ہجرت اور صدیقیؓ رفاقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ہجرت اور صدیقیؓ رفاقت

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 3

 سوال نمبر 303: ایسی حدیث صحیح بتائیں کہ رسول اللہﷺ‏ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہجرت کا ہمسفری بنایا ہو؟

جواب: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ‏ نے حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے دریافت کیا کہ میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا۔ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے کہا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ (رواہ الحاکم وقال صحیح الاسناد وقال الذہبی صحیح غریب مستدرک: جلد، 3 صفحہ، 5 وزرقانی: جلد، 1 صفحہ، 226)

صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عین دوپہر کے وقت حضرت ابوبکرؓ کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا مجھ کو ہجرت کی اجازت ہو گئی ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ‏! میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں کیا اس ناچیز کو ہم رکاب ہونے کا شرف حاصل ہو سکے گا۔ آپﷺ‏ نے فرمایا: ہاں۔ (سیرت المصطفیٰﷺ‏: جلد، 1 صفحہ، 274) اور شیعہ کی تفسیر حسن عسکری میں ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی لائے کہ حضرت صدیقِ اکبرؓ اس سفر میں آپﷺ‏ کے رفیق اور مونس ہوں گے تو آپﷺ‏ کے مخلص دوست اور رفیقِ جنت ہوں گے۔)

سوال نمبر 305: توبہ کی آیت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے لفظ صاحبہ استعمال ہوا ہے، بتائیے اہلِ عرب یا صاحب الحمار کس کو کہتے ہیں؟

جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن گدھوں کو ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ جو خر دماغ، صاحب الرسول ہیں۔ رسول کی جگہ حمار اور حمار کی جگہ رسول بول کر دونوں کو برابر کر دیتا ہے، کفار تو کجا اس میں گدھے جتنی عقل بھی نہیں۔

تاریخ طبری کے شروع میں ہے کہ شیعتہ الشیاطین بہت پہلے سے ہیں۔ بتلائیے شیعتہ الشیاطین اور شیعہ امامیہ میں کیا فرق ہے؟ لفظ اہل النار قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے کیا اس سے تمہارے اہلِ خانہ تو مراد نہیں؟

سوال نمبر 306: حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا:  يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ(قیدی ساتھیو!) اور قرآن پارہ 15 باغ والو کے قصہ میں ہے: قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ (اس سے دورانِ گفتگو اس کے ساتھی نے کہا) اگر اس لفظ میں خاص فضیلت ہے تو کفار کے لیے کیوں بولا گیا؟

جواب: لفظ صاحب کے معنیٰ، ساتھ دینے والے اور تعلق رکھنے والے کے ہیں۔ قیدی قید سے تعلق رکھتے تھے اور یوسف علیہ السلام کے ساتھی تھے۔ پھر تبلیغ سے مسلمان ہو گئے۔ صاحبه اس کافر کے پاس رہنے والا۔ اسے تبلیغ کر رہا تھا: کہ تم نے خدا کا انکار کیا جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ تو دونوں جگہ صاحب ایمان دار پر بولا گیا۔ جیسے قرآن میں مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوٰى‌ آیا ہے کہ تمہارا ساتھی (پیغمبرﷺ‏ نہ گمراہ ہے نہ بھٹکا ہے) اس سے پتہ چل گیا کہ لغتہً لفظ صاحب اپنے مضاف الیہ کے مطابق۔ گو اعلیٰ یا ادنیٰ مفہوم دے سکتا ہے۔ مگر قرآن میں اور پیش کردہ مثالوں میں لفظ صاحب ادنیٰ چیزوں کی طرف نسبت کے باوجود اپنے اعلیٰ مفہوم سے گرا نہیں۔ لیکن اگر لفظ صاحب اشرف اور اعلیٰ کی طرف منسوب ہو تو پھر مضاف الیہ سے خیر اور مدح حاصل کرے گا۔ جیسے صاحب النبوۃ، صاحب القرآن، صاحب بیت اللہ، اہلِ ایمان، صاحب النبی، اصحٰب الجنۃ وغیرہ۔ 

