"معاویہ" کے معنیٰ کتیا کے ہیں جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی…

"معاویہ" کے معنیٰ کتیا کے ہیں جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی ہے۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 2

"معاویہ" کے معنیٰ کتیا کے ہیں جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی ہے۔

تہذیب الکمال،  فی اسماءالرجال، شرح عقائد النبراس، ربیع الابرار و نصوص الابرار، تاریخ الخلفاء) 

 الجواب اہلسنّت 

مذکورہ کتابوں میں لغوی معنیٰ کا بیان مذکور ہے حضرت مولانا محمد نافع رحمہ الله نے اس کا خوبصورت جواب ارشاد فرمایا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں: 

 سب سے پہلے اس کے لغوی معنیٰ اور مادہ کے اعتبار سے بعض چیزیں پیش کی جاتی ہیں اس کے بعد دیگر امور پیش خدمت ہوں گے۔

اہل لغت نے لکھا ہے کہ "معاویہ" اگر معرف بلام ہو تو اس کا معنی "سگ مادہ آواز کنندہ" کے ہیں اور بغیر "الف لام" کے لوگوں کے علم کے طور پر مستعمل ہے جیسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور اس کو اصطلاح لغت میں "اسم منقول عنہ" کہتے ہیں"

(القاموس صفحہ 896 طبع قدیم تحت عوی) 

صاحب قاموس مجدالدین فیروز آبادی نے اسی مقام میں اسی مادہ(عوی) سے ایک محاورہ دعاواھم ای صاحھم (یعنی اس شخص نے لوگوں کو آواز دی) بھی ذکر کیا ہے اس محاورے کے اعتبار سے "معاویہ" کا معنی "لوگوں کو آواز دینے والا" بھی درست ہے۔

(القاموس صفحہ 896 طبع قدیم تحت مادہ عوی)

(لغت کی بعض کتابوں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کا معنی سردار بھی لکھا ہوا ہے۔از مصنف حقیقی دستاویز)

یاد رہے کہ اگر کوئی شخص یہ شبہ پیدا کرے کہ اسم "معاویۃ" میں "ۃ" تانیث ہے تو مذکورہ بالا محاورہ اس میں کس طرح درست ہوسکتا ہے؟ 

  تو اس شبہ کو رفع کرنے کے لئے یہ پیش کر دینا کافی ہے کہ رجال کے اسماء اور اعلام میں بعض دفعہ "ۃ" تانیث کے لئے نہیں ہوتی جیسے "یا ساریۃ الجبل" میں اسم "ساریۃ" ایک معروف شخص کا مشہور نام ہے۔

اسی طرح طلحہٰ، عکرمۃ، وغیرہ بھی اعلام اسماء مذکر ہیں اور ان میں "ۃ" پائی جاتی ہے جو کسی طرح بھی تانیث پر دلالت نہیں کرتی اسی طرح اسم"معاویۃ" میں "ۃ" تانیث کیلئے نہیں۔

  ۔نیز اہل لغت کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ اسماء اور اعلام میں ان اسماء کے اصل مادہ کا لغوی معنی مراد نہیں لیا جاتا اور علم بن جانے کی صورت میں لغوی معنی اور اس کا اصل مفہوم متروک ہو جاتا ہے مثلاً "عباس" اور "جعفر" جب کہ علم ہو تو ان کے لغوی معنی اور مفہوم مراد نہیں لئے جاتے۔ کیونکہ"عبوسیت" کا مغوی معنی "برا منہ بنانا" اور " تیوری چڑھانا" ہے اور اسی طرح "جعفر" کا لغوی معنی "شتر" بھی ہے جبکہ عباس اور جعفر اکابر بنی ہاشم حضرات کے اسماء ہیں اور ان کا لغوی معنی و مفہوم کبھی مراد نہیں لیا جاتا نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نسب شریف میں یعنی ساتویں پُشت میں ایک نام "کلاب" ہے جو "مرہ" کا بیٹا ہے وہاں بھی لغوی معنی مراد نہیں بلکہ وہ مفہوم متروک ہے ٹھیک اسی طرح حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام میں لغوی معنی و مفہوم مراد نہیں لیا جاتا۔ 

 اعلام میں طریقہ کار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم 

مزید گزارش یہ ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ قبیح اسماء کو تبدیل فرما دیا کرتے تھے چنانچہ وہ اسماء جو نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے متغیر فرمائے ان میں سے چند ایک بطور نمونہ ذیل میں ذکر کئے جاتے ہیں۔ 

 1.ایک لڑکی یعنی (بنت عمر بن خطاب) کا نام "عاصیہ" تھا اس کا نام آنجناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل کرتے ہوئے فرمایا "انت جمیلہ"- 

 2. ایک لڑکی کا نام "برہ" تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا نام "زینب" رکھو "سموھا زینب" 

 3. ایک شخص سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام دریافت فرمایا تو اس نے کہا "حزن" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "انت سہل" 

 4.محدثین نے ذکر کیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "العاص" کا نام تبدیل فرما دیا تھا اسی طرح عتلہ، شیطان اور غراب وغیرہم جیسے متعدد اسماء متغیر فرمائے۔ 

 5.ایک شخص "عبد شر" جناب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیرا نام "عبد خیر" ہے۔

مطلب یہ ہے اگر "معاویہ" کا نام قبیح تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسب دستور اس کو تبدیل فرما دیتے لیکن اسے تبدیل نہیں فرمایا تو یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی تائید ہے اور اس کو محدثین کی اصطلاح میں تقریر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

(ابوداؤد شریف صفحہ 329 جلد 2 طبع دہلی تحت کتاب الادب، باب فی تغیر الاسم الاقبیح)

  معاویۃً کا نام صحابہ کرام  میں

نیز نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا نام "معاویۃ" تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پر اسی اسم کا استعمال فرمایا اور اسے تبدیل نہیں فرمایا۔

لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان اصحاب کے نام "معاویۃ" کو تبدیل نہ فرمانا صحت اسم کی قومی دلیل ہے۔

ذیل میں بطور مثال چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ذکر کیا جاتا ہے جن کے اسماء گرامی "معاویۃ" تھے-

 1.معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثور بن عبادہ بن البکاء العامری البکائی۔

  2.معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حارث بن المطلب بن عبد مناف۔

(الاصابہ لابن حجر صفحہ 410 جلد 3 تحت اسماء معاویۃ)

ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے "الاصابہ" میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ "معاویۃ" کے نام سے ذکر کئے ہیں- 

اسی طرح حافظ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ  نے تجرید اسماء صحابۃ میں بہت سی جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی "معاویۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے" کی ہے-صاحب "تاج العروس" نے لکھا ہے کہ "معاویۃ" نام کے سترہ (17) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ پائے جاتے ہیں-

(تجرید اسماء الصحابۃ صفحہ 89-90/جلد 2 تحت اسماء معاویۃ، تاج العروس الزبیدی صفحہ 259-260 جلد 10 تحت مادہ عوی) 

 بصورت الزام شیعہ حضرات کی کتب میں "معاویہ" بطور اسماءالرجال 

1: معاویہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

معاویۃ بن ام السلمی عدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب رسول اللہ

2: معاویۃ شاگرد امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ:

معاویۃ ابن صعصعۃ ابن اخی الاخنف عدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب امیر المؤمنین

3: معاویۃ ہاشمی حضرات میں:

صفحہ 1 از 2