اولا صلح کے اہم مراحل
علی محمد الصلابییہ صلح کئی مراحل سے گزری، جن میں سے اہم ترین مراحل مندرجہ ذیل ہیں:
پہلا مرحلہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے یہ دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کروا دے۔ یہ اسی بابرکت دعا کا نتیجہ تھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مکمل اعتماد اور صمیم القلبی کے ساتھ صلح کے لیے پیش قدمی پر آمادہ ہوئے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 317)
دوسرا مرحلہ: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل عراق سے بیعت لینے کی یہ شرط کہ جس سے وہ صلح کریں گے اس سے اہل عراق بھی صلح کریں گے اور جس سے وہ جنگ کریں گے اس کے ساتھ اہل عراق بھی جنگ کریں گے۔
(ایضا" صفحہ 15)
تیسرا مرحلہ: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے کے لیے ان کا دلی ارادہ ظاہر ہوا تو انہیں اچانک موت کی نیند سلا دینے کی پہلی کوشش جو کہ بظاہر ان کے منصب خلافت سنبھالنے کے تھوڑی ہی دیر بعد کی گئی۔
(ایضاً: صفحہ 126)
چوتھا مرحلہ: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عراقی لشکر کے ساتھ کوفہ سے مدائن کی طرف روانگی اور ان کی طرف سے قیس بن سعد بن قیس کی قیادت میں تباہ کن لشکر کی ترسیل۔
(ایضاً: صفحہ 128)
پانچواں مرحلہ: سیدنا حسن کی اپنے لشکروں کے ساتھ کوفہ سے مدائن روانگی کا علم ہونے پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شام سے نکل کر عراق کی طرف روانہ ہونا۔
چھٹا مرحلہ: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان خط و کتابت اور ان کے درمیان صلح کا معاہدہ۔
ساتواں مرحلہ: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اچانک قتل کر دینے کی کوشش۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کے مذاکرات کامیابی سے ہم کنار ہو گئے تو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو اسے قبول کرنے کے لیے ذہنی طور سے تیار کرنا شروع کر دیا، چنانچہ آپ انہیں اس سے آگاہ کرنے کے لیے خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو اس دوران ان کے لشکر کے بعض لوگ انہیں قتل کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بار پھر ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 139)
آٹھواں مرحلہ: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا خلافت سے دستبردار ہو کر اسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دینا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو ان کے لشکر میں پیدا ہونے والے فتنہ سے نجات دے دی تو وہ مدائن کو چھوڑ کر کوفہ کی طرف چل دئیے، اور پھر اہل کوفہ کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وہ معاملہ جس میں میرا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف تھا، اگر وہ حق میرا ہے تو میں نے اس امت کی اصلاح اور اس کے خون بچانے کی خاطر اسے معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ترک کیا اور اگر یہ کسی ایسے آدمی کا حق ہے جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہے تو میں نے اسے اس کا حق دے دیا:
وَاِنۡ اَدۡرِىۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ۞ (سورۃ الأنبياء آیت 111)
ترجمہ: اور میں نہیں جانتا شاید (سزا میں) یہ (تاخیر) تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور کسی خاص وقت تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دینا ہے۔