اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط…

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط 11)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 1 از 3

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث 

 ان تمام سوالات و ملاحظات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اہل تشیع کے متاخرین نے اہلسنت کے  طرز پر مصطلح الحدیث کا جو فن ایجاد کیا ،جو شیعی حلقوں میں علم الدرایۃ کے نام سے موسوم ہے ، وہ  متعدد وجوہ سے  اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث سے فروتر اور تساہل پر مبنی  ہے ، اللہ تعالی اس سلسلے کو مکمل کرنے کی توفیق دے ، اس سلسلے کی ایک بحث میں ہم اہلسنت کے علوم مصطلح الحدیث اور شیعہ متاخرین کے علم درایۃ کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے ، جب تساہل پر مبنی علم الدرایہ کی رو سے الکافی کے دو ثلث ضعیف ہیں ، اگر اہلسنت کے کڑے معیارات پر الکافی کو پرکھا جائے ، تو الکافی میں صحیح احادیث کی تعداد  چند سو رہ جائے گی ۔

بطور ِنمونہ صرف ایک معیار کا فرق بتانا چاہوں گا تاکہ اندازہ ہوجائے کہ اہلسنت  کے علوم مصطلح الحدیث کا معیار کتنا سخت اور اہل تشیع متاخرین کے علم الدرایۃ کا معیار کتنا تساہل پر مبنی ہے ۔

(دیگر امور میں تقابل ایک مستقل بحث میں ان شا اللہ ذکرکریں گے)

اہل سنت کے نزدیک  صحیح حدیث کونسی کہلائے گی ؟

اس سلسلے میں حافظ ابن حجر شرح نخبۃ الفکر میں لکھتے ہیں:

"وخبر الاحاد بنقل عدل ،تام الضبط ،متصل السند ،غیر معلل و لاشاذ ھو الصحیح لذاتہ"1

یعنی روایت کے صحیح بننے کے لئے پانچ شرائط ہیں:

1۔تمام راوی عادل ہوں ۔

2۔ضبط میں تام ہوں ۔

3۔سند اول تا  آخر متصل ہو ۔

4۔معلل نہ ہو ۔

5۔شاذ نہ ہو ۔

جبکہ اس کے برخلاف اگر ہم شیعہ علم الدرایہ میں صحیح کا معیار دیکھیں ، تو ہمیں اہلسنت کے معیار سے تساہل پر مبنی نظر آئے گا ، چنانچہ معروف شیعہ محدث زین الدین عاملی المعروف بالشہید الثانی اپنی کتاب

"البدایہ فی علم الدرایۃ "

میں صحیح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"الصحیح وھو ما اتصل سندہ الی المعصوم  بنقل العدل الامامی عن مثلہ ،فی جمیع الطبقات  وان اعتراہ شذوذ ،"2

یعنی صحیح حدیث وہ ہے ،جس کی سند متصل ہو اور تمام رواۃ عادل اور امامی شیعہ ہو،خواہ اس حدیث میں شذوذ ہوں ، یوں اہل تشیع کے معیار کے مطابق  صحیح حدیث وہ ہوگی ،جس میں یہ تین  شرائط ہوں:

( اہلسنت کے ہاں صحت حدیث کے  لئے پانچ شرائط ضروری  ہیں  )

1۔ تمام رواۃ عادل ہوں ۔

2۔تمام رواۃ امامی شیعہ ہوں ۔

3۔اس حدیث کی سند متصل ہو ۔

 حدیث کے صحیح ہونے کے لئے  اس کا شذوز اور علت سے سالم ہونا اہل  تشیع کے نزدیک ضروری نہیں ، چنانچہ  شہید ثانی اپنی اسی کتاب کی شرح میں لکھتے ہیں:

ونبہ بقولہ "و ان اعتراہ شذوذ" علی خلاف ما  اصطلح علیہ العامہ  من تعریفہ  ،حیث اعتبرو سلامتہ من الشذوذ۔۔۔و ارادو بالعلۃ  ما فیہ من اسباب خفیۃ قادحۃ یستخرجھا  الماہر فی الفن ،و اصحابنا لم یعتبروا فی حد  الصحیح ذلک"3

اور ماتن  نے و ان اعتراہ شذوذ کے قول سے عامہ (اہلسنت ) سے اختلاف کیا ،جن کے نزدیک  صحیح کی تعریف میں سلامت  عن الشذوذ ضروری ہے ، نیز اہل سنت کے نزدیک علت  فی الحدیث سے مراد  وہ خفی خرابی ہے ، جس پر ماہر فن ہی مطلع ہوسکتا ہے ، ہمارے اصحاب (شیعی محدثین ) نے صحیح کی تعریف میں علت سے حفاظت کی شرط نہیں لگائی ہے۔

