عہد رسول اللہﷺ میں بنو امیہ کا کردار
علی محمد الصلابیدعوت اسلامیہ کے آغاز ہی سے بنو امیہ کے بہت سارے لوگ مشرف باسلام ہو گئے تھے۔ انہوں نے راہ اسلام میں گرانقدر قربانیاں پیش کیں اور ان میں سے بعض حضرات نے ہجرت حبشہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ پھر فتح مکہ کے موقع پر جب بنو امیہ کے تمام لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے قبولِ اسلام پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔ بڑے بڑے اہم معاملات میں ان پر اعتماد کیا اور انہیں ان کے مناسب حال مقام و مرتبہ پر فائز فرمایا تاکہ ان کی مساعی اور اہلیت سے استفادہ کیا جا سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو جس اعزاز سے نوازا وہ اہالیان مکہ میں سے کسی دوسرے کا مقدر نہ بن سکا۔ اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی بھی ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امن حاصل ہو گا۔‘‘
(صحیح بخاری: 4280)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو عطا کردہ یہ عظیم اعزاز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے زعما اور بااثر لوگوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو نجران کا عامل مقرر کیا اور ان کے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی الہٰی کے منصب پر فائز فرمایا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 834)
صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ مجھے کسی علاقے کا امیر مقرر کیا جائے تاکہ میں کفار کے ساتھ اس طرح جنگ کر سکوں جس طرح مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔ ان کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ میرے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی مقرر کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 11)
فتح مکہ کے بعد جس شخص کو اس کا پہلا امیر مقرر کیا گیا تھا وہ بھی بنو امیہ کا ہی ایک فرد تھا، اور وہ تھا عتاب بن اسید بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس۔ ابن اسحاق زید بن اسلمؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو مکہ مکرمہ کا عامل مقرر کیا تو اس کا روزینہ ایک درہم مقرر فرمایا۔ اس پر وہ کہنے لگا: لوگو! جو ایک درہم پر بھوکا رہے اور وہ اسے بھوکا ہی رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا روزینہ ایک درہم مقرر فرمایا ہے۔ اب مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
(صحیح مسلم مع شرح نووی: جلد 16 صفحہ 62)
اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن سعید بن العاصؓ کو خیبر، وادی القریٰ، تیماء اور تبوک کا والی مقرر فرمایا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اس منصب پر قائم رہے۔
(السیرۃ النبویۃ لابن خثعم: جلد 4 صفحہ 149، 169۔ تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 97)
آپ نے ابان بن سعید بن العاصؓ کو بحرین کا عامل مقرر فرمایا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت تک اس منصب پر کام کرتے رہے۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 173 ،تا 176)
آپ نے حکم بن سعید بن العاصؓ کو سوق مکہ
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175، 176)
اور ان کے بھائی خالد بن سعیدؓ کو صنعاء کا عامل مقرر فرمایا۔
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 97)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک بنو امیہ کے سرکردہ لوگ ولایت، کتابت اور تحصیل داری جیسے اعلیٰ مناصب پر فائز تھے، اور ان عہدوں پر ان کی تعداد دوسرے تمام قبائل کے افراد سے زیادہ تھی۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175، العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 12)
اور یہ ان کی امانت و دیانت اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی دلیل ہے۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 12)
رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: اِذْہَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ’’جاؤ کہ تم آزاد ہو‘‘
(الطبقات: جلد 2 صفحہ 141، 142)
تو بعض لوگوں نے ان کلمات کو گالی قرار دیتے ہوئے صرف بنو امیہ کی پیشانی پر چپکا دیا اور انہیں یہ کہہ کر عار دلانے لگے کہ وہ آزاد کردہ اور آزاد کردہ لوگوں کے بیٹے ہیں۔ مگر وہ اپنے خبث باطن کی وجہ سے یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ مشرف باسلام ہوئے بلکہ ان کا اسلام بہت خوب بھی رہا۔ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بھی اسلام کی نصرت و حمایت میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں خلفاء راشدینؓ کے دور مسعود میں بھی فتوحات اسلامیہ کے دوران بھی قابلِ قدر خدمات سر انجام دیں۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 8)
