جواب شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہجب شیعہ حضرات اس مواقع پر پھنس جاتے ہیں اور ایسی صریح معتبر روایات کے ہوتے ہوئے انکار کی گنجائش نہیں پاتے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ نے نکاح اپنی بعثت سے قبل یا ممانعت نکاح بامشرکین سے پہلے کر دیا ہوگا لیکن یہ عذر رکیک قابلِ سماعت نہیں ہے کیونکہ شیعہ کی کتابوں میں یہ بھی تصریح ہے کہ رقیہؓ بنتِ رسولِ اللہﷺ کا نکاح اس وقت ہوا تھا جب آپ جنگِ بدر کو روانہ ہوئے تھے۔ جیسا کہ "حیات القلوب" جلد 2، صفحہ 559 پر ہے:
و ابن بابویہ بسند معتبر ازاں حضرت روایت کرده است کہ از برائے رسولﷺ متولد شد از خدیجہؓ قاسم و طاهر و نام طاہر عبداللہ بودو ام کلثومؓ و رقیہؓ و زینبؓ و فاطمہؓ و حضرت امیر المومنین فاطمہؓ را تزویج نمود و تزویج نمود زینبؓ را ابو العاصؓ ابن ربیعہ واو مردے بود از بنی امیہ و عثمانؓ بن عفان ام کلثومؓ را تزویج نمود او پیش از آنکہ بخانہ آورد برحمتِ الہیٰ و اصل شد پس چوں بجنگ بدر رفتند حضرت رسولﷺ رقیہؓ رابا و تزویج نمود۔
ترجمہ: ابنِ بابویہ نے معتبر سند سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اولاد خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے شکم سے قاسم و طاہر پیدا ہوئے طاہر کا نام عبداللہ تھا اور بیٹیاں ام کلثومؓ، رقیہؓ، زینبؓ اور فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔ فاطمہؓ کا نکاح حضرت علی المرتضیٰؓ سے اور زینبؓ کا ابو العاصؓ بن ربیعہ سے نکاح ہوا جو بنی امیہ سے تھا اور امِ کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہوا۔ آپ ان کے گھر جانے سے پہلے واصل باللہ ہو گئیں۔ پس جب جنگِ بدر کو گئے رسولِ اکرمﷺ نے رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا اب شیعہ کا یہ فضول عذر بھی رفع ہو گیا۔ جنگِ بدر کا واقعہ اس وقت ہوا جب رسول اللہﷺ منصبِ رسالت پر سرفراز ہو کر اشاعتِ کلمہ توحید میں کمر بستہ تھے اور اس وقت مشرکین کو رشتے ناطے دینے کی ممانعت ہو چکی تھی غرض سیدنا عثمانؓ کے لیے یہ فخر کہ دو صاحبزادیاں حضورِ اکرمﷺ کی آپؓ کی تزویج میں آئیں۔ ان کی فضیلت کے لیے ایک کامل سرٹیفکیٹ ہے اس کے ہوتے ہوئے جو شخص دامادِ رسولﷺ کو گالیاں دیتے ہیں وہ رسولﷺ کے سخت دشمن ہیں۔ خدا اُن کو عقل دے کہ وہ راہِ راست پر آجائیں۔
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے محامد و محاسن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ آپؓ نے جس قدر مالی و جانی خدمتِ اسلام کی۔ دنیائے اسلام تا قیامت اس کی ممنون رہے گی۔ روایت میں چونکہ آپؓ کے فضائل کا بیّن ثبوت کتبِ شیعہ سے لکھا گیا ہے اس لیے ہم مزید بیان خوفِ طوالت سے چھوڑ کر وہ روایات لکھتے ہیں جن سے اصحابِ ثلاثہؓ کی مشترکہ تعریف ثابت ہوتی ہے