سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 5

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں سیدنا علیؓ اور ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات

 تاریخ کی خامہ فرسائیوں اور ناہنجاریوں میں یہ بات سب سے نمایاں ہے کہ بنو عباس اور بنو امیہ کے دو خاندانی تنازعات کی روشنی میں مرتب کی جانے والی تاریخ میں ایسے ایسے رطب و یابس کو سجایا گیا ہے کہ انسانی عقل ایسی باتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتی قرآن و حدیث کے ذخائر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خاندانِ نبوت کی باہمی محبت کے واقعات بھی ان الزامات کے برعکس زیبِ قرطاس رہے بنو عباس کی طرف سے تیار کیے جانے والے تاریخی صحیفوں میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا عثمانؓ اور بنو امیہ کے کئی دوسرے بزرگوں کی طرف ایسی ایسی باتوں کو منسوب کیا گیا جو آج کے عہد میں کسی بد معاش اور بد ترین شخص سے بھی ممکن نہیں۔ 

دوسری طرف بنو امیہ کے بعض حامیوں نے سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ اور آپ کے خاندان کو دنیا پرست اقتدار اور جاہِ طلبی کے سزا وار بنا کر پیش کیا۔ 

قرآن و حدیث کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت و ثقاہت اور نیک نیتی کا عقیدہ رکھنے والا دنیا کا کوئی مسلمان تاریخ کے کسی ایسے جھیڑے کی تائید نہیں کر سکتا جو خدا اور رسولﷺ‎ کی تصریحات و ارشادات سے متصادم ہو ایک مسلمان کو ابنِ خقب کلبی لوط بن یحییٰ جیسے کذاب راویوں کا سہارا لینے کی بجائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خاندانِ نبوت کے بارے میں آنے والی قرآنی آیت:

 رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ‌۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 29)

 أُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلرَّٲشِدُونَ۔ (سورۃ الحجرات آیت نمبر 7)

 جو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عمومی عظمت اور رفعت پر شاہد عدل ہے ہمیں ایمان رکھنا چاہیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان مرتبت کو تعصب صیہینوں سے آلودہ تاریخ کے ترازو میں تولنے کی بجائے قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔

 تاریخ میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دور میں ممبروں پر سیدنا علیؓ اور خاندانِ نبوت کو گالیاں دی جاتی تھیں دوسری جگہ سیدنا علیؓ کو بھی ایسی ہی شطخیات و تنقید کا سزاوار قرار دیا گیا ہے جب کہ حقائق کی روشنی میں یہ تمام روایات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ 

اس کے لیے ہم نے اپنی کتاب "اسلام میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آئینی حیثیت" میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے وہاں سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ذیل میں ہم شیعہ کی بعض معتبر کتابوں سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں خاندانِ نبوت کی تصریحات پیش کر کے تصویر کا ایک نیا رخ پیش کر رہے ہیں۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا علیؓ کے فضائل سن کر رونے لگے

 حجر بن عدی وغیرہ کو ان کی موت سے قبل یہ کہا گیا کہ اگر اب بھی تم سیدنا علی المرتضیٰؓ پر لعن طعن کر دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے انہوں نے موت تو قبول کر لی لیکن یہ تسلیم نہ کیا اس طعن کے بارے میں اول تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ البدایہ و النہایہ اور ابنِ اثیر میں یہ روایت موجود ہے لیکن دونوں کتابوں میں اس کی کوئی سند بیان نہیں کی گئی ہاں طبری میں اس کی سند موجود ہے اور یہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ صاحبِِ طبری کے تشیع ہونے کی وجہ سے اس کی ایسی روایات نا مقبول ہیں دوسری بات یہ کہ اس کے راویوں میں ابو محنف اور نذر بن صالح عبسی ایسے شخص بھی ہیں جن میں سے اول الذکر کٹر شیعہ امامی اور دوسرا مجہول ہے لوط بن یحییٰ ابو مخنف کے امامی شیعی ہونے کی بحث گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے اور نذر بن صالح کے بارے میں میزان الاعتدال کے یہ الفاظ ہیں "نذر بن صالح مجہول اور یہ بھی امر واقعی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کی تعریف سنا کرتے تو رویا کرتے تھے اور آپؓ کے فضائل کی تصدیق کیا کرتے تھے ایسے شخص سے یہ توقع کیونکر کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی کی معافی کو سیدنا علی المرتضیٰؓ پر سبِّ وشتم کرنے سے مشروط کر دے آئیے شیخ صدوق سے اس کی تصدیق کیجئے۔ 

امالی شیخ صدوق:

 قال دخل ضرار بن حمزه النهشلى على معاویهؓ بن ابی سفیان فقال له صف علياؓ قال او تعفينی فقال لا بل صفه لی فقال ضرار رحم الله علياؓ كان والله فينا كاحدنا يدنينا اذا تيناه و يحينا اذا سالنا و يقربنا اذ زرناه لا يغلق دوننا باب ولا يحجبنا عنه صاحب و نحن والله مع تقريبه لنا وقربه منا لا نكلمه لهيبته ولا نبتديه لعظمته فاذا تبسم فعن مثل اللولو والمنظرم فقال معاویه زدنی من صفته فقال ضرار رحم الله علياؓ كان والله طويل السهاد قليل الرقاد يتلو كتاب الله آناء الليل سدوله و غارت نجومه و هو قابض على لحيته يتململ تململ السليم و يبكى بكاء الحرين و هو يتول يادنيا الى تعرضت أم الى تشوقت هيهات هيهات لاحاجه لی فيك ابنتك ثلاثا لارجعه لی عليك ثم يقول واه واه لبعد السفر وقله الزاد و خشونه الطريق قال فبكى معاويه وقال حسبک یاضرار كذالك كان والله على رحم الله ابالحسنؓ۔

 (امالی الصدوق صفحہ 371 مجلس 91 مطبوعہ قم طبع قدیم)۔

صفحہ 1 از 5