پولیس عراق میں
علی محمد الصلابیاولًا: پولیس عراق میں
مغیرہ رضی اللہ عنہ پہلے والی تھے جنہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر متعین کیا اور انہوں نے امن و امان قائم کرنے کے لیے پولیس کی مدد حاصل کی اس غرض کے لیے جس شخص کو پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا وہ تند مزاجی، سخت گیری میں بڑی شہرت رکھتا تھا اور جسے قبیصہ بن دمون کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
(تاریخ الطبری نقلا عن الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 37)
امن و امان اور نظام مملکت کی حفاظت کے لیے پولیس کی فعالیت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خوارج کے ساتھ پیش آیا۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ جب پولیس کے سربراہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ خوارج معاشرے میں بے چینی اور خطرات بھڑکانے کے لیے کوفہ کے ایک مکان میں جمع ہو رہے ہیں تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اس مکان کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا اور پھر انہیں گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا گیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا والی مقرر کیا۔ پھر 45ھ میں اسے معزول کر کے اس کی جگہ زیاد بن ابیہ کو بصرہ کا والی متعین کر دیا۔ جب زیاد بصرہ پہنچا تو اسے شہر کی امن و امان کی بگڑتی صورت حال کا اندازہ ہوا اور پھر اس نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے اس کے لیے سخت کار روائی کرنے کی دھمکی دی اور انہیں بتایا کہ وہ صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔ اس کے اس خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانے اور نظام مملکت کو قائم رکھنے کے لیے عزم مصمم کیے ہوئے تھا۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 38)
اگرچہ اس کے لیے اس نے جو طریقہ کار اپنانے کی بات کی وہ انتہائی قابل افسوس تھا۔ اس نے خطبہ کے دوران اعلان کیا: مجھے اللہ کی قسم! میں ولی کو ولی کے بدلے، مقیم کو مسافر کے بدلے، آنے والے کو جانے والے کے بدلے اور تندرست کو بیمار کے بدلے پکڑوں گا، یہاں تک کہ تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو ملے گا اور اس سے کہے گا: سعد تو تو بچ جا سعید تو مارا گیا۔ یا پھر میرے لیے تمہارے نیزے سیدھے ہو جائیں گے۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 135)
زیاد بن ابیہ کے عہد ولایت کے دوران بصرہ میں امن کس طرح قائم ہوا۔ اس کے بارے میں بلاذری روایت کرتے ہیں کہ زیاد نے عام لوگوں میں آوازوں کا شور سنا تو اس نے اس کا سبب دریافت کیا۔ اسے بتایا گیا کہ کسی آدمی نے اپنے گھر کی حفاظت کے لیے کسی کو اجرت پر رکھا ہے اور یہ اس لیے کہ چور جگہ جگہ پھرتے ہیں اور پولیس کا کہیں وجود نہیں۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 171)
دوسرے دن زیاد نے پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ عشاء کی نماز کے بعد راستوں کی حفاظت کے لیے پولیس کی نفری متعین کی جائے۔
(ایضاً: جلد 4 صفحہ 171)
اس معاملے کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بلاذری بتاتے ہیں کہ پولیس نے تقریباً چار سو چوروں اور ڈاکوؤں کو ہلاک کر ڈالا۔
(ایضاً: جلد 4 صفحہ 171)
زیاد پہلا حکمران تھا جس نے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکل کر ادھر ادھر کو گھومنے سے منع کر دیا تھا۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 39)
اس کے بعد زیاد پولیس سربراہ کو باہر نکلنے کا حکم دیتا ہے، جب وہ گشت پر نکلتا تو وہ جس انسان کو بھی دیکھتا اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا، اس نے ایک رات ایک اعرابی کو پکڑ کر اسے زیاد کے حوالے کر دیا، زیاد نے اس سے پوچھا: کیا تو نے یہ اعلان نہیں سنا کہ رات کے وقت گھومنا پھرنا منع ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ اعلان نہیں سنا، میں اپنی دودھ دینے والی اونٹنی کے ساتھ ادھر آیا، جب رات ہو گئی تو میں نے اسے کسی جگہ چھوڑ دیا اور خود صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، مجھے امیر کے حکم کا کوئی علم نہیں ہے، زیاد کہنے لگا، اللہ کی قسم! میں تجھے تیرے قول میں سچا سمجھتا ہوں مگر تیرے قتل میں اس امت کی بہتری ہے، پھر اس کے حکم سے اس کی گردن اڑای دی گئی۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 138)
