Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے اور اہل شام کو لعن طعن کرنے سے منع کرتے

  علی محمد الصلابی

مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ ان کے دو ساتھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرتے اور اہل شام کو لعن طعن کرتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ وہ دونوں آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر؟ سیدنا علیؓ نے فرمایا: کیوں نہیں، مجھے رب کعبہ کی قسم! وہ گویا ہوئے: تو پھر آپ ہمیں ایسا کرنے سے کیوں روکتے ہیں؟ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ تم لعن طعن کرنے والے بن جاؤ۔ تم یہ دعا کیا کرو: اے اللہ! ہمارے اور ان کے خون محفوظ فرما، ہمارے معاملات کی اصلاح کیجیے، اور انہیں گمراہی سے دور لے جایے۔

(الاخبار الطوال: صفحہ 165 نقلا عن تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 2 صفحہ 232)

اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قنوت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب و رفقاء پر لعنت کیا کرتے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ پر لعنت کیا کرتے تھے تو یہ صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شارع علیہ السلام کے احکام پر سختی کے ساتھ عمل پیرا تھے اور انہوں نے مسلمانوں کو گالی گلوچ کرنے اور ان پر لعن طعن کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 232)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

(بخاری: کتاب الادب: جلد 7 صفحہ 84)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مومن لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘

(السلسلۃ الصحیحۃ: رقم: 320۔ صحیح سنن ترمذی: جلد 2 صفحہ 189)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد گرامی ہے: ’’لعنتیں کرنے والے قیامت کے دن نہ تو کسی کی شفاعت کر سکیں گے اور نہ کسی کے حق میں گواہی دے سکیں گے۔‘‘

(مسلم: جلد 4 صفحہ 2006)

علاوہ ازیں طرفین کے سرکردہ لوگوں کی ایک دوسرے پر لعنت کرنے کی مذکورہ روایت سند کے اعتبار سے بھی ثابت نہیں ہے، اس لیے کہ اس کا ایک راوی ابو مخنف لوط بن یحییٰ رافضی ہے جس کی روایات قابل اعتماد نہیں ہیں، مزید براں روافض کے نزدیک ان کی صحیح ترین کتابوں میں بھی صحابہ کرامؓ کو گالی گلوچ کرنے سے نہی وارد ہے، خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کار کو گالیاں دینے والوں کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا: میں تمہارے لیے اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے والے بن جاؤ، اگر تم اس کی بجائے ان کے اعمال و اوصاف کا تذکرہ کرو تو یہ زیادہ بہتر رہے گا، تم انہیں گالی گلوچ کرنے کی بجائے یہ دعا کیا کرو: یا اللہ! ہمارے اور ان کے خون کی حفاظت فرما اور ہمارے آپسی معاملات کی اصلاح فرما۔

(نہج البلاغۃ: صفحہ 323)

سب و شتم اور تکفیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وطیرہ نہیں تھا، جس کا اعتراف اہل تشیع کی صحیح ترین کتب میں بھی کیا گیا ہے۔

 (اصول مذہب الشیعۃ: جلد 4 صفحہ 934 )