Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگ کا دوسرا دن

  علی محمد الصلابی

روایات بتاتی ہیں کہ جمعرات کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر کی قیادت میں قدرے تبدیلی کرتے ہوئے میمنہ پر اشعث بن قیس کی جگہ عبداللہ بن بدیل خزاعی کو متعین کیا، جبکہ میسرہ کو اشعث بن قیس کی ماتحتی میں دے دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 630)

اور پھر دونوں فریق ایک دوسرے کی طرف بڑھے اور پہلے سے بھی زیادہ خون ریز جنگ شروع ہو گئی۔

اہل عراق نے شامیوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اور عبداللہ بن بدیل نے اپنے میمنہ کے ساتھ ان پر اتنا سخت حملہ کیا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے میسرہ کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا اور پھر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر (شہباء) کی طرف بڑھا اور اس دوران عدیم النظیر شجاعت و دلیری کا مظاہرہ کیا۔ پھر اس جزئی پیش قدمی کے ساتھ عراقی لشکر نے بھی آگے بڑھنا شروع کر دیا، وہ اس زور دار طریقہ سے آگے بڑھے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میدان جنگ چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگے مگر ڈٹے رہے۔ حوصلہ سے کام لیتے ہوئے اتنا سخت جوابی حملہ کیا کہ وہ عبداللہ بن بدیل کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے، پھر اس کی جگہ میمنہ کی قیادت اشتر نے سنبھال لی جس سے اہل شام کے قدم جم گئے اور ان میں سے بعض لوگوں نے موت پر بیعت کر لی۔ انہوں نے بڑی عزیمت کے ساتھ دوبارہ ایک بھرپور وار کیا جس کے نتیجہ میں شامی فوج کے سرکردہ لوگوں میں سے ذوالسلاع، حوشب اور عبیداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ موت کی وادی میں اتر گئے۔ شامی لشکر کو برتری حاصل ہو گی اور اس نے ایک بار پھر پیش قدمی شروع کرتے ہوئے عراقی لشکر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران کثیر تعداد میں عراقی مارے گئے جبکہ زخمیوں کا کوئی اندازہ ہی نہیں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی سپاہ کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو وہ انہیں بلانے اور جوش دلانے لگے اور پھر سخت جنگ کی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لشکر کے قلب کی طرف گئے جہاں قبیلہ ربیعہ کے لوگ ثابت قدمی سے لڑ رہے تھے جس سے ان کی حمیت بھڑک اٹھی اور انہوں نے اپنے امیر خالد بن معمر سے موت پر بیعت کر کے جنگ کا حق ادا کر دیا۔

(الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 454، انساب الاشراف: جلد 2 صفحہ 56، قتادہ تک حسن سند کے ساتھ)

اس وقت حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی عمر چورانوے سال سے تجاوز کر چکی تھی۔ وہ بڑی دلیری سے لڑتے ہوئے لوگوں کو جنگ کی ترغیب دلا رہے تھے اور ان کی ہمت بڑھا رہے تھے، مگر اس سب کچھ کے باوجود وہ غلو اور انتہاء پسندی سے بہت دور تھے۔ جب انہوں نے اپنے پاس ایک آدمی کو یہ کہتے سنا کہ اہل شام کفر کے مرتکب ہوئے تو آپ نے اسے اس سے روکتے ہوئے فرمایا: انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی اور اسی بغاوت کی وجہ سے ہم ان سے لڑ رہے ہیں، ہمارا الٰہ بھی ایک، ہمارا قبلہ بھی ایک اور ہمارے نبی بھی ایک ہیں۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۵/۲۹ جلد 15 صفحہ 29 حسن لغیرہ)

جب حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے ساتھی پیچھے ہٹ رہے ہیں اور ان کے مدمقابل لوگ آگے بڑھ رہے ہیں تو آپ انہیں ترغیب دلانے اور جنگ پر ابھارنے لگے، آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ہم حق پر ہیں، لہٰذا شامی سپاہ کی سخت ضربات انہیں ان کے راستے سے نہ ہٹائیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے: جو یہ چاہتا ہو کہ جنت کی حوریں اسے اپنی آغوش میں لے لے تو وہ حصول ثواب کے لیے صفین میں پیش قدمی کرے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ ہمیں مارتے مارتے ہمیں ہجر کے کھجور کے باغوں تک لے جائیں تب بھی ہم یہ یقین رکھیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر۔

(مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 243، خلافۃ علی بن ابی طالب: عبدالحمید: صدحہ 219 اس کی سند صحیح ہے)

پھر آپ آگے بڑھنے لگے، آپ کے ہاتھ میں برچھا تھا جو کہ آپ کی کبر سنی کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ خود بھی آگے بڑھتے جاتے تھے اور پرچم بردار ہاشم بن عقبہ بن ابو وقاص کو بھی آگے بڑھنے کی ترغیب اور اللہ کے ہاں موجود نعمتوں کے حصول کا شوق دلا رہے تھے۔ مزید برآں آپ اپنے اصحاب کو جنت کا طمع دلاتے ہوئے فرما رہے تھے: جنت قریب آ گئی اور جنت کی حوریں بن سنور گئیں جسے یہ شوق دامن گیر ہو کہ جنت کی حوریں اسے اپنی آغوش میں لے لیں تو وہ صفین کے میدان میں پیش قدمی کرے۔ عراقی لشکر کے لیے جلیل القدر بدری اور مہاجر صحابی رسول کا یہ کردار بڑا مؤثر تھا۔ اس وقت ان کی عمر چورانوے سال سے زائد ہو رہی تھی اور عمر کے اس حصے میں بھی آپ اس قدر شجاعت و بسالت اور بلند تر معنوی روح سے متصف نظر آ رہے تھے۔ ان کے اس کردار نے عراقی لشکر کی ہمت بڑھائی اور ان کی معنوی روح کو رفعتوں سے ہم کنار کر دیا یہاں تک کہ انہوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 652)

اس دوران ہاشم بن عتبہ بن ابو وقاص یہ عربی اشعار پڑھتا ہوا آگے بڑھا تو آپ نے اس سے فرمایا: ہاشم آگے بڑھو، جنت تلواروں کے سائے تلے ہے اور موت نیزوں کے کناروں میں ہے۔ آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں اور جنت کی حوریں بن سنور چکی ہیں۔

الیوم القی الاحبۃ محمدا و حزبہ

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 652 )

آج دوستوں سے ملاقات ہو گی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جماعت سے ملاقات ہو گی۔ جمعرات کے دن غروب آفتاب کے وقت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے گھونٹ بھر دودھ طلب کیا اور پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: ’’تو دنیا سے جو آخری گھونٹ نوش کرے گا وہ دودھ کا گھونٹ ہو گا۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 302، 303۔ منقطع سند کے ساتھ)

پھر وہ آگے بڑھے اس وقت پرچم بردار ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص بھی ان کے ساتھ تھے، مگر ان میں سے کوئی بھی واپس نہ لوٹا۔

 (تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 652)