Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی خارجی کے ہاتھوں امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد رمضان 40 ھ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی امیر المؤمنین کے طور سے بیعت ہوئی۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 35، 38 تحقیق ڈاکٹر احسان عباس)

جن کا آپ کے والد کے بعد لوگوں نے انتخاب کیا تھا، عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرما رہے تھے: میری داڑھی کو میرے سر کے خون سے رنگ دیا جائے گا۔ بدنصیب میرے بارے میں کیا انتظار کر رہا ہے۔

(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 139۔ مسند احمد: جلد 2 صفحہ 325، حسن لغیرہ)

لوگوں نے کہا: امیر المؤمنینؓ! آپ اپنے قاتل کے بارے میں ہمیں آگاہ فرمائیں، ہم اس کے قرابت داروں کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ سیدنا علیؓ نے فرمایا: اس طرح تو تم میرے بدلہ میں میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دو گے۔ انہوں نے کہا: آپؓ کسی کو ہمارا خلیفہ مقرر کر دیں، انہوں نے فرمایا: نہیں، میں تمہیں اس کے لیے چھوڑ جاؤں گا جس کے لیے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔ وہ کہنے لگے: جب اپنے رب کے پاس جاؤ گے تو اس وقت کیا کہو گے؟ فرمایا: میں یہ کہوں گا کہ میرے اللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان میں باقی رکھا پھر تو نے مجھے اپنی طرف قبض کر لیا اگر تو چاہے تو ان کی اصلاح کر دے اور اگر چاہے تو انہیں خراب کر دے۔

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 325، حسن لغیرہ)

دوسری روایت میں ہے: میں کہوں گا: یااللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان کا خلیفہ بنائے رکھا پھر تو نے مجھے قبض کر لیا اور میں تجھے ان میں چھوڑ آیا۔

(کشف الاستار عن زوائد البزار: جلد 3 صفحہ 204)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ چار تکبیروں کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور انہیں کوفہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سب سے پہلے قیس بن سعدؓ نے بیعت کی، انہوں نے کہا: اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں میں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور عہد شکن لوگوں کے ساتھ قتال پر آپؓ سے بیعت کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت پر، اس لیے کہ یہ ہر شرط کا احاطہ کرتی ہے، چنانچہ اس نے آپ سے بیعت کی اور خاموش ہو گیا اس کے بعد دوسرے لوگوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 77)

جب اہل عراق نے سیدنا حسنؓ سے بیعت کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میری بات سنو گے بھی اور میری اطاعت بھی کرو گے جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم بھی جنگ کرو گے۔

(ایضاً)

دوسری  روایت میں ہے کہ سیدنا حسن نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم سے اپنی شرائط پر بیعت لوں گا۔ انہوں نے ان کے بارے پوچھا تو فرمایا: جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم بھی جنگ کرو گے۔

(طبقات ابن سعد: تحقیق ڈاکٹر محمد سلمی: جلد 1 صفحہ 246، 247)

ابن سعدؓ کی روایت میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اہل عراق سے دو بیعتیں لیں: امارت پر اور اس بات پر کہ جہاں وہ داخل ہوں گے وہاں اہل عراق بھی داخل ہوں گے اور جس سے وہ راضی ہوں گے اس سے اہل عراق بھی راضی ہوں گے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 316، 317)

گزشتہ روایات سے مستفاد ہوتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالنے کے فوراً بعد صلح کے لیے فضا ہموار کرنی شروع کر دی تھی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے طور سے اپنی گرفت مضبوط بنانا شروع کر دی، عمال اور امراء کا تقرر کیا، لشکر تیار کیے، عطیات تقسیم کیے اور جنگجوؤں کے عطیات میں ایک ایک سو کا اضافہ کر دیا۔ جس سے سیدنا حسنؓ نے ان کے دل موہ لیے اور وہ سیدنا حسنؓ سے راضی ہو گئے۔

