع الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِیؓ فَإِنَّ النَّاسَ تَدْعُوهُ حَتٰى يَخْرُجَ عَلَيْكَ فَإِنْ ظَفَرْتَ بِهِ فَاحْفَظُ قَرَابَتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِﷺ وَاعْلَم يَا بُنَى أَن ابَاهُ خَيْرٌ مِّنْ أَبِيكَ وَجَدٌَهُ خَيْرٌ مِّن جَدِّكَ وَأَمَّهُ خَيْرٌ مِّنْ أُمِّكَ وَلِلْمَرْءِ مَا بِقَلْبِكَ وَ هَذه وَصِيَّتِی إِلَيْكَ وَالسَّلام وَ طَوَى الكِتَابَ وَسَلَّمَہ لِلضحَاكِ بْنِ قَيْسِ الْفِهْرِي وَ امَرَہ أَنْ يُسَلِّمَهُ إلى وَلَدِهِ ثُمَّ أَنَّهُ لَم يلبثُ حَتى هَلَكَ وَ ذٰلِكَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِن رجب سنة ستين من الهجرة وضجت دمشق لموتِهِ.

( مقتل ابی مخنف صفحہ 8 مقدمہ مطبوعہ مجمع الشرود)

ترجمہ:سیدنا معاویہؓ نے یزید کی عدم موجودگی میں وصیت لکھواتے ہوئے دیگر امور کے علاوہ چار آدمیوں کا ذکر بھی کیا کہ وہ یزید کے مقابلہ میں شاید آجائیں تو ان سے مقابلہ کے وقت اے یزید تجھے کیا کرنا چاہیے یہ تحریر کیا ان چار میں سے ایک سیدنا حسینؓ بھی تھے ان کے بارے میں وصیت لکھی کہ چوتھے آدمی سیدنا حسین بن علیؓ ہیں جن کو کوئی لوگ دعوت دیں گے حتیٰ کہ وہ (سیدنا حسینؓ) تجھ پر خروج کریں گے تو اگر تو ان کو پکڑنے اور شکست دینے میں کامیاب ہوجائے تو رسول اللہﷺ سے ان کی قرابت ضرور ذہن میں رکھنا بیٹا تجھے معلوم ہونا چاہیئے کہ سیدنا حسینؓ کا باپ تمہارے باپ اس کے نانا تمہارے نانا اس کی والدہ تمہاری والدہ سے کہیں بہتر ہیں اور آدمی کے لیے وہی ہے جو تیرے دل میں ہے والسلام اس کے بعد وصیت نامہ لپیٹ دیا اور ضحاک بن قیس النہری کے سپرد کرتے ہوئے حکم دیا کہ یہ وصیت نامہ میرے بیٹے کو دے دینا اس وصیت کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ بہت جلد دنیا سے رخصت ہوگئے یہ رجب کی پندرھویں رات سن 60 ہجری کا واقعہ ہے پورا دمشق سیدنا امیر معاویہؓ کی موت پر کانپ اٹھا۔

 مذکورہ حوالہ سے درج ذیل امور ثابت ہوئے:

1۔ سیدنا امیر معاویہؓ کو فراستِ ایمانی اور سیاستِ جہانگیری سے یہ بخوبی معلوم تھا کہ کوفی شیعہ سیدنا حسینؓ کو یزید کے خلاف خروج پر ضرور ابھاریں گے۔

2۔ آپؓ نے فرمایا اگر سیدنا حسینؓ سے اے یزید تیرا مقابلہ ہو ہی جائے تو امام موصوف کی قرابت کو نہ بھولنا نہ تیرا باپ ان کے باپ جیسا نہ تیرا نانا ان کے نانا جیسا اور نہ ہی تیری ماں ان کی ماں جیسی ماں ہے لہٰذا کوئی نازیب حرکت نہ ہونے پائے۔

3۔ سیدنا امیر معاویہؓ کی وصیت کے الفاظ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یزید سے سیدنا حسینؓ کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنانہ کرنا پڑے جبکہ یزید ان کے اَباؤ اجداد کے مقام و مرتبہ کو دیکھ کر درگزر کرے اور حُسن سلوک سے پیش آئے۔

امالی صدوق:

صفحہ 1 از 4