خلیفہ کی ذمہ داریاں
علی محمد الصلابیاولاً: خلیفہ کی ذمہ داریاں
فقہائے کرام نے خلیفہ پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے، ان ذمہ داریوں اور ان کی تعداد کے اظہار و بیان کے لیے علماء کی تعبیرات جس قدر بھی مختلف ہوں ان کے حوالے سے یہ کہنا ممکن ہے کہ یہ واجبات اپنی حقیقت کے اعتبار سے دینی اور دنیوی مصالح کی پوری پوری حفاظت کرنے سے عبارت ہیں۔ ان واجبات کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:
1۔ دین کو غلط ہاتھوں سے بچانے کے لیے مختلف ذرائع اور وسائل کو اپنانا، اس کا تعلق اسلامی عقیدہ کے ساتھ ہو یا کسی اور چیز کے ساتھ۔ اس واجب کے اظہار کے لیے ماوردی کی تعبیر ملاحظہ فرمائیں: دین کی اس کے طے شدہ اصولوں پر حفاظت کرنا اور ان چیزوں کی حفاظت کرنا جن پر علماء سلف کا اجماع ہے، اگر کوئی بدعتی شخص منظر عام پر آتا ہے یا شکوک و شبہات میں مبتلا کوئی شخص انحراف کرتا یا ٹیڑھا پن اختیار کرتا ہے تو خلیفہ اس کے لیے حجت کو واضح کرے گا اور صواب کی تبیین کرے گا اور اس پر جو حقوق اور حدود لازم آتی ہیں ان کے مطابق اس کا مواخذہ کرے گا۔ تاکہ دین خلل سے اور امت غلطی سے محفوظ رہے۔
(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 15)
2۔ خلیفہ قاضیوں کا تقرر کرے گا تاکہ وہ لوگوں میں اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کریں تاکہ معاشرے میں زیادتی کرنے والے ایسے لوگوں کا وجود باقی نہ رہے جنہیں کسی سزا کا ڈر نہ ہو اور نہ کوئی ایسا مظلوم باقی رہے جو اس حق تک رسائی کی استطاعت نہیں رکھتا جس کی اس کے لیے شریعت نے ذمہ داری لی ہے۔
(ریاسۃ الدولۃ فی الفقہ الاسلامی: صفحہ 356)
3۔ امت کے تمام افراد کو امن و امان کی فضا مہیا کرنا تاکہ ہر شخص آزادانہ انداز میں روزی کما سکے اور وہ اپنی جان و مال اور اہل عیال کے حوالے سے کوئی خوف و خطرہ محسوس نہ کرے۔
4۔ حد کو واجب کرنے والے جرم کے مرتکب اشخاص پر شرعی حدود قائم کرنا اور اس کے لیے چھوٹے بڑے میں تفریق روا نہ رکھنا تاکہ محارم شرعیہ کو پامال ہونے اور اللہ کے بندوں کے حقوق کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 16، ریاسۃ الدولۃ فی الفقہ الاسلامی: صفحہ 357)
5۔ ملکی سرحدوں کو پوری قوت کے ساتھ محفوظ بنانا، تاکہ دشمنان اسلام کو کوئی ایسا راستہ نہ مل سکے جسے اپنا کر وہ امت کا کوئی نقصان کرنے کی جرأت کر سکیں۔ مملکت کے رئیس اعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جو امت کو اس کے دشمنوں کی شرارتوں سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دے سکیں۔
6۔ دشمنانِ اسلام اور معاندین اسلام سے جہاد کرنا یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں یا ذمی بن کر رہیں۔
7۔ اموال مستحقہ کا حصول، ان اموال کا تعلق فرض صدقات کے ساتھ ہو یا وہ مال غنیمت ہو۔ مگر یہ بات یاد رہے کہ یہ سب کچھ شرعی قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے اور حصول اموال میں کسی نقص یا زیادتی کا ارتکاب نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کہ زیادتی کی صورت میں زکوٰۃ دینے والوں کا نقصان ہو گا اور نقص کی صورت میں اس کے مستحقین مثلاً فقراء، مساکین اور عاملین وغیرہم کا۔
8۔ بیت المال سے ضرورت مند لوگوں کو مالی اعانت فراہم کرنا، دفاعی اور سول اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنا اور اس کے لیے قواعد و ضوابط تشکیل دینا اور ان پر عمل پیرا ہونا۔
9۔ قیادت کے عہدوں پر قابل اعتماد، دیندار اور باصلاحیت لوگوں کا انتخاب کرنا، تاکہ اعمال و اختیارات ان امین لوگوں کے ہاتھوں میں رہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو اور وہ لوگوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالنے والے نہ ہوں۔
10۔ امت کے حوالے سے اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی نگرانی کرنا، اس لیے کہ بااختیار عمال اور لوگوں کی ہر کوتاہی کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے جس کے لیے اسے اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا، اس لیے کہ امام راعی (نگران)ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد مبارک ہے۔
11۔ شوریٰ، اس لیے کہ اس کا شمار اسلامی حکومت کے امتیازات میں ہوتا ہے۔
(ریاسۃ الدولۃ فی الفقہ الاسلامی: صفحہ 358)
ہم ان شاء اللہ آئندہ چل کر دیکھیں گے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے اموی خلفاء نے ان فرائض و واجبات کے حوالے سے کس قسم کا طرز عمل اختیار کیا۔