سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر…

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر اس کے اثرات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: ((تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ)) ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس حدیث کا شمار صحیح اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ احادیث میں ہوتا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا جنگ صفین پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مینارۂ نور تھے، وہ جہاں بھی جاتے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اتباع کرتے، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں شامل تھے اور انہوں نے اپنا اسلحہ سمیٹ رکھا تھا، پھر جب انہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید ہوتے دیکھا تو اپنی تلوار سونت کر اہل شام سے لڑنے لگے، اور یہ اس لیے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سن رکھا تھا: ’’انہیں  باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘

(مسلم: رقم: 2916)

پھر وہ مسلسل جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

(خلافۃ علی رضی اللہ عنہ: صفحہ 211)

حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کیمپ پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے۔ ابو عبدالرحمٰن اسلمی اہل شام کے کیمپ میں داخل ہوئے تو انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، ان کے بیٹے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابو اعور سلمی کو گھاٹ پر پانی پیتے دیکھا، یہ پانی کا ایک ہی گھاٹ تھا جس سے فریقین پانی پیا کرتے تھے، اس وقت وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے گفتگو کر رہے تھے کہ اس دوران عبداللہ بن عمرو اپنے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ’’ہم نے اس شخص کو قتل کر ڈالا، حالانکہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس پر عمرو رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ’’ہم نے جس آدمی کو قتل کیا ہے اس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کچھ فرمایا تھا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: خاموش ہو جائیں، آپ میں ابھی تک پختگی نہیں آئی، اسے ہم نے نہیں بلکہ ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو اسے یہاں لے کر آئے ہیں۔

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 206۔ اس کی سند حسن ہے)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل اہل شام میں اس طرح پھیل گئی جس طرح خشک گھاس میں آگ پھیل جاتی ہے۔ ایک صحیح روایت میں وارد ہے کہ عمرو بن حزم، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ’’عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: ’’اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ یہ سن کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ گھبراہٹ کے عالم میں سیدنا معاویہؓ کے پاس گئے، انہوں نے ان سے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا: ’’عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘ عمرو نے کہا: ’’میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ان سے فرما رہے تھے: ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ’’تم ابھی تک ناپختہ ہو، کیا انہیں ہم نے قتل کیا ہے؟ انہیں علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے قتل کیا ہے، انہیں وہ لوگ لے کر آئے اور پھر ہمارے نیزوں کے آگے پھینک دیا۔ یا کہا: ہماری تلواروں کے آگے پھینک دیا۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 240۔ صحیح سند کے ساتھ)

ایک دوسری صحیح روایت ہی میں مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمی آئے وہ دونوں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے اور ان میں سے ہر ایک انہیں قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا تھا، یہ جھگڑا سن کر عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ’’اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: پھر تم ہمارے ساتھ کیوں ہو؟ انہوں نے کہا: میرے باپ نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تک تمھارا باپ زندہ رہے ان کی اطاعت کرنا اور ان کی حکم عدولی نہ کرنا۔‘‘ اس لیے میں تمہارے ساتھ تو ہوں مگر میں لڑائی نہیں کرتا۔

(مسند احمد: جلد 11 صفحہ 138، 139 احمد شاکر فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے)

مذکورہ صدر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فقیہ صحابی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حق بات کہنے اور خیر خواہی کرنے کے حریص تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ معاویہ اور ان کا لشکر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو قتل کرنے کی وجہ سے باغی گروہ قرار پاتا ہے تو انہوں نے مختلف مواقع پر بار بار اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کی وجہ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت نے اہل شام کو بڑا متاثر کیا، مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی غیر مناسب تاویل کی، ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ عمار کے قاتل وہ لوگ ہیں جو انہیں میدانِ جنگ میں لے کر آئے ہیں۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب:  عبدالحمید صفحہ 325)

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت کا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر بھی خاصا اثر رہا، بلکہ ان کی شہادت کی وجہ سے ہی وہ جنگ بند کرانے کے لیے کوششیں کرنے لگ گئے تھے۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: الغضبان: صفحہ  215)

اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ کاش میں آج سے بیس سال پہلے مر گیا ہوتا۔

(انساب الاشراف: جلد 1 صفحہ 170۔ عمرو العاص، الغضبان: صفحہ 603)

صحیح بخاری میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما دو دو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان سے مٹی جھاڑنے لگے، اور فرمایا: ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی، عمار انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف۔‘‘ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

(بخاری: رقم الحدیث: 447)

صفحہ 1 از 3