(تاریخ العراق فی ظل الحکم الاموی: صفحہ 67 مقاتل الطالبین: صفحہ 55)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے کی بجائے ان سے جنگ کرنا بھی ممکن تھا، عسکری، اخلاقی، سیاسی اور دینی پہلوؤں سے ان کی یکتا شخصیت اس کام کے لیے ان کی ممد و معاون تھی علاوہ ازیں انہیں کئی ایسے تجربہ کار اور مردان کار کی حمایت بھی حاصل تھی جو اُن کے لیے فضا ہموار کر سکتے تھے مثلاً قیس بن سعد بن عبادہ، حاتم بن عدی طائی رضی اللہ عنھم وغیرہ، یہ سب لوگ بدرجہ اتم قائدانہ صلاحیتوں سے مالامال تھے، مگر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مسلمانوں کے خون بچانے، امت کو متحد کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اخروی اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے صلح و آشتی میں دلچسپی دکھائی اور حکومت اور حکومتی مراعات سے بے رغبتی کا مظاہرہ کیا، پھر انہوں نے آگے بڑھ کر اصلاحی پروگرام کی قیادت کی، وحدت امت کا تاج اپنے سر پر سجایا اور تمام تر قوت و طاقت کے باوجود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔

ہمارے اس مؤقف کی تائید مندرجہ ذیل امور سے ہوتی ہے:

1۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب شوریٰ کی بنیاد پر ہوا تھا جس کے نتیجہ میں وہ حجاز، یمن، عراق اور ان تمام مقامات اور علاقوں سے شرعی اور قانونی خلیفہ قرار پائے جو اُن کے والد کے ماتحت تھے، آپؓ نے یہ منصب خلافت چھ ماہ تک سنبھالے رکھا، اور یہ مدت اس خلافت راشدہ کے ضمن میں آتی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ فرمایا تھا کہ اس کی مدت تیس سال ہے پھر بادشاہت کا دور دورہ ہو گا۔ اس سلسلہ میں آپ کا ارشاد ہے: ’’میری امت میں تیس سال خلافت رہے گی اس کے بعد بادشاہت قائم ہو جائے گی۔‘‘

(سنن ترمذی مع شرح تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 397 حدیث حسن)

اسی حدیث کے بارے میں ابن کثیر رقمطراز ہیں: خلافت کی یہ تیس سالہ مدت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر پوری ہوتی ہے اس لیے کہ وہ ماہ ربیع الاوّل 41 ھ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاوّل 11 ھ میں ہوئی یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری تک کی درمیانی مدت پورے تیس سال بنتی ہے، آپﷺ کے اس ارشاد کا شمار دلائل نبوت میں ہوتا ہے۔ صلوات اللّٰہ و سلامہ علیہ و سلم تسلیما۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)

اس بنا پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پانچویں خلیفہ راشد قرار پاتے ہیں۔

(مأثر الانافۃ: جلد 1 صفحہ 105۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 155)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کی قانونی حیثیت کے بارے میں متعدد علماء نے گفتگو کی ہے جن میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:

ابوبکر بن العربی، (احکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1720)

قاضی عیاض، (صحیح مسلم پر شرح نووی: جلد 12 صفحہ 201)

ابن کثیر، (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)

شارح عقیدہ طحاویہ، (شرح عقیدۃ طحاویۃ: صفحہ 545)

مناوی، (فیض القدیر: جلد 2 صفحہ 409)

اور ابن حجر ہیثمی (الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 397)

اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چاہتے تو اپنی شرعی پوزیشن کی وجہ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تھکا سکتے تھے اور شامی حلقوں میں منظم پروپیگنڈہ مہم شروع کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتے تھے یا کم از کم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے اعتماد کو متزلزل کر سکتے تھے اور یہ اس لیے کہ وہ جس معنوی قوت اور روحانی اثر و نفوذ کے مالک تھے اس کی حیثیت کوئی معمولی نہیں تھی، ایک تو اس لیے کہ انہیں شرعی اور قانونی حیثیت حاصل تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

2۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی قائدانہ صلاحیتیں: 

