گورنرز اور انتظامیہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں
علی محمد الصلابیسیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دوران مرکزیت اور لا مرکزیت کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ انہوں نے دمشق کو دار الحکومت قرار دیا جہاں سے حکومت کے سیاسی، اقتصادی اور انتظامی احکامات جاری کیے جاتے۔ جہاں تک ولایات کے داخلی امور کی ترتیب کا تعلق ہے تو اس کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صوبائی گورنروں کو ان کے تجربات اور صلاحیتوں کے مطابق اپنے امور نمٹانے کی آزادی دے رکھی تھی مگر وہ سارے کے سارے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے براہ راست جواب دہ تھے اور ان کے ہر عمل کے لیے ان کا احتساب بھی کیا جاتا تھا۔ دمشق کو دار الحکومت بنانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اہل شام کے بارے بخوبی آگاہ تھے اور انہیں ان پر اور ان کی دوستی پر مکمل اعتماد تھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً بیس سال بلاد شام کے امیر کے طور پر گزارے اور اس دوران وہ ان کے درمیان عوامی مقبولیت سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس امر کا احساس تھا کہ اموی حکومت کے تسلسل کا زیادہ تر دار و مدار ان کے لیے اہل شام کی نصرت و حمایت پر ہے، لہٰذا آغاز کار سے ہی ان کی یہ کوشش رہی کہ بلاد شام میں موجود مختلف عرب قبائل کے رجال کار اور خاص طور پر یمنی اور قیسی قبائل کے درمیان توازن قائم رہے۔
(خلافۃ معاویۃ بن ابوسفیان: العقیلی: صفحہ 70)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی استطاعت کی حد تک سرزمین شام میں طرفین کے مفادات کے تحفظ میں توازن قائم رکھنے کے لیے کوشاں رہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قیسی قبائل کے مردان کار کی خدمات بھی حاصل تھیں، مثلاً ضحاک بن قیس فہری اور حبیب بن مسلمہ فہری اور یمنی قبائل کے سرکردہ لوگوں کی بھی، جن میں سے مالک بن ہبیرہ سکونی، شرحبیل بن سمط کندی اور حسان بن بحدل کلبی رضہ اللہ عنھم وغیرہم قابل ذکر ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی امارت اور خلافت کے دونوں عرصوں کے دوران طرفین کی طرف سے مکمل تعاون حاصل رہا، وہ ایک ہی لشکر میں شامل ہو کر ایک ہی امارت کے تحت ان کے پہلو بہ پہلو اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف برسرپیکار رہتے۔
(ایضاً: صفحہ 73)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست اموی خاندان کے افراد سے استعانت پرقائم تھی، جیسا کہ عنبسہ بن ابوسفیان، عتبہ بن ابوسفیان، ولید بن عتبہ بن ابوسفیان، سعید بن العاص بن امیہ، مروان بن حکم اس کا بیٹا عبدالملک (البلاذری: انساب الاشراف نقلا عن خلافۃ معاویۃ العقیلی: صفحہ 73)
اور عمرو بن سعید بن العاصؓ وغیرہ۔ (خلافۃ معاویۃ: صفحہ 73، نقلاً عن انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 160)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں میں سے بڑا وسیع تجربہ رکھنے والے لوگوں کو اپنے معاونین اور والی کے طور سے منتخب فرمایا، مثلاً عبداللہ بن عامر بن کریز، مغیرہ بن شعبہ، نعمان بن بشیر انصاری، مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہم۔
(خلافۃ معاویۃ: العقیلی: صفحہ 74)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان لوگوں کے انتخاب کی وجہ صرف ان کے ساتھ ان کی دوستی ہی نہیں تھی بلکہ ان میں سے زیادہ تر کی خدمات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل رہیں تھی، لہٰذا انہوں نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا مناسب سمجھا، پھر یہ ایسے لوگ بھی تھے جنہیں شام میں اسلامی فتوحات کے واقعات نے نمایاں کر دیا تھا۔
(الامویون و البیزنطیون: ابراہیم العدوی: صفحہ 74)
