سیدنا حسینؓ شرفِ صحابیت سے مشرف ہیں
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ حضورﷺ کی صحابیت کے شرف سے بھی پوری طرح مالا مال تھے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرمﷺ نے جو فضائل و خصائص حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بیان فرمائے ہیں، سیدنا حسینؓ نہ صرف ان سب فضیلتوں اور خصوصیات کے حامل تھے بلکہ انہیں اہلِ بیتِ نبوت ہونے کی سعادت بھی حاصل تھی آپ دوہری فضیلت پائے ہوئے تھے۔
حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ لکھتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کی صحابیت قرآن کی دلالت، حدیث کی صراحت، محدثین و مؤخرین اور اصولیین وغیرہ تمام طبقات کے اتفاق سے ثابت شدہ ہے تو قرآن و حدیث میں صحابہ کرامؓ کے جو مناقب و فضائل اور احوال و مقامات قلب وارد ہوئے ہیں وہ سب کے سب سیدنا حسینؓ کے لیے بھی ثابت ہوں گے نیز صحابہ کرامؓ کے جو حقوق کتاب و سنت نے امت پر عائد کیے ہیں وہ سب کے سب سیدنا حسینؓ کے بھی ماننے پڑیں گے اسی کے ساتھ صحابہ کرامؓ کے خلاف اور مخالف اقدام کرنے والوں کا جو حکم ہے وہ بھی بلا شبہ مخالفینِ سیدنا حسینؓ پر عائد ہونا ناگزیر ہوگا سو جہاں تک مقام صحابیت کا تعلق ہے اس کی عظمت و جلالت کے ثبوت میں اللہ اور رسولﷺ سے زیادہ سچا کون ہو سکتا ہے۔
(شہیدِ کربلا: صفحہ 56)
سو جو لوگ سیدنا حسینؓ کو صحابیت سے خارج کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں اور مختلف بہانوں سے آپ پر کیچڑ اچھالتے ہیں، یاد رکھیے اس قسم کے لوگ ضرور کسی روحانی مرض کا شکار ہیں ان کی بات پر ہرگز دھیان نہ دینا چاہیے۔
حضرت حکیم الاسلامؒ محمود عباسی خارجی کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: محدثین سیدنا حسنؓ کو صحابی بلکہ صاحبِ روایت صحابی ثابت کرنے کے لیے کھلی تصریحات پیش کر رہے ہیں حافظ ابنِ عبدالبر "الاستیعاب" میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
حسن بن علیؓ نے حضور اکرمﷺ سے متعدد حدیثیں حفظ کی ہیں اور حضور اکرمﷺ سے انہوں نے کئی روایتیں کیں۔
حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے "تہذیب التہذیب" میں لکھا ہے کہ:
روی عن جدہ رسول اللہﷺ وأبیہ علی وأخیہ حسین وخالہ ہند بن أبی ہالہ ۔
(تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 295)
انہوں نے روایت کی ہے اپنے جدِ پاک رسول اللہﷺ سے اور اپنے والد سیدنا علی المرتضیٰؓ سے اور اپنے بھائی سیدنا حسینؓ سے اور اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے اس پر حافظ نے (خت 4) کا نشان دے کر بتایا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی روایات کے رجال تاریخِ بخاری اور سننِ اربعہ کے رجال ہیں یعنی سیدنا حسنؓ کی یہ روایت موثق مانی گئی ہے جن کے ثبوت میں کوئی شبہ نہیں عباسی صاحب نے امام احمد کے ایک مجروح قول سے سیدنا حسنؓ کی صحابیت کی نفی کر کے سیدنا حسینؓ کی صحابیت کی بھی نفی کرنی چاہیے تھی، مگر ان کی بدقسمتی کہ سیدنا حسینؓ کی صحابیت کے ساتھ اور الٹا ان کی روایات اور حضورِ اکرمﷺ سے سماعِ حدیث کا ثبوت بھی ہوگیا ان روایاتِ سماع سے ایک لطیفہ اور مستزاد یہ پیدا ہوگیا کہ عباسی صاحب تو سیدنا حسینؓ کو عمر میں سیدنا حسنؓ سے چھوٹا دکھا کر ان کی سعادت کو ختم کرنا چاہتے تھے، مگر ان حفاظِ حدیث نے سیدنا حسینؓ کو سیدنا حسنؓ کا استاد دکھا کر انہیں سیدنا حسنؓ سے بھی زیادہ مضبوط اور آپ کی قسم کا صحابی ثابت کر دیا۔
(شہیدِ کربلا اور یزید: صفحہ 14)
خدا کی قدرت دیکھیے کہ محمود عباسی خارجی نے سیدنا حسینؓ کی صحابیت کے انکار کے لیے یہ بہانہ تراشا ہے کہ جب سیدنا حسنؓ ہی صحابہ میں داخل نہیں تو سیدنا حسینؓ کس طرح صحابی ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ تو عمر میں سیدنا حسنؓ سے چھوٹے ہیں مگر سیدنا حسنؓ کا سیدنا حسینؓ سے روایت کے پکے ثبوت نے عباسی صاحب کا بھانڈا بیچ چوراہے میں لا کر پھوڑ دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ سیدنا حسینؓ نہ صرف صحابی ہیں بلکہ صاحبِ روایت بھی ہیں ہم آگے چل کر ان کی روایات پر گفتگو کریں گے۔