ایک دن نفیر بن حضرمی نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آپ خلافت کے خواہش مند تھے، تو اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: عرب کے بااثر لوگ میری مٹھی میں تھے وہ اس سے صلح کرتے جس سے میں صلح کرتا اور اس سے جنگ کرتے جس سے میں جنگ کرتا، مگر میں نے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خلافت کو ترک کر دیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی یہ شہادت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کی پوزیشن بہت مضبوط تھی اور یہ کہ ان کے پیروکار صلح ہو یا جنگ ہر حالت میں ان کے ساتھ تھے، علاوہ ازیں آپ بڑا موثر خطابی اور تقریری ملکہ رکھتے تھے۔ فصاحت بیانیہ، قوت تاثیر اور جذبات کی صداقت سے متصف تھے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ سیدنا حسنؓ نواسہ رسول اللہﷺ تھے۔ ان سب چیزوں نے آپ کی قوت اور خود اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔ ہمارے پاس اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل اور مایوس کن حالات میں اہل کوفہ کو اپنے باپ کا ساتھ دینے پر آمادہ کر لیا، اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جنگ میں شریک ہو کر قتل و قتال کرنے اور فتنہ میں حصہ لینے سے روک رکھا تھا اور اس کے لیے وہ انہیں فتنہ میں شریک ہونے سے ممانعت پر مشتمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنایا کرتے تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 514۔ مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 12 صفحہ 15۔ اس کی سند حسن ہے)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف سیدنا حسن سے پہلے محمد بن ابوبکرؓ اور محمد بن جعفرؓ کو بھیجا مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، پھر انہوں نے ہشام بن عقبہ بن ابو وقاصؓ کو بھیجا تو انہیں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی وجہ ان کا ابو موسیٰ اشعریؓ سے شدید طور سے متاثر ہونا تھا۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب: صفحہ 144۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 486)

اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا گیا اور پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ان لوگوں پر خاصا اثر تھا، سیدنا حسنؓ لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! اپنے امیر کی دعوت پر لبیک کہو اور اپنے بھائیوں کی طرف چلو، یقیناً کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، اللہ کی قسم! اگر اس کے لیے اصحاب دانش و بینش اٹھیں گے تو اس کا انجام بہتر بھی ہو گا اور اس کا نتیجہ بھی جلدی سامنے آئے گا۔

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 53۔ علی بن ابی طالب: صلابی، جلد 2 صفحہ 60)

لہٰذا ہماری دعوت پر لبیک کہو اور جس آزمائش سے ہم اور تم سبھی دو چار ہیں اس میں ہماری مدد کرو۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 516) 

اس پر بہت سارے اہل عراق نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور چھ سے سات ہزار تک لوگ عمار بن یاسر اور حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ امیر المؤمنین کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

(ایضًا)

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے ہی کوفہ کے والی چلے آ رہے تھے اور ان کا شمار عراق کے محبوب عوام قائدین میں ہوتا تھا اور وہ اپنے علم و فضل اور زہد کی وجہ سے لوگوں میں خصوصی مقام و مرتبہ کے حامل تھے۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کو اپنی صف میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور وہ ان کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔

3۔ بعض بڑے قائدین کا ان صف میں موجود ہونا: 

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے کیمپ میں بڑے بڑے قائدین شامل تھے، مثلاً ان کے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، ان کے عم زاد عبداللہ بن جعفرؓ، قیس بن سعد بن عبادۃؓ اور عدی بن حاتمؓ وغیرہم۔ اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلافت کے متمنی ہوتے تو وہ اس قیادت کو متحرک کرنے کے لیے اسے میدان عمل میں اتار دیتے اور وہ لوگوں کو مطمئن کر کے انہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار کرتے اس طرح وہ کم از کم اپنے زیر اثر علاقہ پر خلافت قائم رکھ سکتے تھے۔

4۔ ان کا اہل عراق کی نفسیات سے بخوبی آگاہ ہونا:

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اہل عراق کے ساتھ معاملات طے کرنے کی خصوصی صلاحیت و مہارت حاصل تھی اور سیدنا حسنؓ ان کی نفسیات سے بخوبی آگاہ تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آغاز کار میں ہی ان کے وظائف میں اضافہ فرما دیا، اگرچہ اپنے اپنے اصلاحی پروگرام کی کامیابی کی مہم جس کی وہ خود قیادت کر رہے تھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے سے بھی مشکل تھی مگر وہ اس کے باوجود وہ ان کثیر مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب رہے جن کا انہیں قدم قدم پر سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ان کی انہیں مصالحتی کوششوں کی وجہ سے بعض لوگوں نے انہیں قتل کر نے کی کوشش بھی کی اور ان کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔ مگر انہوں نے ان تمام مشکلات پر قابو پا لیا اور اپنے یہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے کہ مسلمانوں کا خون محفوظ رہے، امت متحد رہے، راستے پرامن ہوں اور فتوحات اسلامیہ کی تحریک کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔۔۔

