حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حرمت متعہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 10

سوال نمبر 804: فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ (عورتوں کے جس مقام سے تم فائدہ اٹھا لو تو انہیں مقررہ مہر ادا کرو۔) سے ثابت ہے کہ متعہ حلال ہے اور آپ اسے منسوخ کہتے ہیں۔ امام سیوطیؒ نے درمنثور میں لکھا ہے کہ حکَم سے پوچھا گیا کیا یہ آیت منسوخ ہے اس نے کہا ہرگز نہیں اگر آیت منسوخ ہے تو آیت ناسخہ کون سی ہے؟

جواب: 1: یہ آیت متعہ کے جواز میں ہے ہی نہیں تو نسخ کی ضرورت نہیں۔ ما موصولہ غیر ذوی العقول چیزوں کے لیے آتا ہے یہاں سے مراد عورتوں کا مقام انتفاع ہے اور فا تعقیبیہ (پس کے معنوں میں) ہے اور پہلے مسئلے سے متعلق ہے یعنی مذکور محرمات کے علاوہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں بشرطیکہ تم اپنے مالوں کے بدلے میں دائمی شادی کرنے والے بنو۔ پانی اور شہوت نکالنے والے نہ بنو۔ (جو متعہ سے مقصود ہوتا ہے) پس منکوحات کے مقام خاص سے جب فائدہ اٹھاؤ تو ان کے مقررہ مہر ادا کر دو۔ الخ الآیة 

2: شیعہ کی تفسیر مجمع البیان جلد 2 صفحہ 32 پر اسی تفسیر کو سب سے بہتر کہا گیا ہے۔ چہارم محرمات اور زائد بر چار کے سوا عورتیں حلال ہیں کہ تم مالوں کے بدلے میں نکاح یا ملک یمین کے ذریعے تلاش کرو۔ یہ تفسیر سب سے بہتر تفسیر ہے یہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ باندی ثمن سے خریدو یا مہر مقرر کر کے نکاح کرو۔ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ کا معنیٰ یہ ہے کہ تم شادی کرنے والے بنو، زنا کرنے والے نہیں اور فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ کہا گیا ہے کہ استمتاع سے مراد مقصد پا لینا، جماع کرنا اور لذت کی حاجت پوری کرنا ہے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ، مجاہدؒ (شاگردانِ سیدنا ابنِ عباسؓ) ابنِ زید سدی سے یہی مروی ہے تو اس تفسیر پر معنیٰ آیت یہ ہے کہ بذریعہ نکاح جب تم عورتوں سے فائدہ پاؤ یا لذت اٹھاؤ تو مقررہ مہر ادا کرو۔ (مجمع البیان: جلد، 2 صفحہ، 32)

3: بالفرض کھینچ تان کر استدلال کیا جائے تو ناسخ مومنون اور المعارج کی وہی آیات ہیں جن میں صرف بیوی اور باندی سے تعلق رکھنا جائز بتایا جاتا ہے اور ان کے سوا عورتوں سے تعلق رکھنے والے کو ظالم اور ملامت زدہ کہا گیا ہے کافی ابواب المتعہ اور تہذیب الاحکام وغیرہ میں دسیوں ایسی احادیث ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ متعہ والی عورت نہ چار میں سے ہے نہ ستر میں سے نہ طلاق پاتی ہے نہ ورثہ، وہ ایک کرائے دار رنڈی ہے۔ تم چاہو تو ہزار سے متعہ کر لو۔ معلوم ہوا کہ زن متعہ نہ بیوی ہے نہ باندی ایک تیسری داشتہ ہے جس کا رکھنا اسلام میں حرام ہے۔ آیت کے لفظ سے تو متعہ ثابت نہیں ہو سکتا تو شیعہ نے تفسیر قمی میں تحریفِ لفظی کر کے متعہ پر استدلال کیا ہے اور آیت یوں لکھی ہے فَمَن اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌

