جواب شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہان تمام احادیث اور روایات کو سن کر علمائے شیعہ مبہوت ہو جاتے ہیں اور اُن سے کچھ جواب بن نہیں پڑتا کیونکہ روایات اصول کافی جیسی مستند کتاب کی ہیں جو شیعہ کے صحاح اربعہ میں سے حدیث کی کتاب سمجھی جاتی ہے جس کے ٹائٹل پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے-
قَالَ إِمَامُ الْعَصْرِ حُجَّه اللَّهِ الْمُنتَظَر عَلَيْهِ السَّلَام اللَّهِ الْمُلِكِ إلْاَ اكْبَرُ فِیْ حَقِّهٖ هذا كَافٍ لِّشَيْعَتِنَا
ترجمہ: امام الزمان حجۃاللہ امام منتظر مہدی نے اس کتاب کے حق میں فرمایا کہ یہ کتاب ہمارے شیعہ کے لیے کافی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کا نام بھی کافی پڑ گیا ہے، پھر احادیث جو اس کتاب میں ہیں، کچھ ایسی ویسی نہیں بلکہ امام محمد باقر یا امام جعفر صادق سے مروی ہیں۔ اس لیے شیعہ کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں لیکن بحث کی خاطر تقیہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان اس قرآن پر ہے ہم اس کو صدقِ دل سے مانتے ہیں اور اس پر حلف اُٹھانے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں کیونکہ شیعہ مذہب میں جیسا کہ آگے مفصل ذکر ہو گا تقیہ کرنا (جھوٹ بولنا) ثوابِ عظیم ہے۔ چنانچہ استدلال میں وہ شیخ صدوق کی کتاب العقائد پیش کر دیا کرتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ اسی قرآن کو ہم مکمل سمجھتے ہیں۔ اس حالت میں ناواقف اہل السنۃ مسلمان دھوکہ میں آ جاتے ہیں سو واضح ہو کہ اس بارے میں متقدمین علماء شیعہ کا اختلاف ہے۔ ان کے بڑے ثقہ ائمہ حدیث و تفسیر تو اس قرآن کے ناقص، غلط، غیر صحیح الترتیب ہونے کے قائل ہیں جن میں سے ذیل میں چند اکابر علماء شیعہ کے نام لکھے جاتے ہیں۔
1: ثقة الاسلام ابو یعقوب محمد بن اسحاق الکلینی
مصنف اصول و فروع کافی۔
2: شیخ جلیل علی بن ابراہیم قمی الکلینی
3: شیخ احمد بن ابی طالب الطبرسی
4: علامہ نوری مصنف فصل الخطاب
5: شیخ مفید
6: محقق داماد
7: علامہ مجلسی
لیکن بعض اس خیال سے کہ یہ عقیدہ لیکر مسلمانوں کی صف میں شامل ہونا مشکل ہے تحریف کے منکر ہوئے اور وہ کہتے ہیں کہ قرآن کامل اور صحیح یہی ہے۔ جو بین الدفیتن موجود ہے، اُن کے اسماء حسبِ ذیل ہیں:
1: شیخ صدوق مصنف کتاب العقائد متوفی 381ھ
2: سید مرتضیٰ علم الہدیٰ متوفی 236ھ
3: ابو جعفر طوسی مصنف بنیان متوفی 460ھ
4: شیخ ابو علی طبرسی مصنف تفسیر مجمع البیان متوفی 548ھ
ہمارے معاصر شیعہ پہلے زمرہ سے متفق ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے گروہ نے محض تقیۃً ایسا کہہ دیا ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں، دل سے وہ بھی تحریف کے قائل ہیں۔ شیعہ کا یہ قول قرین قیاس بھی ہے کیونکہ منکرین تحریف میں سے شیخ صدوق کے متعلق علامہ نوری اپنی کتاب فصل الخطاب مطبوعہ تہران: صفحہ 4 میں لکھتا ہے۔
الصَّدُوْقُ فِیْ عَقَائِدِهٖ مُرْسَلاً أَنَّ أَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ جَمَعَ الْقُرْآنَ وَلَمَّا جَاءَ بِهٖ فَقَالَ هَذَا كِتَابُ رَبِّكُمْ كَمَا أُنْزِلَ عَلىٰ نَبِيِّكُمْ لَمْ يَزِدْ فِيهِ حَرْفٌ وَلَمْ يَنقُصْ مِنْهُ حَرْفٌ فَقَالُو لَا حَاجَةً لَنَا فِيهِ عِندَنَا مِثْلِ الَّذِییْ عِنْدَكَ فَانْصَرُف وَهُوَ يَقُولُ فَنَبَذُوۡهُ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ وَ اشۡتَرَوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ
ترجمہ: شیخ صدوق نے اپنی کتاب عقائد میں مرسلاً روایت کی ہے کہ جناب امیر علیہ السلام قرآن جمع کر کے لائے اور کہا یہ قرآن ہے جیسا کہ تمہارے نبی پر نازل ہوا۔ اس سے ایک حرف زیادہ یا ایک حرف کم نہیں ہے۔ ان لوگوں نے کہا ہمیں اس کی حاجت نہیں ہے ایسا ہی قرآن ہمارے پاس موجود ہے، پھر جناب امیر واپس چلے گئے یہ پڑھتے ہوئے (فَنَبَذُوۡهُ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ) تو جب شیخ صدوق کو بھی اس سے اتفاق ہے کہ اصلی قرآن وہ تھا جو حضرت علیؓ نے جمع کر کے لوگوں کو پیش کیا تھا اور انہوں نے نہ مانا تو جناب ناراض ہو کر چل دیے تو پھر شیخ صدوق دل سے اس قرآن کو جو حضرت علیؓ کا جمع کیا ہوا نہیں ہے کس طرح کامل و مکمل مان سکتے ہیں؟
تاہم ظاہر داری کے لحاظ سے جو اُنہوں نے ایسا لکھ دیا ہے اس کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔ سو واضح ہو کہ ان دونوں فریق (قائلین تحریف و منکرین تحریف) سے اس کا قول قابلِ قبول ہوگا جس کی تائید میں احادیثِ مرویہ ائمہ اہلِ بیت پائی جائیں۔ سو پہلے فریق قائلان تحریف نے اپنے دلائل میں بہت سی احادیث مرویہ ائمہ اہلِ بیت پیش کی ہیں جیسا کہ اوپر بحث ہو چکی ہے، مگر دوسرے فریق کا صرف اپنا ہی قول ہے کہ کوئی حدیث دلیل میں وہ پیش نہیں کرتے۔ پھر ان کا قول بلا دلیل کس طرح مانا جا سکتا ہے؟ البتہ پہلا فریق اپنے دعویٰ کے متعلق ایک دو نہیں بلکہ بے تعداد احادیث پیش کرنے کا مدعی ہے بلکہ علامہ نوری نے اپنی کتاب فصل الخطاب: صفحہ 227 میں یوں لکھا ہے۔
وَهِیَ كَثِيرَةٌ حِدّا حَتَّى قَالَ السَّيِّدُ نِعْمَتُ اللَّهِ الْجَزَائِرِی فِیْ بَعْضِ مُؤَلَّفَاتِهٖ كَمَا حُكِىَ عَنْهُ أَنَّ الْأَخْبَارَ الدَّالَةَ عَلىٰ ذَلِكَ تَزِيْدُ عَلىٰ الْفِ حَدِيثٍ وَادَّعى اسْتِفَاضَتَهَا جَمَاعَةٌ كَاالْمُفِيدِ وَ الْمُحَقِّقِ الدَّامَادِ وَالْعَلَامَةِ الْمَجْلِسِی وَغَيْرَهُمْ بَلِ الشَّيْخُ أَيْضًا صَرَّحَ فِیْ دَبِسْتَانِ بِكَثْرَتِهَا بَلْ إِدْعَى تَوَاتُرَهَا جَمَاعَةٌ يَاءتِیْ ذِكْرهُمْ
ترجمہ: احادیث جو قرآن موجودہ کو محرف ٹھہراتی ہیں بہت زیادہ ہیں حتیٰ کہ سید نعمت اللہ جزائری نے اپنی بعض تصانیف میں ذکر کیا ہے کہ احادیث دو ہزار سے بھی زیادہ ہیں اور ان کے مستفیض ہونے کا ایک بڑی جماعت نے دعویٰ کیا ہے جن میں شیخ مفید اور محقق داماد اور علامہ مجلسی وغیرہ ہیں بلکہ شیخ نے دبستان میں ان کی کثرت کی تصریح کی ہے بلکہ ایک جماعت نے جن کا ذکر آگے آئے گا ایسی احادیث کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
تو اب ایک طرف تو ایسی جماعت ہو جو اس بارہ میں دو ہزار سے بھی زائد احادیث، پھر متواتر ہونے کا ثبوت پیش کریں اور دوسری طرف معدودے چند اشخاص ہوں جن کے دعویٰ کی تائید میں ایک حدیث بھی نہ ہو۔ ناظرین خیال کر سکتے ہیں کہ شیعہ مذہب کے صحیح ترجمان ان میں سے کون ہیں؟ لا محالہ کہنا پڑے گا کہ شیعہ مذہب کے صحیح ترجمان پہلی جماعت کے آدمی ہیں اور دوسرے گروہ کے لوگ صرف تقیہ کی آڑ میں لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ بس سُنی مناظر کو چاہیے کہ اگر کوئی شیعہ اصول کافی وغیرہ کتب و احادیث کی مستند احادیث (جن میں ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ اس قرآن کو نہیں مانتے) کے مقابلہ میں شیخ صدوق وغیرہ کی کتاب پیش کرے تو اس کو چیلنج دینا چاہیے کہ اگر یہ احادیث نہیں مانتے تو اس کے جواب میں اسی پایہ کی احادیثِ مرویہ ائمہ اہلِ بیت پیش کرو۔ ورنہ تسلیم کر لو کہ تمہارا ایمان اس قرآن پر نہیں ہے نہ ہو سکتا ہے۔