اور یہاں صاحبه (صاحبِ نبی) تعریف کے علاوہ اس لقب خاص کے طور پر بولا گیا۔ جس سے آنحضورﷺ صاحبِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ، صاحبِ محمدﷺ‏، عوام کی زبان پر معروف تھے۔ کیونکہ ہم دم، ہم راز، ہم قدم، ہم دعوت، ہم خیال، ہم مشن، اور ہم دین تھے۔ اس جوڑے جیسا تعلق، کسی کا ان سے یا آپس میں نہ تھا۔

سوال نمبر 307: کیا غار میں سیدنا ابوبکرؓ کا حزن (غم) اطاعتِ خدا اور رسولﷺ میں تھا یا نہیں؟

جواب: رسولِ خداﷺ‏ کی محبت میں تھا جو اطاعت سے بھی فائق ہے۔

سوال نمبر 308: اگر اطاعت میں تھا تو امرِ حق سے لَا تَحۡزَنۡ (غم نہ کھا) سے منع کیوں کیا؟

جواب: یہ نہی عاشقِ صادق کو شفقتًہ تھی جیسے شہداء احد پر حضورﷺ کے غم کھانے کو منع کیا گیا۔ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ (سورۃ النحل: آیت 127)

سوال نمبر 309: اگر یہ حزن ضعیف الاعتقادی اور خدا اور رسولﷺ پر یقینِ کامل کی کمی کا نتیجہ تھا تو پھر فضیلت کیسے ٹھہرا؟

جواب: نہ ضعف اعتقادی تھا۔ نہ یقین کامل کی کمی۔ عشقِ صادق کا تقاضا تھا کہ دشمن معشوق کا سر کاٹنے دروازے پر آ چکے ہیں۔ بے سر و سامان تنہا عاشق و خادم اس تصور سے ہی بے قرار تھا۔ اگر یہاں یار اور حبیب کا غم اور فکر پیدا نہ ہوتا تو مولانا آزاد کے الفاظ میں عشق و محبت کی عدالت کا فیصلہ سیدنا ابوبکرؓ کے خلاف ہوتا۔

سوال نمبر 310: ارشادِ خداوندی ہے کہ اللہ کے ولیوں پر خوف و غم نہیں ہوتا۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اولیاء اللہ سے نہ ہوئے؟

جواب: یہ آخرت سے متعلق بات ہے۔ دنیا میں اپنی ذات کا خوف اور اپنے پیاروں کا حزن و غم آتا رہتا ہے۔ آپ کے امام باڑے، مرثیے اور نوحہ خوانی کس چیز کی غمازی کرتے ہیں؟

سوال نمبر 311: غارِ ثور میں حضرت ابوبکرؓ کو سانپ نے کیوں ڈسا جبکہ خدا کو حفاظت منظور تھی؟

جواب: حفاظت کا پروگرام کافر دشمنوں سے بچانے کا تھا۔ راستے کی تکالیف، روڑا کانٹا چبھنا، موذی جانور کا ڈس لینا اس وعدے کے خلاف نہیں۔ پھر اس تکلیف میں خادمِ خاص یارِ غار سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے عشق اور صبر کا بھی امتحان تھا کہ سانپ کے ڈسنے کے باوجود نہ حرکت کی نہ آواز نکالی حتیٰ کہ آپؓ کی گود میں سونے والے حبیب کبریاﷺ تب جاگے جب زہر آلود آنسو آپﷺ‏ کے چہرے پر پڑے پھر آپﷺ‏ نے لعاب مبارک پاؤں پر لگایا تو اسی وقت تکلیف رفع ہو گئی جیسے خیبر کے موقع پرحضرت علیؓ کی آنکھ دکھن آپﷺ‏ کے لعاب سے جاتی رہی۔ یہ لطیفہ بھی ہو سکتا ہے کہ سانپ کے ڈسنے سے یہ اشارہ ہو۔ کہ بغضِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سر بھری ایک کالی قوم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور یارانِ رسولﷺ‏ کو ڈستی ہی رہے گی اور خدا ان کے زہرِ کفر کو پیغمبرﷺ کے لعابِ سنت سے دفع کرتا رہے گا۔

سوال نمبر 312: اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ (اللہ تعالیٰ یقیناً ہمارے ساتھ ہیں) سے آپ کیا فضیلت لیتے ہیں؟

صفحہ 1 از 3