Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے محاذ پر

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام کی ولایت کا منصب سنبھالا اور حضرت عمرو بن العاصؓ مصر فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو اسلامی مملکت شامی حدود کی حفاظت و توسیع کی ذمہ داری اس عمل سے مربوط ہو گئی۔ اس دوران سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مندرجہ ذیل دو اہم ترین عسکری منصوبوں کی تکمیل میں کامیابی حاصل کی: موسم سرما اور موسم گرما میں رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے نظام کی تشکیل اور اسلامی تاریخ میں پہلی بار بحری بیڑے کی تیاری۔

ا۔ رومیوں کے ساتھ موسم سرما اور موسم گرما میں جنگ کرنے کا نظام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں تشکیل پایا جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ رومیوں کو سپاہ اسلام کے ہاتھوں پے درپے شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں شام اور مصر ان کے ہاتھوں سے نکل گئے جبکہ اس وقت یہ دونوں علاقے اقتصادی، سیاسی اور فوجی اعتبار سے بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ مگر رومیوں نے ان ہزیمتوں کو تسلیم نہ کیا اور انہوں نے ان پہاڑی راستوں سے شام پر حملے جاری رکھے جو انہیں رومی سلطنت کے دیگر علاقوں سے جدا کرتے تھے۔ جب خلیفۃ المسلمین 16 ھ میں شام کے دورے پر آئے تو وہ اس صورت حال کو دیکھ کر فرمانے لگے: میں چاہتا ہوں کہ ان پہاڑی گزرگاہوں کے اس طرف تو رومیوں کا عمل دخل رہے اور اس طرف ہمارا۔

(تاریخ یعقوبی: جلد 2 صفحہ 133)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے شام کے اس دورے کے دوران یہ اصطلاح رائج کی اور آپ کے حکم سے شام کے ان پہاڑی راستوں کو بند کر دیا گیا۔

(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 62)

اس امر کا اہتمام بھی موجود ہے کہ ان اسلامی سرحدی شہروں پر رومیوں کے حملوں کا مقصد دیگر رومی شہروں کا دفاع کرنا اور مسلمان سپاہ کی طاقت کو کمزور کرنا ہو۔ مگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے دشمن کے شہروں کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا جس سے مسلمانوں کے علاقے محفوظ ہو گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس مقصد کے حصول کے لیے دفاعی وسائل کو پہلے سے بہتر بنایا اور مختلف شہری مراکز اور چھاؤنیوں کو اگلے مورچوں میں تبدیل کر دیا جن کی ذمہ داری مشکل حالات کا سامنا کرنا اور دشمن کو خبردار کرنا تھا۔ ان مورچوں کو دشمن پر حملہ کرنے والی سپاہ کے لیے روانگی کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ جن میں سے بعض کی قیادت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بنفس نفیس کی۔ مثلاً 22 ھ میں دس ہزار کے لشکر کی قیادت کرتے ہوئے سرزمین روم میں داخل ہوئے، اور 23 ھ

(تاریخ الامم و الملوک: جلد 4 صفحہ 144، 160)

میں روم میں دور تک پیش قدمی کرتے ہوئے عمودیہ تک جا پہنچے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے  عبادۃ بن صامت، ابو ایوب انصاری، ابو ذر غفاری اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم بھی ان کے ساتھ تھے۔

(تاریخ الامم و الملوک: ۴/۲۴۱، الدولۃ الامویۃ، ص: ۱۵۵.

ب: اسلامی بحری بیڑہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اسلامی بحری بیڑے کی تیاری کی سعادت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بخشی جس سے سمندر میں جہاد فی سبیل اللہ کا دروازہ کھل گیا جو کہ مصر اور شام کی حمایت اور دشمن کے بحری بیڑے کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے تھا ان دنوں صوبوں کی ساحلی پٹیوں پر ان کی مسلسل غارت گری اور اس سے متاثرین کی نصرت و امداد کے لیے ازحد ضروری ہو چکا تھا۔ موسم سرما اور موسم گرما کے دوران کی گئی جنگی کارروائیاں خشکی کے راستوں سے پیش آمدہ خطرات کو تو روکنے میں مؤثر ثابت ہوئی تھیں مگر انطاکیہ سے لے کر اسکندریہ تک کے ساحلی شہر ابھی تک رومی بحری بیڑے کے رحم و کرم پر تھے۔ نیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ ادراک بھی ہو گیا تھا کہ جب تک رومیوں کی بحری قوت کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک افریقہ میں اسلامی فتوحات کے دائرہ کو وسیع کرنا ممکن نہیں ہے۔

(معاویہ بن ابوسفیان: از بسام العسلی: صفحہ 40)

مگر عملی طور پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحری غزوات کا آغاز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کیا۔ اس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