سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق اہل علم کے تعریفی کلمات
علی محمد الصلابیسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے وہ وتر ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں؟ حضرت عباسؓ نے فرمایا: ’’وہ فقیہ شخص ہیں۔‘‘
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 130)۔
اس مناسبت سے ہم یہاں بعض ان فقہی مسائل کو ذکر کرنا چاہتے ہیں جو حضرت معاویہؓ سے منقول ہیں:
سیدنا معاویہؓ وتر ایک رکعت پڑھتے تھے۔
جس کا اصلاح و تقویٰ ظاہر ہوتا اس سے بارش کی دعا کراتے۔
(المغنی لابن قدامۃ: جلد 3 صفحہ 346)
صدقہ فطر میں نصف صاع گندم کافی ہے۔
(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 19)
احرام کے لیے بدن کو خوشبو لگانا مستحب ہے۔
(المغنی: جلد 5 صفحہ 77)
مکہ کے گھروں کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے۔
(المغنی: جلد 6 صفحہ 366)
شوہر کا جنسی طور پر بیوی کے قابل نہ ہونا میاں بیوی کے مابین جدائی کے اسباب میں سے ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: خالد الغیث: صفحہ 28)
مدہوش کی طلاق معتبر ہو گی۔
کافر کے بدلے مسلم کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
مقتول کے بیٹے کی بلوغت تک قاتل کو قید میں رکھا جائے گا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 29)
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے نزدیک امتحان و آزمائش کا ذریعہ ہیں، جو شخص انہیں ترچھی نظروں سے دیکھے اور ان کی عیب جوئی کرے اسے ہم لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق بد عقیدگی سے متہم قرار دیں گے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 29)
امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ:
امام احمد رحمۃاللہ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہیں گے جو کہتا ہے کہ میں اس کا قائل نہیں کہ معاویہ کاتب وحی ہیں، اور نہ اس کا قائل ہوں کہ وہ اہل ایمان کے ماموں ہیں۔ انہوں نے تو بزور تلوار خلافت کو غصب کیا تھا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 29)
آپ نے فرمایا: یہ بری اور بیکار بات ہے، ایسے لوگوں سے دور رہو، اپنی مجلسوں میں انہیں نہ بیٹھنے دو، یہاں تک کہ لوگوں کے سامنے ہم ان کا پردہ فاش کریں۔
(السنۃ: الخلال: تحقیق عطیۃ الزہرانی: جلد 2 صفحہ 434)
قاضی ابن العربی رحمۃاللہ:
قاضی ابن العربی رحمۃاللہ نے حضرت معاویہؓ کے خصائل و اوصاف کو بیان کیا ہے۔ آپ نے من جملہ خصائل میں سے یہ بیان کیا ہے اسلام کی حمایت و حفاظت، سرحدوں کا تحفظ، لشکر اسلام کی اصلاح، اعدائے اسلام پر غلبہ، مخلوق کی صحیح سیاست۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 210، 211)
علامہ محب الدین خطیب رحمۃاللہ اس بیان پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’حضرت معاویہؓ کی ہمت اور مذکورہ امور سے متعلق عنایت و توجہ کی عظمت کا عالم یہ تھا کہ جب قیصر روم عظیم لشکر کے ساتھ اسلامی سرحدوں کے قریب پہنچ گیا تو آپ نے اس کو دھمکیوں پر مشتمل یہ خط لکھا، باوجودیکہ اس وقت سیدنا معاویہؓ سیدنا علیؓ کے ساتھ صفین کی جنگ میں مصروف تھے۔‘‘
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 31)
اس سلسلہ میں علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ رقم طراز ہیں:
’’سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کو کچل کر رکھ دیا، ان پر غلبہ حاصل کیا وہ آپ کے سامنے ذلیل و رسوا ہوئے، ہمہ وقت آپ سے خوفزدہ رہنے لگے لیکن شاہِ روم نے دیکھا کہ حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ میں مشغول ہیں تو اس کو طمع و لالچ پیدا ہوئی، اور عظیم لشکر کے ساتھ اسلامی سرحدوں سے قریب آ گیا۔ اس صورت حال میں حضرت معاویہؓ نے اس کو دھمکی آمیز یہ خط ارسال فرمایا:
’’اللہ کی قسم! اے ملعون اگر تو اپنی حرکت سے باز نہ آیا اور اپنے ملک کو واپس نہ چلا گیا تو میں اور میرے چچا زاد بھائی علی تمہارے خلاف مصالحت کر کے متحد ہو جائیں گے، اور تمھیں تمہارے پورے ملک سے نکال باہر کریں گے، اور وسعت کے باوجود روئے زمین کو تم پر تنگ کر دیں گے۔‘‘
اس پر شاہ روم خوفزدہ ہو گیا اور مصالحت کی پیش کش کی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 119)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ :
علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: تواتر سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کی طرح حضرت معاویہؓ کو بھی امارت سونپی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت معاویہؓ کی امانت داری مسلم تھی، آپ وحی لکھا کرتے تھے، کتابت وحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہؓ کو متہم نہیں کیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو مردم شناسی میں سب سے ماہر تھے (آپ کو گورنر مقرر فرمایا) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب و زبان پر حق کو جاری کر دیا تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت معاویہؓ کی گورنری میں کوئی عیب نہیں لگایا۔
(الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 472، البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 122، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 129)
مؤرخ اسلام ابنِ کثیر رحمۃاللہ:
علامہ ابنِ کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: 41ھ میں پوری ملت اسلامیہ کا آپ کی بیعت پر اجماع ہوا، اور حضرت معاویہؓ وفات تک بلا اختلاف خلیفہ رہے، اس مدت میں دشمن ممالک میں جہاد قائم رکھا، اللہ کے کلمہ کو بلند رکھا، اموالِ غنیمت چہار جانب سے آپ کی خدمت میں پیش ہوتے رہے، مسلمان حضرت معاویہؓ کے ساتھ پوری راحت و عدل اور عفوو درگزر میں زندگی گزارتے رہے۔ سیدنا معاویہؓ انتہائی بردبار تھے۔
(ابن ابی الدنیا اور ابوبکر بن ابی عاصم نے حضرت معاویہؓ کی بردباری پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔)
باوقار قیادت و سیادت کے مالک، جود و سخا کے پیکر، عادل اور انتہائی عقلمند و ہوشیار قائد تھے۔(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 118)
نیز فرماتے ہیں: آپ اچھی سیرت و کردار کے مالک، بہترین چشم پوشی اور معاف کرنے والے، عفو جمیل کے پیکر اور بہت زیادہ پردہ پوشی کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمتیں نچھاور فرمائے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 126)