لطیفہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہہمارے ایک شیعی دوست حکیم جمشید علی نامی جہلم میں رہتے ہیں۔ جو شیعوں کے لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ ایک دفعہ ہم نے ان کے سامنے اس امر کا تذکرہ کیا کہ جناب امیرؓ نے اپنے فرزندوں کے نام اصحاب ثلاثہؓ کے نام پر کیوں رکھے؟ آپ تھوڑی دیر خاموش ہو کر کہنے لگے کہ اس لیے ایسا کیا گیا تا کہ ان بیٹوں کے نام لے کر ہر وقت گالیاں دیا کریں۔ میں نے کہا آپ تو ماشاء اللہ عالم الغیب تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے لخت جگر امام حسینؓ کو یزید ملعون شمر بد بخت کے ذریعہ شہید کرے گا۔ اس لیے آپ کو اپنے بیٹوں کے نام یزید اور شمر رکھ دینے چاہیے تھے۔ تاکہ ان کو گالیاں دے کر دل کی بھڑاس نکالتے رہیں۔ نیز اگر یہی منطق درست ہے تو اب آپ ہی اس کمی کو پورا کر دیں اپنے عزیزوں میں سے کسی کا نام یزید یا شمر رکھ کر خوب تبراء بازی کیا کریں۔ بس آپ خاموش ہو گئے، افسوس یہ لوگ ان مقدس نفوس کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ گالی گلوچ کرنا مومنوں کی شان سے بمراحل بعید ہے۔ کافی کلینی کی حدیث دیکھو۔ منافق کی علامات سے ایک یہ علامت لکھی گئی ہے: إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ”جب جھگڑا کرتا ہے فحش گوئی کرتا ہے“ جناب امیرؓ یا تو وہ پاک باطن تھے کہ اپنے دشمن قاتل ابن ملجم لعین پر بھی رفق و مدارات کرنے کی سفارش فرمائی ۔ جیسا کہ جلاء العیون اردو صفحہ271 میں ہے۔
”جب امیرؓ نے اپنے قاتل کی امام حسنؓ سے سفارش کی۔ اور ارشاد کیا کہ اسے کھانا پانی دو، اور اس کے کے پاؤں میں زنجیر نہ ڈالو بلکہ اس کے ہمراہ رفق و مدارات کرو۔ اور جب میں دنیا سے رحلت کروں، اس پر ایک ضربت سے قصاص کرنا اور جسم اس کا آگ سے نہ جلانا۔ اور مثلہ نہ کرنا یہ ہاتھ پاؤں، کان، ناک اور جمع اعضاء اس کے نہ کاٹنا کہ جناب پیغمبرﷺ نے فرمایا: مثلہ ہرگز نہ کرو۔ اگرچہ سگ درندہ ہو، اور اگر میں اچھا ہو گیا، سزاوار زیادہ ہوں کہ اسے عفو کر دوں۔ اس لیے کہ ہم اہل بیت صاحب و کرم و عفو و رحمت ہیں"
پھر تعجب ہے کہ جمشید جیسے شیعہ آپ کی نسبت یہ خیال کریں کہ اپنے بیٹوں کے نام اصحابؓ کے نام پر اس لیے رکھتے تھے کہ ان کو گالیاں دے کر دل کا غبار نکالتے رہیں۔ جب زندگی میں تو اُن کی مدحت سرائی کرتے رہے۔ وظائف لیتے رہے غنائم سے حصہ وصول کرتے رہے اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔ ان کو نیک مشورے دیتے رہے اپنی لخت جگر حضرت عمرؓ کو نکاح کر دی تو ان کی وفات کے بعد گالیاں دینا کونسی جوانمردی ہے؟ خیر یہ ایک لطیفہ تھا۔ جو درج کیا گیا۔ فی الواقع اس کا جواب شیعہ کے پاس ہرگز ہرگز نہیں ہے۔