سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قسطنطنیہ
علی محمد الصلابیاولاً: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور قسطنطنیہ
جب 41 ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو استحکام حاصل ہو گیا تو انہوں نے اسلامی بحری بیڑے کو مزید ترقی دینے کے کام کا آغاز کیا تاکہ وہ روم کے دار الحکومت قسطنطنیہ کو جو کہ مسلمانوں کے خلاف عداوت کا مرکز اور ان کے سر پر دائمی خطرے کی صورت منڈلاتا رہتا تھا کو نیست و نابود کرنے پر قادر ہو سکیں جن سرکش عناصر کو رومی دولت اسلامیہ کے خلاف استعمال کرنے اور ان کی جاسوسی کے لیے استعمال کرتے تھے۔
(العلاقات العربیۃ البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 51+
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا خاتمہ کرنے کے بعد دشمن کی بحری جنگی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے اپنی بحری سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔
(ایضاً نقلا عن الامویین و البیزنطیین )
ان بحری حملوں کے مقاصد میں رومیوں کی نقل و حرکت سے آگاہ ہونا، ان کے بارے میں حساس نوعیت کی معلومات حاصل کرنا اور انہیں قبرص، آرواد اور رودس کے جزائر کو استعمال کرنے سے روکنا تھا جو کہ اسلامی بحری بیڑے کے خلاف فوجی تیاریوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
انہوں نے 43 ھ (مواقف حاسمۃ: محمد عبداللہ عنان: صفحہ 31)
کو سمندر میں بُسر بن ارطاۃ کی موسم سرما کی فوج کے ساتھ اطلاعاتی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور پھر اس کے بعد 46 ھ کو سرزمین روم میں مالک بن عبداللہ کے موسم سرما کے دستے اور عبداللہ بن قیس فزاری کے موسم گرما کے دستے کو بھیجا۔ مزید برآں عقبہ بن عامر جہنی، عبداللہ کرز بجلی، عبداللہ بن یزید بن شجر رہاوی کے موسم سرما اور گرما کے فوجی دستوں کو استعمال کیا گیا
(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 134۔ العلاقات العربیۃ البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 51)
اور موسم سرما و گرما کے فوجی دستوں کے نظام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک واضح ہدف تھا اور وہ تھا قسطنطنیہ پر دباؤ ڈال کر دولت بیزنطیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرنا جو کہ اس پر قبضہ کرنے کی تمہید تھی اور شاید ان کا یہ بھی مقصد ہو کہ قسطنطنیہ پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد دولت بیزنطیہ پر قبضہ جما لیا جائے، اس لیے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ سرکش دارالحکومت دولت بیزنطیہ کے اعصاب کا مرکز اور اموال و رجال کا مستقر ہے، اور سوچ و بچار کرنے والے ارباب دانش و بینش بھی ادھر ہی ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اگر ان کے ہاتھوں قسطنطنیہ کا سقوط ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجہ کے طور پر ساری کی ساری دولت بیزنطیہ بے بس ہو کر رہ جائے گی۔ اس وقت مسلمانوں کا اہل فارس کے ساتھ تجربہ ان کے سامنے تھا، دار الحکومت مدائن کے مسلمانوں کے ہاتھوں سقوط کے بعد اہل فارس بے یقینی کا شکار ہو گئے تو انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور ان کی ریاست ختم ہو گئی۔ لہٰذا اگر وہ بیزنطی دار الحکومت کو گرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ریاست کے سقوط کی وارننگ ہو گی اور اس طرح وہ ایک سرکش اور مرکزی دشمن سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لہٰذا انہوں نے اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔ اگر ہم یہ کہیں تو مبالغہ نہیں ہو گا کہ دولت بیزنطیہ تقریباً آٹھ سو سال تک قائم رہی اور اس کا یہ قیام دار الحکومت قسطنطنیہ کی بقاء کا مرہونِ منت تھا اس شہر کی محفوظیت اور اسے فتح کرنے کی امویوں کی لگاتار کوششوں کے سامنے اس کا جم کر کھڑے رہنا اس سلطنت کے سقوط کے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب انتیس مئی 1453ء بمطابق 857ھ عثمانی سلطان محمد الفاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے بعد اس پر قبضہ کر لیا تو اس سے دولت بیزنطیہ کے سقوط اور وجود کے زوال کی راہ ہموار ہو گئی۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 244)