یہ امر بھی ہمارے ملاحظہ میں ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مختلف شہروں کی ولایت کے لیے باصلاحیت اور وفادار لوگوں کا انتخاب کیا اگرچہ انہوں نے اپنے بعض معاونین کا انتخاب اپنے اہل بیت سے کیا مگر آپ ان کے ساتھ بڑی احتیاط پر مبنی معاملہ کرتے یہاں تک کہ ان کے بارے میں مطمئن ہو جاتے اور ان کی انتظامی اور ادارتی صلاحیتوں کا یقین کر لیتے۔ آپ آغاز میں انہیں طائف (خلافۃ معاویۃ: العقیلی: صفحہ 74) جیسے چھوٹے شہروں کے لیے منتخب کرتے پھر جب ان میں سے کوئی اپنی انتظامی صلاحیت کا لوہا منوا لیتا تو اس کی ولایت کا دائرہ مکہ مکرمہ تک بڑھا دیتے اور پھر مدینہ منورہ کو بھی اس کی ماتحتی میں کر دیتے اور پھر اسے باصلاحیت ماہر کا لقب دے دیا جاتا۔
(تاریخ طبری: خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 75)
یہاں پر یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس وقت طائف کا شمار اہم ترین شہروں میں ہوتا تھا جس کی وجہ وہاں طاقتور قبیلہ بنوثقیف کا آباد ہونا تھا۔
(خلافۃ معاویۃ: عقیل: صفحہ 75)
جو بھی والی سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے طائف پر کنٹرول کر لیتا اس کے لیے دیگر شہروں پر کنٹرول حاصل کرنا مشکل نہ رہتا۔
اس امر کے اشارے موجود ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجاز میں ایک ایسا مرکز قائم کر رکھا تھا جس میں اموی خاندان کے لوگوں کو مستقبل کے کامیاب حکمران بنانے کے لیے تربیت دی جاتی تھی۔
(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 108، 109 )
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خاندان کے جن لوگوں کی خدمات سے سرکاری طور سے فائدہ اٹھانا ہوتا انہیں ایک دوسرے سے الگ رکھنے کی کوشش کرتے اور یہ اس لیے کہ وہ ان کے خلاف کوئی محاذ نہ کھڑا کر سکیں۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 65۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 75)
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی خلافت کے دور میں ان کی غیر مسلم رعایا کو خصوصی مراعات حاصل تھیں، ان کے ساتھ حد درجہ نرمی برتی جاتی اور ان کے ساتھ درگزر سے کام لیا جاتا اور وہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنے حقوق حاصل کر لیتے۔ وہ لوگ مختلف حکومتی عہدوں پر بھی کام کرتے تھے۔ انہوں نے اس بیزنطی اور قبطی نظاموں کو قائم رکھا جس پر مصر، شام اور مغرب میں عمل کیا جاتا تھا، اسی طرح عراق اور خراسان میں بھی فارسی نظاموں کو باقی رہنے دیا گیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا معالج خاص ابن اثال غیر مسلم تھا۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 223)
اسی طرح ان کا رومی مالی مشیر سریج (سرجون) بن منصور (تاریخ خلیفۃ صفحہ 228، ابن سینا اور ابن نضیر ( تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 297 )۔ المحن: صفحہ 171)
جیسے ان کے عمال غیر مسلم تھے جن میں سے کچھ بعد میں دائرہِ اسلام میں داخل ہو گئے۔
مزید برآں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے غیر مسلم رعایا کو اپنی دینی اور مذہبی رسومات ادا کرنے کی کھلی آزادی دے رکھی تھی۔ انہوں نے دمشق کے نصاریٰ کی اس درخواست کو قبول کر لیا کہ کنیسہ یوحنا کو دمشق کی مسجد میں شامل نہ کیا جائے۔
(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 291،)
کنیسہ رھا (ادیسا) جو کہ زلزلہ کی وجہ سے گر گیا تھا (فتوح مصر: صفحہ 132، 222 )
غیر المسلمین فی المجتمع الاسلامی: قرضاوی صفحہ 20، 21 )
اس کی نئے سرے سے تعمیر کی اور مسلمہ بن مخلد انصاریؓ کی مصر پر ولایت (67، 68ھ) کے دوران فسطاط میں پہلا گرجا گھر تعمیر کیا گیا۔
(فتوح مصر: صفحہ 132۔ غیر المسلمین فی المجتمع الاسلامی: قرضاوی: صفحہ 20، 21)
اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق میں قصر الخضراء کی تعمیر کے لیے دو غیر مسلم انجینئروں کی خدمات حاصل کیں۔ یہ وہی محل ہے جو بلاد شام میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت اور بعد ازاں خلافت کے دور میں ان کی اقامت گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا، بلاذری روایت کرتے ہیں کہ پہلے یہ محل مٹی اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا پھر انہوں نے اسے پتھروں سے تعمیر کیا۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 147)