ہم اس جگہ وصف طلقاء کے بارے میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا چاہیں گے
1۔ یہ تہمت شدید گروہی اختلافات کے زمانہ کی پیداوار ہے۔ جب خلافت عثمانیہ کے آخری ایام میں بنو امیہ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قسمت کا ستارہ بلندیوں کو چھونے لگا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا اختلاف سنگین صورت حال اختیار کر گیا تو اس دوران بنو امیہ کی طرف سے ان پر یہ تہمت لگا دی گئی کہ یہ لوگ ضعیف الایمان ہیں اور انہوں نے محض مالی مفادات کے لیے اور اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے اسلام قبول کیا تھا تاکہ اس طرح وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشوں کے جال بچھا سکیں اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کو یقینی بنا سکیں۔
2۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار طلقاء میں نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے قبل اس وقت مسلمان ہو گئے تھے جب آنحضرت اور ان کے ہمراہ آنے والا لشکر اسلام مکہ مکرمہ سے باہر مرالظہران کے مقام پر خیمہ زن تھا اور جب کہ ان کے اسلام کا نور ان کی قوم کے افراد کو صلح و آشتی کا پیغام دے رہا تھا۔ رہے، ان کے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی فتح مکہ سے قبل مسلمان ہو چکے تھے مگر انہوں نے بھی اس وقت بعض دوسرے لوگوں کی طرح اپنے اسلام کو مخفی رکھا۔ مروی ہے کہ وہ عمرۃ القضاء کے دن یا صلح حدیبیہ کے سال مخفی طور سے مسلمان ہو گئے تھے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 396 )
مؤرخین کی طرف سے انہیں طلقاء کی فہرست میں شامل کرنے کی وجہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا فتح مکہ کے قریب مسلمان ہونا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ وہ مکہ مکرمہ کے سردار تھے اور ان کا اسلام اہل مکہ کے اسلام کے ساتھ مربوط تھا، مزید برآں ان کے اسلام قبول کرنے کا چرچا فتح مکہ کے بعد ان آزاد کردہ لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔
3۔ وصف طلقاء مذمت کا متقاضی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزادی کا پروانہ عطا فرمایا۔ ان لوگوں کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی اور ان میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کا شمار بہترین مسلمانوں میں ہوتا ہے۔ مثلاً حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ، عکرمہ بن ابو جہل، یزید بن ابوسفیان، حکیم بن حزام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زاد ابوسفیان بن حارث۔ یہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیہودہ گفتگو کیا کرتا تھا۔ مگر بعد ازاں اس کا اسلام بہت خوب رہا۔ ان لوگوں میں عتاب بن اسیدؓ بن شامل تھے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اس کا والی مقرر فرما دیا تھا۔ علاوہ ازیں کتنے ہی ایسے لوگ تھے جن کا اسلام بہت خوب اور قابل تعریف رہا تھا۔
4۔ مشرف باسلام ہونے والوں کے بارے میں اسلامی نکتہ نظر یہ ہے کہ اسلام ماقبل کے تمام گناہوں کو ملیامیٹ کر دیتا ہے۔ وہ ان لوگوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے لیے میدان عمل کو کھلا چھوڑ دیتا ہے اور پھر عظیم تر مقاصد کے حصول کے لیے انہیں اس میں آزادانہ کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس کے لیے وہ لوگوں کو ان کے مقام و مرتبہ پر فائز کرتا ہے۔ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ جو لوگ قبل از اسلام اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ دین میں سوجھ بوجھ پیدا کر لیں اور دینی شعور حاصل کر لیں۔ یہ انہیں سنہری تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ خالد بن ولید اور عمرو بن العاص کو ان کے اسلام کے متاخر ہونے نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اعلیٰ مقام و مرتبہ کے حصول سے باز نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولیدؓ کو سیف اللہ کے لقب سے ملقب کیا اور عمرو بن العاصؓ کو ذات السلاسل کا امیر مقرر فرما کر بھیجا۔ مگر اس کے باوصف مخلصانہ انداز میں اسلام کی طرف سبقت لے جانے والے اہل ایمان کے اعلیٰ ترین اور عظیم ترین مقام و مرتبہ کی پورے طور پر حفاظت کی اور اسے کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونے دیا۔ ان سابقین الی الاسلام میں بنو امیہ کے لوگ بھی شامل تھے اور دوسرے بھی۔ جس طرح کہ ان آزاد کردہ لوگوں میں بھی بنو امیہ وغیرہم کے متعدد لوگ شامل تھے۔
(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 144)