حادثہ جمل و صفین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حادثہ جمل و صفین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 10

قرآنِ پاک میں قدرت کا ارشاد ہے: 

وَمَنۡ يَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ خَالِدًا فِيۡهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيۡمًا ۞

(سورۃ النساء: آیت، 93)

ترجمہ: جو کوئی مار ڈالے مسلمان کو جان کر سزا اس کی دوزخ ہے ہمیشہ رہنے والا بیچ اس کے اور غصہ ہوا اللہ اوپر اس کے اور لعنت کی اس کو اور تیار رکھا ہے واسطے اس کے عذاب بڑا۔

(ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ)

ارشاد فرمائیں کہ اگر مؤمن کو عمداً قتل کرنے والا لعنتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا تو جمل و صفین اور تہران کے کل مقتول ستاون ہزار آٹھ سو سات کے قاتل کہاں جائیں گے کیا کلامِ مجید کے قوانین سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مستثنیٰ ہیں فیصلہ دو۔

خلافت مرتضوی میں خانہ جنگیوں کا حکم

الجواب: اہلِ سنت کا معتدل فیصلہ اور مخقہ جواب اس سلسلہ میں صرف اسی قدر ہے کہ یہ آیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وقائع کو شامل نہیں

اولاً: اگر شامل مانا جائے تو قرآنِ پاک کی ان بیسوں آیات سے تعارض اور مخالفت لازم آتی ہے جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مقبول الایمان قطعی جنتی: رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ الخ کی بشارات دی گئی ہیں پھر تاویل و توجیہ ایک آیت کی آسان ہے لیکن اور سینکڑوں محکم آیات سے اعراض خالص بے دینی ہے لہٰذا اس آیت سے ان آیاتِ کثیرہ کے معارض استدلال باطل ہوا۔ 

ثانیاً: آیت ہذا کی شرطیں وقائع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر صادق نہیں آسکتیں کیونکہ اہلِ نہروان میں بالاتفاق ایمان کی شرط نہیں تھی اہلِ جمل کے ساتھ معرکہ میں قصد و ارادہ نہ تھا جیسے عنقریب بیان ہو گا اہلِ صفین میں گو ایمان کامل اور فی الجملہ قصد و تعمد پایا گیا مگر وہ تاویل پر مبنی تھا سورۃ الحجرات کی آیت میں تاویلاً قتال کا جواز ہے مع ہذا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا نہج البلاغہ میں اہلِ صفین کے متعلق فیصلہ تو ان کو قطعی مؤمن و مسلمان بتاتا ہے بالاتفاق مؤمن آخر کار جنتی اور جہنم سے آزاد ہوگا تو حضرت علیؓ کے اعتقاد میں بھی یہ آیت اہلِ صفین کو شامل نہ رہی۔ثالثاً: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں نیک نیتی سے قتال ہو گیا آیت میں قتل پر وعید ہے قتل و قتال میں فرق نہ کرنا بے انصافی ہے لیکن افسوس کہ شیعہ حضرات اس معقول فیصلہ کو لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کا مصداق در خور اعتناء نہیں سمجھتے مجبوراً انہی کے گھر سے تحقیقی و الزامی جواب پر قلم سپرد کیا جاتا ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعض میں مست اور مدعی حبِ علی سوال میں تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ہی (العیاذ باللہ) اپنا بالا فتویٰ لگا رہا ہے کیونکہ سیدنا علیؓ بہت بہادر اور شیر جنگ تھے شیعہ کے ہاں افضلیت حضرت علیؓ کی اہم وجہ یہی ہے ان جنگوں میں سفک دماء سیدنا علیؓ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف سے ہوا بلکہ بروایت شیعه خود حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تمام ذمہ داری اپنے اوپر لینے کا اعتراف فرمایا ہے:

عن زر انه سمع عليا عليه السلام قال انا فقاءت عين الفتنة ولولا انا ما قتل اهل النهر وان واهل الجمل۔ (كشف الغمہ: صفحہ،331)

ترجمہ: حضرت زربن جیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا میں نے ہی فتنہ کی آنکھ پھوڑی ہے اگر میں نہ ہوتا تو اہلِ نہروان قتل ہوتے نہ جمل والے۔

اہل نہروان کے قاتل:

اہلِ نہروان بھی کوئی کافروں کی قوم نہ تھی نہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے ساتھی وہ حضرت علیؓ کے خاص الخاص شیعہ اور اصحاب تھے جو امامت کو منصوص من اللہ عہدہ کہتے تھے اور اس کے متعلق کسی ثالثی پنچایت یا شوریٰ کے فیصلوں کو باطل جانتے تھے علی بن عیسیٰ اردبیلی کشف الغمہ میں رقمطراز ہیں:

اذا انخذل طائفة من خاصة اصحابه في اربعة الاف وهم العباد والنساك فخرجوا من الكوفة وخالفوا عليا عليه السلام وقالو الاحكم الا لله ولا طاعة لمن عصى الله وانحاذ اليهم نيف عن ثمانية الاف ممن یری رأيهم فصاروا اثنی عشر الفا۔

 (كشف الغمہ: صفحہ، 364)

ترجمہ: جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خاص اصحاب میں سے 4 ہزارکی جماعت الگ ہو گئی جو بڑے نیک اور عبادت گزار تھے تو کوفہ سے نکل کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کھلی مخالفت شروع کر دی اور کہتے تھے فیصلہ تو صرف اللہ کا مانا جاتا ہے جو بندے اللہ کی نافرمانی کریں ان کی اطاعت کیسی ان کے ساتھ آٹھ ہزار ان کے ہم خیال اور بھی لشکرِ علوی سے مل گئے تو ان کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی۔

ان ہی شیعہ غداروں سے حضرت علیؓ کو وہ جنگ لڑنی پڑی جس کے متعلق صحیح احادیث میں پیشین گوئی موجود ہے کہ ان کو وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے قریب ہوگی چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کو قتل کر کے اللہ کا شکر ادا کیا:

عن أبی الدرداء قال كان على لما فرغ من أهل النهروان حمد الله واثنی علیہ۔

(تاریخ طبری: جلد، 5 صفحہ، 89)

ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علیؓ اہلِ نہروان خارجیوں کی جنگ سے فارغ ہو گئے تو شکریہ میں خدا کی حمد و ثناء کی۔ 

شیعہ کا خارجی بن کر قاتل علی رضی اللہ عنہ ہونا:

انہی خاصانِ علیؓ اور شیعہ غداروں سے عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی جیسا بدبخت تھا جو کہ کوفہ کا باشندہ تھا 

حضرت عثمانؓ کے مخالف گروہ کے ہاتھوں مصر من محب علیؓ ہونے کی ٹرینینگ حاصل کی پھر خاص شیعہ علی میں بھرتی ہو کہ مدینہ اور کوفہ میں کئی سال حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت اور پہرداری کی خدمت ادا کرتا رہا پھر مذکورہ بالا سبب کی وجہ سے خارجی ہوا پھر سیدنا علیؓ کو شہید کیا بغض سیدنا عثمانؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ میں اس قدر پکا تھا کہ قتلِ علیؓ کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کو قتل کرنے کی اجازت چاہتا ہے لیکن حضرت حسن المجتبیٰؓ نے یہ کار خیر نزد شیعہ ادا نہ کرنے دیا اس محبِ علیؓ نے قتلِ حضرت علی المرتضیٰؓ کے بعد شہادت علیؓ پر رونے اور ماتم کرنے کی طرح ڈالی۔

جلاء العیون کے اقتباسات ملاحظہ ہوں:

صفحہ 1 از 10