جس طرح غیر مسلم رعایا کے ساتھ فراخ دلی اور درگزر سے کام لینے کی پالیسی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست کا امتیازی وصف تھا اسی طرح موالی کے حوالے سے بھی ان کی سیاست نرم دلی اور حسن معاملہ پر مبنی تھی، انہوں نے بعض ملکی معاملات میں بہت سارے موالی کی خدمات سے فائدہ اٹھایا، چنانچہ انہوں نے اپنے مولیٰ عبداللہ بن دراج کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کے دوران کوفہ کا خراج وصول کرنے کے لیے متعین کیا۔
(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 81)
جبکہ عتبہ بن ابوسفیان کی امارت مصر کے دوران ان کا آزاد کردہ غلام مصر کے خراج پر مامور تھا۔
(الادارہ فی العصر الاموی: ضحاش: صفحہ 347)
موالی میں سے مختار نامی ایک آدمی ان کے حفاظتی دستے میں شامل تھا۔ اس زمرے میں مالک نام کے ایک آدمی کا نام بھی لیا جاتا ہے جس کی کنیت ابوالمخارق تھی اور وہ حمیر کا مولیٰ تھا، جبکہ ان کا مولیٰ سعدان ان کا دربان تھا
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 54، 63۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 82)
جو کہ حجاز میں ان کی جائیداد کا نگران بھی تھا۔ زیاد بن ابوسفیان نے اپنے مولیٰ مہران کو اپنا دربان اور عراق میں خراج پر اپنا سیکرٹری مقرر کیا،
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 212)
ابو المہاجر دینار مسلمہ بن مخلد انصاریؓ کا مولیٰ تھا جو 55ھ میں ادارہ شؤن المغرب کا انچارج تھا۔
(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 82)
مذکورہ بالا مثالوں کے باوجود عباس محمود العقاد اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی موالی کی طرف نظر التفات نہیں تھی اور اس حوالے سے اس نے معاویہ رضی اللہ عنہ پر مستشرقین کے ناقابل التفات اعتراض کو ہی دہرایا، جبکہ قدیم عربی تالیفات موالی کے حوالے سے ان کی فراخ دلی کی مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔
(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 82)
دوسری جانب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ضروری اصلاحات صوبوں پر اپنے عمال کے لیے چھوڑ رکھی تھیں تاکہ ان میں سے ہر ایک اپنے صوبے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری خود ادا کرے۔
(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 82)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں
ریاست کی انتظامی تقسیم اس طرح سے تھی: دمشق دار الحکومت تھا، ملک کو چند صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور صوبے پر خلیفہ کی طرف سے مقرر کردہ والی حکومت کرتا تھا۔ بعض اوقات اسلامی مملکت والی کو اس کی مرضی سے حکومت چلانے کی آزادی دے دیتی تھی، یہاں تک کہ بعض والیوں کو قتل کرنے، جلا وطن کرنے، قید میں ڈالنے جیسے اختیارات بھی دے دئیے جاتے تھے۔ مگر یاد رہے کہ ایسا صرف عراق کے صوبہ میں ہوتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں دوسرے صوبوں سے زیادہ شورشیں اور فتنے سر اٹھایا کرتے تھے۔ خلیفہ اس صوبے کے لیے ایسے والیوں کا انتخاب کرتا جو حزم و احتیاط اور سختی میں شہرت رکھتے ہوں۔ زیاد بن ابیہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سب سے مشہور والی تھا۔ رہے دوسرے صوبے تو وہ ریاست کی عمومی پالیسی کے مطابق حکومت کرتے تھے۔ والی خلیفہ کے احکامات کا پابند ہوتا تھا، وہ اس کی رائے لینے اور اس سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرتا۔ والی عوام الناس کی مصالح سے وابستہ جملہ امور میں خلیفہ کی طرف رجوع کرتا۔ اگر تو معاملہ اس کے صوبے کے ساتھ مخصوص ہوتا تو وہ مصلحت عامہ کے تقاضوں کے مطابق تصرف کرنے کا حق رکھتا، بصورت دیگر وہ اپنے تمام تصرفات کے لیے خلیفہ کے سامنے جوابدہ ہوتا۔ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں
(الدولۃ الامویۃ محمد سید الوکیل: جلد 1 صفحہ 97)
دولت امویہ کے بڑے بڑے صوبے یہ تھے: دمشق (دار الحکومت) بصرہ، کوفہ، مدینہ، مکہ اور مصر وغیرہا۔ جہاں تک عہد معاویہ کے دوران مختلف شہروں کے والیوں کا تعلق ہے تو ہم ان کے بارے میں ہر صوبے سے متعلق گفتگو کریں گے۔