یہ سب چیزیں ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر دلالت کرتی ہیں۔

5۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فورسز کا اندازہ لگانا:

صحیح بخاری میں ہے: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پہاڑوں جیسے لشکروں کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بالمقابل کھڑے نظر آئے تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے خیال میں یہ سپاہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گی جب تک وہ اپنے مدمقابل سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سپاہ کو قتل نہ کر ڈالیں۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: عمرو! اگر انہیں قتل کر دیا گیا تو مجھے لوگوں کے امور اور ان کی عورتوں اور بچوں کی ضمانت کون دے گا؟ پھر انہوں نے خاندان قریش سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: اس آدمی کے پاس جائیں، ان سے بات چیت کریں، انہیں پیش کش کریں اور ان سے گزارشات کریں۔

(صحیح بخاری: کتاب الصلح: رقم: 2704)

الف: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جیسے مشہور اور تجربہ کار سیاسی اور فوجی کمانڈر کی طرف سے اعتراف کیا جا رہا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لشکر واپس جانے سے پہلے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو نیست و نابود کر ڈالیں گے۔

ب: خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان کی عسکری صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر فریقین میں سے کسی کو فوجی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ایسا طرفین کے بھاری نقصانات کے بعد ہی ممکن ہو گا اور اگر وہ جیت بھی جائیں تو وہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے سے قاصر ہوں گے جو جنگ کے بعد بیوہ عورتوں، یتیم بچوں اور بہترین مسلمانوں کے قتل ہو جانے کی وجہ سے ان پر عائد ہوں گی اور وہ امت اسلامیہ کو لاحق ہونے والے معاشرتی، اخلاقی، سیاسی اور اقتصادی مفاسد و نقصانات کے متحمل کبھی نہیں ہو سکیں گے۔ انہیں خطرات و خدشات کے پیش نظر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایسے دو سرکردہ اشخاص کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جنہیں اسلامی معاشرے میں اثر و رسوخ حاصل تھا اور وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی بڑے محترم تھے اور وہ دونوں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے، ان حکیم و دانا شخصیات کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے کے شدید طور سے خواہش مند تھے چاہے اس کے لیے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اگر حالات کی باگ دوڑ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے اعوان و انصار کے ہاتھ میں نہ ہوتی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے خوفزدہ نہ ہوتے تو انہیں سیدنا حسن رضی اللہ عنہما سے مذاکرات کرنے اور ان کی طرف سے طلب کردہ شروط اور ضمانتوں کو تسلیم کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اگر انہیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما میں کوئی کمزوری نظر آتی تو وہ ان سے مذاکرات کیے بغیر ہی کوفہ میں داخل ہو جاتے اور ان کی شرائط اور مطالبات کو ہرگز کوئی اہمیت نہ دیتے۔

(دراسات فی تاریخ خلفاء الدولۃ الامویۃ: صفحہ 61)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما جس خلق عظیم سے متصف تھے وہ صلح و آشتی کی طرف مائل تھا اور جس کی وجہ سے آپ اصلاح امت کا واضح تصور رکھتے تھے، آخرکار آپ صلح و امن کے راستے کے کانٹوں کو ختم کرنے اپنے سامنے حائل رکاوٹوں کو عبور کرنے اور مشکلات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے، پھر انہوں نے صلح کی شرائط لکھیں اور آخرکار سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسی شان دار صلح کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کا رہتی دنیا تک ان کے شاندار اور قابل فخر کارناموں میں شمار ہوتا رہے گا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے اور مسلمانوں کے خون بچانے کے لیے وہی کردار ادا کیا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن جمع کر کے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے جنگ کر کے ادا کیا تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 134 )

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے صلح کے اس عمل کا شمار اہم ترین دلائل نبوت میں ہوتا ہے۔ اس کی دلیل ابوبکرہ سے مروی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور یقیناً اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کی صلح کروا دے گا۔‘‘

(صحیح بخاری: رقم: 7109)