اس جیسے ظالمانہ فعل کی شریعت میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے چاہے اس کے لیے جتنے بھی جواز گھڑ لیے جائیں۔
(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: نمر بن محمد حمیدانی: صفحہ 123)
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بدوی کا قتل اس کے قتل میں دلچسپی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس سے اصل مقصود اہل بصرہ کو یہ بتانا تھا کہ والی شہر اپنے احکامات کی تنفیذ کے لیے سنجیدہ ہے اور یہ کہ قانون شکنی کا کوئی بھی مرتکب سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ اگرچہ اس کا کوئی بھی جواز نہ ہو۔ جیسا کہ اس نے اپنے خطبہ میں لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا۔ زیاد کا آخری ہدف لوگوں پر حکومت کی دھاک بٹھانا اور ان کی اطاعت گزاری کا حصول تھا چاہے اس کے لیے کوئی بھی طریقہ کار اپنانا پڑے کہ اس کے خیال میں بصرہ کے حالات اسی صورت میں امن عامہ کے اعتبار سے درست ہوں گے جب لوگوں کو پتا چلے گا کہ سزاؤں کے نفاذ میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 40)
زیاد بن ابیہ پر یہ امر مخفی نہیں تھا کہ امن و امان کے حالات پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے پولیس کو نئے سرے سے منظم کرنا ضروری ہے، لہٰذا اس نے اس کے حالات کے مطابق کچھ ضروری کارروائیاں کیں، جن میں سے قابل ذکر یہ امر ہے کہ اس نے پولیس میں کام کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا
(ایضاً: صفحہ 40)
یہاں تک کہ ان کی تعداد چار ہزار افراد تک جا پہنچی اور پولیس کے ایک سربراہ کی جگہ اس منصب پر دو لوگوں کو مقرر کر دیا۔ پولیس اہلکاروں کی (تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 138)
یہ تعداد چار ہزار افراد تک پہنچنا دو باتوں پر دلالت کرتا ہے:
1۔ داخلی اضطراب کی شدت و سنگینی۔
2۔ پولیس اکثر اوقات اپنی خدمات سپاہ اسلام کو بھی پیش کیا کرتی تھی۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ و الاسلام: جلد 2 صفحہ 636)
زیاد انتظامی امور میں اس حد تک بالغ نظر تھا کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر میرے اور خراسان کے درمیان رسی بھی ضائع ہو جائے تو مجھے معلوم ہو جائے گا کہ اسے کس نے پکڑا۔
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 139)
اس کا نتیجہ بقول طبری یہ نکلا: زیاد پہلا والی تھا جس نے سلطان وقت کی پوزیشن کو مضبوط بنایا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کو مستحکم کیا۔ لوگوں کو اطاعت گزاری کا پابند بنایا اور حکم عدولی پر انہیں سخت سزائیں دیں، تلوار کو نیام سے باہر نکالا، محض گمان پر گرفت کی اور شبہ گزرنے پر سزا دی جس پر لوگ اس کی طاقت سے بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئے۔ ہر طرف امن و سلامتی کا دور دورہ ہو گیا۔ لوگ ایک دوسرے سے پرامن ہو گئے۔ اگر کسی مرد یا عورت کی کوئی چیز کہیں گر جاتی تو کوئی دوسرا اس سے تعرض نہ کر سکتا یہاں تک کہ اس کا مالک خود ہی آ کر اسے اٹھاتا۔ عورتیں گھر کے دروازے کھلے چھوڑ کر سوئی رہتیں اور کوئی ادھر آنکھ اٹھانے کی بھی جرأت نہ کر سکتا، اس نے لوگوں کے معاملات اس انداز سے نمٹائے کہ اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے۔ لوگ اس سے اس قدر خوف زدہ رہتے تھے کہ اس سے قبل وہ کسی سے اتنے خوف زدہ نہ ہوئے ہوں گے۔
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 138)
اس کی انہیں انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے ساتھ کوفہ بھی اس کی عملداری میں دے دیا اور پھر اس نے امن و امان کی صورت حال کو اس قدر مستحکم کیا کہ کوفہ اور بصرہ دونوں جگہ داخلی امن و سکون کے قیام کے حوالے سے امویوں کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہو گیا اور پولیس اہم اور موثر ترین اندرونی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 43۔ الطبقات: جلد 5 صفحہ 158)