اس کے علاوہ الشہید الثانی کی عبارت میں ضبط کا بھی ذکر نہیں ہے ، جبکہ ضبط یعنی حدیث کو یاد رکھنے کے لئے حافظہ یا اس کی کامل کتابت  ایک ضروری شرط ہے ، اس لئے بعض شیعہ علماء کو یہ بات کھٹکی اور انہوں نے لکھا کہ  عدالت کی شرط میں ضبط کا ذکر بھی ضمنا آگیا ،چنانچہ علامہ مامقانی لکھتے ہیں:

"وانت خبیر بان قید العدل یغنی عن ذلک لان المغفل المستحق للترک لا یعدلہ احد"4

آپ کو پتا ہے کہ عدل کی قید ضبط سے مستغنی کر دیتی ہے ، کیونکہ ایسا غافل آدمی ، جو ترک کا مستحق ہو ، اس کی تعدیل کوئی بھی نہیں کرتا ۔

ہم اس پر مزید تبصرہ نہیں کرتے ،کیونکہ اس سلسلہ مضامین میں ہم نے کوشش کی ہے کہ وہی بات ذکر کریں ،جو خود اہل تشیع علماء نے لکھی اور کہی ہے ، ورنہ یہ بات  بدیہی ہے کہ عدالت  ایک اختیاری وصف ہے ، جو انسان کی دینداری کو ظاہر کرتی ہے ، جبکہ ضبط  دینداری سے الگ ایک وصف ہے ،جو پڑھی ہوئی چیز کو یاد رکھنے اور اس کو محفوظ رکھنے  کے اہتمام کو ظاہر کرتا ہے ، اسی وجہ سے  شیخ جعفر سبحانی نے ضبط کو  عدالت  کے مفہوم میں داخل  کرنے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے:

"المقصود من السلامۃ من غلبۃ السہو و الغفلۃ الموجبۃ لوقوع الخلل علی سبیل الخطا کما حقق فی الاصول  ،وحینئذ فلا بد  من ذکرہ"5

ضبط سے مقصود غلبہ سہو اور ایسی غفلت سے سلامتی ہے ، جو روایت میں خطا کی و جہ سے خلل کے وقوع کا سبب ہو ، جیسا کہ اصول میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے ،اس لئے ضبط کا ذکر تعریف میں ضروری ہے ۔

ضبط سے متعلق ہم اہل تشیع کی تاویل قبول بھی کر لیں کہ وہ عدالت کے مفہوم میں داخل ہے ، تب  بھی اہل سنت و اہل تشیع کے ہاں  صحیح کے معیار میں فرق یہ ہے کہ اہل سنت  نے معیار سخت کرتے ہوئے پانچ شرائط کا ذکر کیا ہے ، جبکہ اہل تشیع نے تساہل سے کام لیتے ہوئے  صحیح کے لئے صرف تین شرائط کو کافی قرار دیا ہے ۔اس  لئے اگر ہم اہل سنت کے معیار  پر الکافی کو پرکھیں گے ، تو الکافی میں  صحیح احادیث کی تعداد  اس سے کہیں کم رہ جائے گی ،جو صحیح روایات اب اہل تشیع نے الگ کی ہیں ۔

8۔موضوع  احادیث  کی  چھان بین و تنقیح

 اہلسنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کے بنیادی فروق میں سے ایک اہم ترین فرق فریقین کے حدیثی تراث میں موضوع  روایات کی چھان بین  و تنقیح کا فرق ہے ،علمائے اہل سنت نے حدیث کی تدوین کے ساتھ ہی حدیثی ذخیرے  میں مختلف طرق و اسباب  سے وارد شدہ موضوع احادیث  کی چھان بین کا کام شروع کیا ، علمائے اہل سنت نے   دو طرح سے  اس موضوع پر کام کیا:

1۔ پہلا کام حدیث ِموضوع پر اصولی مباحث  کی صورت میں کام کیا ، وضع حدیث کا معنی و مفہوم ، وضع ِحدیث کی اقسام ،وضع ِحدیث کے اسباب ،متھم بالکذب اور وضع حدیث کے عادی رواۃ کا تعین وغیرہ جیسے امور پر تفصیلی مباحث کتب رجال اور کتب مصطلح الحدیث میں ملتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 3