مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں

  امام اہلسنت علامہ عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ

صفحہ 1 از 7

الحمد لله حمداً كثيراً كما امر والصلوٰة والسلام على سيد البشر سیدنا مولانا محمد ذی النور الانور و علىٰ آله وصحبه الى يوم المحشر

اما بعد! حق تعالیٰ کی عنایت بے غایت کا شکر کسی طرح ادا نہیں ہو سکتا کہ تفسیر آیاتِ خلافت کا سلسلہ اختتام کو پہنچا اور یہ رسالہ اس سلسلہ کا آخری نمبر ہے، اس وقت جو چند متفرق آیات کی تفسیر ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے اس سے یہ بات اچھی طرح ظاہر ہوگئی کہ قرآن مجید کو کس قدر اہتمام صحابہ کرامؓ کی تقدیس و تظہیر کا مد نظر ہے اور کیوں نہ ہو اس آخری شریعت کے راوی اور ناقل اور پاسبان اور نگہبان وہی حضرات ہیں، قرآن مجید کے اس اہتمام بلیغ کا یہ اثر ہے کہ کلمہ گویان اسلام میں بہت سے فرقے ہو گئے جن میں با خودہا سخت اختلاف ہے مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و جلالت پر سب متفق ہیں، کسی نے ان کے تقدس میں کلام نہیں کیا سوائے ایک فرقہ شیعہ کے جس کا اصل مقصد قرآن مجید کو مشکوک بنانا ہے اور جس کو اصل عداوت قرآن مجید سے ہے اور اسی وجہ سے قرآن مجید کا یہ تمام اہتمام اس کی نظر میں کچھ وقعت نہیں رکھتا،

قرآن مجید کے سامنے شیعوں کی حیرانی و پریشانی قابل تماشا ہے، کبھی تو وہ قرآن مجید کو محرف کہہ کر اپنی گلو خلاصی کرنا چاہتے ہیں اور بے تامل صاف کہہ دیتے ہیں کہ اس قرآن میں کفر کی باتیں بھری ہوئی ہیں اور اس قرآن کے مضامین سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں اور کبھی قرآن مجید کو معمیٰ اور چیستاں کہہ کر پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں غرض یہ کہ عجیب مخمصہ میں ہیں، کچھ بنائے نہیں بنتی، مجتہدین شیعہ نے میری تفاسیر میں دو ایک کا جواب لکھ کر اپنی عاجزی و سراسیمگی کا اچھی طرح اظہار کر دیا کہ اب کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہی والحمد للہ علیٰ ذٰلک۔

واضح رہے کہ قرآن مجید میں علاوہ ان آیات کے جن میں صحابہ کرامؓ کی مدح و صفتِ اصلی مقصد کے طور پر بیان کی گئی ہے بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں ضمناً و تبعاً اُن کی تعریف ہے اور تعریف بھی ایسی جس سے مذہب شیعہ کا ساختہ و پرداختہ گھروندا بالکل مٹ جاتا ہے نمونے کے طور پر چند آیات اس مقام پر زیب رقم کی جاتی ہیں، وَاللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ( سورۃ النور: آیت 46)

پہلی آیت:

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَة وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ 

(سورۃ آل عمران: آیت 164)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

فائدہ: اس آیت میں حق تعالیٰ نے حضورﷺ کی بعثت کو اپنا احسان قرار دیا ہے اور جو فوائد آپﷺ کی ذات مبارک سے مخلوق کو حاصل ہوئے ان کو بیان فرمایا ہے جن میں ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو پاک کرتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ پاک کرنا ظاہر جسم کا پاک کرنا نہ تھا اور نہ ظاہر جسم کا پاک کرنا کوئی ایسی چیز ہے جو سید الانبیاءﷺ کے اوصاف میں ذکر کی جائے اور خداوند عالم اس کو اپنے انعامات و احسانات میں شمار فرمائے، ظاہر جسم کی پاکی تو ہر شخص خود وضو یا غسل سے حاصل کر سکتا ہے، بلکہ یہ پاک کرنا باطن کا تھا کہ آپ کی صحبت سے، آپ کی توجہ سے لوگوں کے قلوب پاک ہوتے تھے، لوگوں کے نفوس سے بری عادات و خصائل، کفر و شرک کی ظلمت و نجاست کا ازالہ ہوتا تھا، احادیث میں سینکڑوں واقعات اس قسم کے ملتے ہیں کہ کوئی کافر آپﷺ کی خدمت میں آیا جو شرک و کفر کی نجاست میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا اور اسلام کی عداوت سے اس کا سینہ بھرا ہوا تھا اور چشم زدن میں آپﷺ کی توجہ اس میں انقلاب عظیم پیدا کر دیتی تھی اور وہ مسلمان ہو کر دینِ الٰہی کی محبت میں سرشار ہو جاتا تھا۔

اسی آیت کی وجہ سے اہلِ سنت کا یہ اعتقاد ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کل کے کل نہایت مقدس اور نہایت مزکی تھے اور زمانہ ما بعد کا کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی اُن کے رتبہ کو نہیں پاسکتا وہ سب خدا کے رسولﷺ کے پاک کیے ہوئے تھے، اگر کوئی روایت اُن کے تقدس کے خلاف ملے تو یقیناً وہ روایت جعلی ہے اور قرآن مجید کے خلاف ہونے کے باعث مردود ہے، مگر مذہب شیعہ کی تعلیم کے موافق اگر تینوں خلیفہ اور ان کے ساتھیوں کو منافق و مرتد اور ظالم و غاصب مان لیا جائے (معاذ اللہ منہ) تو پھر یہ صفت تزکیہ کی رسول خداﷺ میں باقی نہیں رہتی بلکہ آیت کی تکذیب لازم آتی ہے، اگر شیعہ کہیں کہ اس آیت میں جمع کے الفاظ سے صرف ایک حضرت علیؓ کی ذات مراد ہے، انہی کو رسول خداﷺ نے پاک کیا تھا اور وہی ایک مقدس مزکی تھے، تو جواب اس کا یہ ہے کہ سیدنا علیؓ بقول شیعہ کبھی گمراہی میں نہ تھے اور یہ آیت بتا رہی ہے کہ جو لوگ صریح گمراہی میں تھے رسولِ خداﷺ ان کو پاک کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ چار اشخاص کو اور بھی شیعہ مؤمن کہتے ہیں لیکن اول تو انکا ایمان حسبِ روایات شیعہ کامل نہ تھا۔ 

(حاشیہ: حیات القلوب جلد: 2، صفحہ، 643 میں ہے "شیخ کشی بسند معتبر روایت کرده است کہ ہیچ از یک صحابہ نبود کہ بعد از حضرت رسول حرکتے نکند مگر مقداد بن اسود" پھر اسی کتاب کے اسی صفحہ میں ہے "کشی بسند حسن از باقر روایت کرده است کہ صحابہ بعد از رسولﷺ مرتد شدند مگر سہ نفر سلمان و ابوزر و مقداد راوی گفت عمار چہ شد حضرت فرمود کہ اندک میلے کر دو بزودی برگشت پس فرمود کہ اگر کسے را خواهی کہ پیچ شک نہ کردہ و شبہ اور اعارض نہ شد او مقداد است)

صفحہ 1 از 7