4: تفسیر جامع البیان طبری (المتوفیٰ 310ھ) جلد، 4 صفحہ، 9 پر پہلے یہی تفسیر ابنِ عباسؓ سے، حسنؒ سے، مجاہدؒ سے، ابن زیدؒ سے باسند روایات کے ساتھ نقل کی ہے جو ہم نے شیعہ طبرسی سے نقل کی ہے کہ استمتاع سے مراد نکاح کر کے جماع کی لذت اٹھانا ہے پھر شیعہ والی تفسیر عقد متعہ نقل کر کے یہ جواب لکھا ہے کہ سب سے بہتر اور درست تفسیر نکاح و جماع کی ہے کیونکہ اس پر حجت قائم ہے کہ نکاح صحیح اور مِلک صحیح کے سوا متعہ کو اللہ نے (قرآن کے علاوہ) اپنے رسولﷺ‏ کی زبانی بھی حرام قرار دیا ہے۔ (تفسیر طبری: جلد، 4 صفحہ، 10) 

5: شیعہ کی تفسیر مجمع البیان جلد، 4 صفحہ، 99 پارہ، 18 میں ہے: جو شخص بیویوں اور مملوکہ باندیوں کے سوا طلب کرے تو یہی لوگ ظالم ہیں اور اس حد تک تجاوز کرتے ہیں جو ان کے لیے حلال نہیں۔

ان مجموعہ تفسیروں سے پتہ چلا کہ حق بات متعہ کو حرام ہونا ہے آیت استمتاع سے مراد نکاح ہے تو درمنثور والی حکم کی روایت کا بھی جواب ہو گیا۔

حرمت متعہ پر درمنثور کی روایات جلد، 2 صفحہ، 140 زیر آیت فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ پارہ 5

آپ کو درمنثور سے مطابقی جواب مطلوب ہے تو یہ ہے:

1: ابو داؤد نے ناسخ میں اور ابنِ منذر نحاس، بہیقی نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے نسخت آیة المیراث المتعة متعہ کو آیتِ میراث نے منسوخ کر دیا ہے۔

2: عبدالرزاق ابنِ منذر اور بہیقی نے سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ متعہ منسوخ ہے اسے طلاق، صدقہ، عدت اور میراث نے منسوخ کر دیا ہے (یعنی یہ چار چیزیں بیوی کو یقیناً ملتی ہیں اور باتفاق شیعہ زن متعہ ان سے محروم ہے۔

3: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ کی تفسیر میں فرمایا کہ اسے يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ الخ نے منسوخ کر دیا۔ (کیونکہ متعہ میں طلاق و عدت نہیں ہوتی۔)

4: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان نے ہر روزے کا وجوب منسوخ کر دیا زکوٰۃ نے ہر واجبی صدقہ منسوخ کر دیا اور متعہ کو طلاق، عدت اور میراث نے منسوخ کر دیا اور عید الاضحیٰ کی قربانی نے ہر ذبیحہ کو منسوخ کر دیا۔ یہ نسخ کی روایات اس تفسیری قول کا جواب ہیں جو شیعہ کا ہے کہ استمتاع سے مراد عقد متعہ ہے ورنہ درمنثور میں حضرت ابنِ عباسؓ کی یہ تفسیر بھی مذکور ہے کہ اس سے مراد نکاح دائمی اور جماع ہے چنانچہ

1: ابنِ جریر منذر ابنِ ابی حاتم نحاس نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے آیت فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ میں نقل کیا ہے: جب کوئی شخص شادی کرے پھر ایک مرتبہ ہی جماع کرے تو اس کا حق مہر پورا واجب ہو جاتا ہے۔ استمتاع سے مراد نکاح ہے۔

2: ابنِ ابی حاتم نے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ متعہ شروع اسلام میں تھا مسافر کسی شہر میں حسبِ اقامت سامان کی دیکھ بھال کے لیے متعہ کرتا۔ پھر مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ نے اسے منسوخ کر دیا۔ پہلی بات منسوخ ہوئی اور متعہ حرام ہو گیا۔ اس کی تصدیق قرآن کی اس آیت میں ہے۔ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ (بجز بیویوں، باندیوں کے) ہر فرج حرام ہے۔

سوال نمبر 805، 806: صحیح مسلم میں ہے کہ حی علی خیر العمل عہدِ رسالت میں اذان میں کہا جاتا تھا۔ اب کس کے حکم سے خارج ہوا۔ اسے یہ اختیار کہاں سے ملا؟

صفحہ 1 از 10